Wednesday, August 3, 2011

Role of Ideology and Theme in Short Story

افسانوی تنقید میں نئے پیراڈایم کی جست جو
..................... آئیڈیالوجی اور تھیم

اردوافسانے کی تنقیدعام طور پر تین خطوط پر گام زن رہی ہے:موضوع؛اسلوب و تیکنیک اور سماجی مطالعہ۔ ان خطوط کو اہمیت دینے کے سلسلے میں توازن برقرار نہیں رکھا گیا،موضوع کے مطالعے میں مقابلتاً زیادہ سرگرمی دکھائی گئی ہے اوراسلوبی ،تیکنیکی اور سماجی مطالعات اس کثرت سے نہیں ہو سکے ،جس کا مطالبہ اردو افسانہ اپنے فنی تنوع اور سماجیاتی مضمرات کی بنیاد پر کرتا ہے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہیں کہ ہم عموماً فنی و تیکنیکی مسایل سے بھا گتے ہیں۔ دوسری طرف موضوعاتی مطالعے میں بھی سادگی کا یہ عالم ہے کہ اگر افسانے کا موضوع سماج ہے تو اسے سماجیاتی مطالعے کا نعم البدل سمجھ لیا گیا ہے ۔ (یہی عالم نفسیاتی اور اساطیری مطالعات کا ہے)حالاں کہ سماجی اور سماجیاتی مطالعے میں اتنا ہی فرق ہے جتناسماج اور سماجیات میں۔ایک ڈھیلا ڈھالا تصور ہے اور دوسرا ایک باقاعدہ تھیوری ۔اور تھیوری سے تو ہمیں خدا واسطے کا بیر ہے!بایں ہمہ افسانوی تنقید ،اپنی حدوں میں قید رہنے کے باوجود بعض اہم کارنامے سرانجام دینے میں کام یاب ہوئی ہے۔اسے بھی ایک کارنامہ ہی کہنا چاہیے کہ اردو کی افسانوی تنقید اردو افسانے کو کچھ نئے زاویوں سے سمجھنے کی ضرورت کا احساس ہی نہیں ،تحریک بھی دلاتی ہے۔
اب افسانوی تنقید ،جسے بیانیات کا نام ملاہے،اپنا مدار ایک ثنویت پر رکھتی ہے۔وہ افسانے اور دیگر ہر طرح کے بیانیے کو’’سٹوری‘‘ اور ’’ ڈسکورس‘‘ میں تقسیم کرتی ہے اور ہر قسم کے افسانوی مطالعات اس ثنویت کی بنیاد پرکرتی ہے۔سادہ طور پر،کہانی افسانے یا بیانیے کا سلسلہ واقعات ہے اور ڈسکورس وہ سارا بیانیاتی عمل ہے جو کہانی سمیت پورے بیانیے کو محیط ہے۔کہانی اگرافسانے کا واقعاتی جزرو مد ہے تو ڈسکورس اس کو ممکن بنانے والی لسانی قوت اور حکمتِ عملی ہے۔روایتی افسانوی تنقیدکہانی کو ’’بادشاہ مرا تو ملکہ بھی مر گئی‘‘سے زیادہ نہیں سمجھتی اور پلاٹ کو’’بادشاہ مرا تو اس کے غم میں ملکہ بھی گھل گھل کر مر گئی‘‘سے آ گے خیال نہیں کرتی۔اس کی نظر میں گویا واقعات کا زمانی ترتیب میں کوئی بھی سلسلہ کہا نی ہے جب کہ زمانی ترتیب میں اگر علت و معلول کا سلسلہ بھی قایم ہو جاے تو یہ پلاٹ ہے،مگر اب کہانی کو ایک نیا پیرا ڈایم کہا جانے لگا ہے۔والٹر فشر اسے Narrative Paradigm قرار دیتے ہیں۔یعنی کہانی اب سادہ واقعاتی سلسلہ نہیں ،سماجی حقیقت تک رسائی حاصل کرنے،اس کے ضمن میں فیصلے کرنے اوررد عمل ظاہر کرنے کا ایک ایسا پیرا ڈایم ہے جو منطقی پیراڈایم سے مختلف ہے۔ہر چند اسے ایک ابلاغی تھیوری کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انسان ایک عقلی وجود سے زیادہ ایک بیانیہ وجود ہے ،وہ دنیا کی تفہیم اور ترسیل عقلی دلایل کے بجاے بیانیے اور کہانی کی مخصوص منطق کے ذریعے کرتا ہے۔ مگر بیانیہ پیراڈایم افسانوی تنقید میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرتی نظر آتی ہے۔انسان کو بیانیہ وجود قرار دے کر سماج اورکائنات سے اس کے رشتے کی نئی معنویت سامنے لائی گئی ہے اورافسانے یا بیانیے کو انسانی وجود کی بنیادی سچائی قرار دیا گیا ہے،ایک ایسی سچائی جو اس کے ہر سماجی عمل کی وقوع پذیری اور جہت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور ڈسکورس افسانے کا فقط اسلوب نہیں،افسانے کے راوی اور بیان کنندے کی پیش کی گئی زندگی کی تعبیر ہے۔
بیانیہ پیرا ڈایم اور ڈسکورس میں بہت کچھ گندھاہوتا ہے۔سادہ اور سرسری قرات کرنے والے نقادوں(جن کا جم غفیر ہے) کا المیہ یہ ہے کہ انھیں افسانہ محض کسی سماجی ،نفسیاتی ،سیاسی ،تاریخی ،تہذیبی یا تخیلی صورتِ حال کا ،براہ راست یا علامتی طور پرترجمان دکھائی دیتا ہے یاافسانہ نگار کے ’’ورلڈ ویو‘‘کا نمایندہ نظر آتا ہے۔اس وضع کی افسانوی تنقید،اپنے تمام بلند بانگ دعووں کے باوجود،افسانے کوسماجی،نفسیاتی یا تہذیبی دستاویز یا پھر افسانہ نگار کی ڈائری ثابت کرنے کے علاوہ کوئی خدمت سر انجام نہیں دیتی۔افسانوی آرٹ میں انسانی وسماجی حقیقت ،اس حقیقت کی کتنی ہی زیریں و بالائی سطحیں اورالتباسی،تخیلی اور’ تشکیلی‘ شکلیں سمائی ہوتی اور ان کی ترسیل کے طور موجود ہوتے ہیں۔ ان کی طرف کم ہی دھیان دیا گیا ہے ۔بہ ہر کیف بیانیہ پیراڈایم اور ڈسکورس میں جو عناصر گندھے ہوتے ہیں،ان میں اہم ترین آئیڈیالوجی اور تھیم ہیں۔
افسانے میں ان کی اہمیت کے کئی زاویے ہیں۔ایک یہ کہ ان کی مدد سے افسانے کی ’’سائنس‘‘تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے:افسانے کے ’’کیا‘‘اور ’’کیوں کر‘‘کا جواب دیا جا سکتا ہے،ایک نئی مگرزیادہ با معنی سطح پر ۔دوسرا یہ کہ اردو افسانے کی نوع بندی کی جا سکتی ہے۔حقیقت یہ کہ اردو میں گزشتہ ایک صدی میں تین قسم کے ہی افسانے لکھے گئے ہیں۔اردو افسانہ یا تو آئیڈیالوجی کی بنیاد پر لکھا گیا ہے،یا تھیم کی اسا س پر یا پھر ان دونوں کے بغیر۔آخری قسم کا افسانہ وہ ہے جو تفریحی نوعیت کا ہے۔اس میں کہانی ،پلاٹ تو ہے،مگر ڈسکورس نہیں ہے۔کسی ’’بیانیاتی معمے‘‘کو پیش اور رفتہ رفتہ حل کرنے کو کوشش اور قاری کے جذبہِ تجسس اور حیرت کو بے دار کرنے کی سعی تو کی گئی ہے،مگر کسی بھی نوع اور سطح کی ’’بصیرت‘‘ کی پیش کش اور اس کی تعبیر کا سامان نہیں ہے جو دوسری قسم کے افسانوں کی لازمی شرط ہے۔
اردو افسانے کی چنیدہ مثالوں میں(جنھیں نمایندہ تصور کرکے پیش کیا جاے گا)آئیڈیالوجی اور تھیم کی صورتِ حال کی وضاحت سے پیش تر ان دونوں کی تھوڑی سی نظری بحث مزید گوارا کر لیجیے۔
آئیڈیالوجی اور تھیم میں فرق اور تعلق کی بحث شاید ہی اٹھائی گئی ہو،حالاں کہ اردو افسانے کی ’’روح‘‘تک پہنچنے کے لیے یہ بحث نا گزیر ہے۔آئیڈیالوجی اجتماعی اور تھیم انفرادی ہے۔پہلی تشکیل اور دوسری تخلیق ہے۔آئیڈیالوجی ایک سماجی گروہ کا وہ مخصوص نقطہِ نظر ،عقیدہ ،نظام اقدارہے جو ایک طرف اسے فکری سطح پر منظم کرتا اور اسے گروہی شناخت دیتا ہے دوسری طرف ارد گرد کی حقیقتوں کی تفہیم کا فریم ورک اور ان حقیقتوں کے سلسلے میں رد عمل ظاہر کرنے کا میدان مہیا کرتا ہے۔کوئی نقطہِ نظرآئیڈیالوجی اس وقت بنتا ہے،جب اسے تاریخی اور فطری بنا کر پیش کیا گیا ہو۔ واضح رہے کہ کوئی نقطہِ نظر واقعی فطری اور تاریخی ہو سکتا ہے اور یہ کسی سماجی گروہ کو منظم بھی کر سکتا ہے۔لہذا کسی دوسرے اور آئیڈیالوجیکل نقطہِ نظر میں لطیف فرق یہ ہے کہ آخرالذکر تاریخی اور فطری ہوتا نہیں،اسے ایسا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔اسی صورت میں ہی آئیڈیالوجی اپنی ناگزیر اوربہترین ہونے کا یقین ابھارتی ہے۔ آئیڈیالوجی میں نقطہ نظر کے ’’غیر تاریخی‘‘ ہونے کو دبایا جاتا ہے تا کہ اس سے وہ مقاصد حاصل کیے جاسکیں کسی نقطہِ نظر کے تاریخی ہونے سے حاصل کیے جاتے ہیں۔آئیڈیالوجی ایک طرح سے تاریخ کا استحصال کرتی ہے۔ اردو میں اس کی مثال مارکسی فکر کی ہے ۔یہ اردو میں کسی حقیقی تاریخی عمل کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئی تھی ،یہ ایک ایسے تاریخی مرحلے پر اردو میں داخل ہوئی تھی جب ہمار ا سماج سامراج کے خلاف مزاحمت کے حقیقی جذبات سے لبریز تھا ،لہذا اسے ایک تاریخی نا گزیریت کے طور پر فروغ دینے میں کوئی دقت نہ ہوئی اور سماج کے ایک بڑے گروہ نے خود کو مارکسی آئیڈیالوجی کی رو سے فکری سطح پر منظم اور مشخص کر لیا۔اس کے مقابلے میں تھیم تخلیق کار کا انفرادی موقف ہے اور یہ اسی صورت میں قایم ہو سکتا ہے،جب تخلیق کار اپنے عصر کے کسی مخصوص سماجی گروہ سے فکری اور عقیدتی سطح پر وابستہ ہونے اور اس کی نظر سے دنیا کی تفہیم و تعبیر کے بجاے ایک اپنی ’’نظر‘‘پیدا کرنے میں کام یاب ہو۔ہر چند آخری تجزیے میں کوئی ’’نظر‘‘ یک سر انفرادی نہیں ہوتی ،اس کا ما خذ تاریخ یا معاصر فکر میں کہیں نہ کہیں تلاش کیا جا سکتا ہے ،مگر آئیڈیا لوجی اور تھیم میں فرق یہ ہوتا ہے کہ تھیم کوآئیڈیالوجی کی مانند ’’تاریخی اور فطری‘‘ بنا کر پیش نہیں کیا جاتا؛اسے انسان،سماج ،کائنات کی تفہیم کے ایک امکان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آئیڈیالوجی لازماًایک سماجی گروہ کی فکری حلیف ہوتی اور اس کے استحکام کے لیے کوشاں ہوتی ہے،جب کہ تھیم کسی ایک سماجی گروہ کی محدودیت سے اوپر اٹھ کر انسانی فہم اور بصیرت میں اضافے کا موید ہوتا ہے۔نیز آئیڈیالوجی میں تائید و تقلید کا عنصر ہوتا اور تھیم میں انکارو تنقید کی روش ہوتی ہے۔یہاں ایک ممکنہ غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے ۔بعض اوقات آئیڈیالوجی میں انکارو تنقید کے عناصر ہوتے ہیں،جیسے مارکسی آئیڈیالوجی میں کثرت سے ہیں،مگر جب آئیڈیالوجی قایم ہو جاتی اور ایک سماجی گروہ اس کی مدد سے منظم ہو جاتا ہے تو انکارو تنقید کی بھی تائید و تقلید ہونے لگتی ہے،یعنی انکارو تنقیدکا عمل انھی خطوط پر اور انھی پیراڈیم کے تحت ہوتا ہے جو آئیڈیالوجی میں موجود ہوتے ہیں۔ادھر تھیم اپنے خطوط اور پیراڈیم وضع کرتا ہے،مگر اس بات پر زور دیے بغیر کہ ان کی تقلید کی جاے۔یہ دوسری بات ہے کہ اس میں انسانی فکر کو مہمیز کرنے کا سامان بہ ہر حال ہوتا ہے،جس کی وجہ سے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اب سوال یہ ہے کہ افسانے میں آئیڈیالوجی اور تھیم کی شناخت کیوں کر کی جاسکتی ہے؟درج ذیل خطوط اور سوالات کی روشنی میں افسانے کا تجزیہ اس شناخت کو ممکن بنا سکتا ہے۔
*افسانے کا ’’نقطہِ نظر‘‘(view point)کیا ہے؟واحد متکلم یا ہمہ بین ناظرہے؟نیز افسانے کا بیان کنندہ افسانوی عمل میں شریک ہے یا غیر جانب دار ہے؟
* کرداروں ،واقعات یا صورتِ حال کی وضاحت و تعبیر کرتے ہوے کیا موقف اختیا ر کیا گیا ہے؟
*افسانے کے ڈسکورس میں کس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور کس بات کو مخفی رکھا گیا یا ان کہا چھوڑ دیا گیا ہے؟
*افسانے کا موٹف کیا ہے؟ یعنی کون سی بات یاجملہ یا لفظ افسانے میں تکرار کے ساتھ آتا اور افسانے کے موضوع کی تنظیم کرتا ہے؟
*افسانے میں Mythos کی صورت کیا ہے؟یعنی وہ کیا بات یا جملہ ہے جوپورے افسانے میں ایک آدھ بار آتا ہے،مگر افسانے کے موضوع کی یک سر نئی مگر افسانوی عمل سے پوری طرح ہم آہنگ تعبیر کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اردو افسانے کی صد سالہ تاریخ میں آئیڈیالوجی اور تھیم متوازی طور پر موجود رہے ہیں۔اس حقیقت کے باوجود کہ اردو افسانہ رومانیت،ترقی پسندی،جدیدیت ،نو ترقی پسندی اور نو جدیدیت یا مابعد جدیدیت ایسی تحریکوں کی زد پر رہا ہے۔اصولاً ہر تحریک اپنی اصل میں یا اپنے مضمرات میں آئیڈیالو جیکل ہوتی ہے،اس لیے سادہ طور پر تو ان تحریکوں کے زمانے میں لکھے گئے افسانے کو آئیڈیالوجیکل قرار دیا جاسکتاہے۔یعنی کہا جا سکتا ہے کہ بیسویں صدی کی تیسرے دہے سے چھٹے دہے تک لکھا گیا افسانہ ترقی پسند آئیڈیالوجی کا علم بردار اور حلیف ہے اور چھٹی اور ساتویں دہائی کا افسانہ جدیدیت کی آئیڈیالوجی کو مستحکم کرتا ہے۔مگر ،ظاہر ہے ،یہ نہ اردو افسانے سے انصاف ہے اور نہ افسانہ نگاروں سے۔اس صورت میں اردو افسانہ اپنے عہد کی حاوی آئیڈیالوجی کا مثنٰی بن کر رہ جاتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اردو افسانے میںآئیڈیالوجی اور تھیم کی کارفرمائی کی کیا کیا صورتیں ہیں؟اس ضمن میں پہلی بات یہ کہ کہیں تو آئیڈیالوجی اپنی واشگاف صورت میں پیش ہوئی ہے ،کہیں مخفی صورت میں اور کہیں آئیڈیالوجی اور تھیم ایک دوسرے میں گندھ گئے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اردو افسانہ ان دونوں کے حوالے سے تنوع کا مظاہرہ کرتا ہے۔
*
سعادت حسن منٹو کے بیش تر افسانے تھیم پر مبنی ہیں۔منٹوکا افسانوی عمل کسی سماجی یا ادبی گروہ کا حلیف بننے سے انکار کرتا اورایک نیااور منفرد تھیم تخلیق کرتا ہے۔اس امر کی ایک عمدہ مثال ان کا افسانہ جانکی ہے۔واحد متکلم کے ’’نقطہِ نظر‘‘میں لکھے گئے اس افسانے کا موضوع ’’عورت کی محبت‘‘ ہے اور تھیم یہ ہے:’’ عورت ایک آزاد و خود مختار وجود ہے۔وہ محبت کے فیصلے آزادانہ طور پر کرتی ہے اور اپنی ہر محبت میں پر خلوص ہوتی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ موضوع اور تھیم میں فرق ہوتا ہے اور اس فرق کا لحاظ اکثر نہیں رکھا گیا۔کسی افسانے کا موضوع ایک عام سچائی،رویہ،قدر،مسئلہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے موضوع سے کسی افسانے کے امتیاز کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔اس کے مقابلے میں تھیم خاص ہوتا ہے ۔جیسے اس افسانے کا موضوع ’’عام‘‘ ہے،جب کہ تھیم خاص ہے۔یہ دوسری بات ہے کہ ہر خاص تھیم میں ایک عمومی صداقت یا اصول بننے کا امکان ہوتا ہے۔
کبھی تھیم افسانے میں کسی مکالمے یا افسانے کے بیان کنندہ کی پیش کی گئی تعبیر میں بیان ہو جاتا ہے اور کبھی یہ پورے افسانے میں ریزوں کی صورت بکھرا ہوتا ہے اور اسے تنکا تنکا جمع کرنا پڑتا ہے،تاہم تھیم کی تائید افسانے کی مجموعی صورتِ حال سے ہو تی ہے۔جانکی تین مردوں :عزیز،سعید اور نرائن سے محبت کرتی ہے۔عزیز اور سعید سے بیک وقت اور نرائن سے اس وقت جب عزیز اور سعید اسے چھوڑ جاتے ہیں۔افسانے میں جانکی کی پہلی دو محبتوں کی تفصیل ملتی ہے اور تیسری محبت کی محض قوی شہادت پیش کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔جانکی کا بہ یک وقت دو مردوں سے محبت کرنا اور اور ان سے مایوس ہونے کے بعد پھر نرائن کی محبت میں مبتلا ہونا،سماج کی حاوی اخلاقی آئیڈیالوجی کی رو سے سخت معیوب بات ہے۔جانکی کا طرزِ عمل مشرقی عورت کے اس تصورسے بری طرح متصادم ہے،جس کے مطابق عورت زندگی میں فقط ایک مرتبہ محبت کرتی اور پھر پوری عمر اس محبت کے استحکام یا اس کی یاد میں بہ خوشی بسر کردیتی ہے۔یلدرم اورنیازکے افسانے عام طور پر اسی تصور کو پیش کرتے ہیں۔منٹو اس افسانے میں اس تصور کو بلند بانگ انداز میں ردّکرنے کا بیانیہ پیش کیے بغیر،اس کے بر عکس تصور پیش کرتے ہیں۔ اس تصور کے مطابق عورت ایک وقت میں ایک سے زائد مردوں سے محبت کر سکتی ہے اور اپنی ہر محبت میں ایک جیسی گرمیِ جذبات کا مظاہرہ کرسکتی ہے۔جانکی جس اخلاص کے ساتھ عزیز کو خط لکھتی ہے ،اسی اخلاص کے ساتھ سعید کو ٹیلی گرام پہ ٹیلی گرام بھیجتی ہے اور اسی گرمیِ جذبات کا مظاہرہ وہ نرائن کی زینتِ آغوش بننے کی صورت میں کرتی ہے۔
اگر اس تھیم کو منٹو کے پورے افسانوی بیانیے سے ہٹ کر دیکھیں تو جانکی ایک عیاش عورت کے طور پر سامنے آتی ہے،لیکن اگر اسے افسانے کے بیانیاتی تناظر میں دیکھیں تو وہ محض ایک جوان عورت ہے جو اپنی ذات کا اثبات ایک مرد کے ساتھ پر خلوص رشتے کی صورت میں دیکھتی ہے۔اس کے لیے اصل اہمیت ’’پر خلوص رشتے ‘‘ کی ہے۔یہ رشتہ اس کے لیے ایک ایسے چراغ

کی مانند ہے جس کے سامنے مرد کا انفرادی وجود پرچھائیں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔جانکی کے نزدیک تینوں مردوں کی انفرادی شخصیتیں ایک لحاظ سے بے معنی ہیں۔عزیز شادی شدہ ہے،سعید عیاش اور بد مزاج ہے،نرائن کی سرے سے کوئی شخصیت ہی نہیں ہے۔اگر اس تھیم کو ذرا مزیدگہرائی میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خود جانکی کی شخصیت توہے،مگر وہ اسے اپنے رشتوں میں آڑے نہیں دیتی۔افسانے میں جب وہ یہ کہتی دکھائی گئی ہے :’’ سعادت صاحب میں پوچھتی ہوں ،اس میں جرم کی کون سی بات ہے ،اپنی ہی تو یہ چیزہے اور قانون بنانے والوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بچہ ضایع کرتے ہوے تکلیف کتنی ہوتی ہے۔‘‘ ۔۔تو یہاں وہ اپنی شخصیت کا ہی اظہار کرتی ہے ،اور یہ شائبہ بھی ہوتا ہے کہ یہ ایک مضبوط اور انحراف پسند شخصیت ہے۔ایک دوسرے زاویے سے جانکی کا یہ بیان اس کے آیندہ اعمال کوبنیا د اورجواز بھی مہیا کرتا ہے۔نیز وہ عزیز ،سعید اور نرائن سے تعلق میں کسی بھی وقت اپنی ’’انحراف پسند شخصیت ‘‘ کو نہ تو مقابل لاتی ہے اور نہ اس کے استحکام کی کسی کوشش میں مصروف نظر آتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خود اپنی اور تینوں مردوں کی شخصیتوں کو پس پشت ڈالنے کا مطلب یہ باور کرانا ہے کہ مرد عورت کے رشتے میں شخصیت منہا ہو جاتی ہے۔مبادا غلط فہمی پیدا ہو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کردار اور شخصیت میں نہایت نازک فرق ہوتا ہے ،اور یہ فرق نظر انداز کرنے سے افسانے کی تفہیم میں خاصی گڑ بڑ ہو جاتی ہے۔جانکی شخصیت رکھتی ہے اور افسانے کا کبیری کردار(Protagonist) ہے اور یہ دونوں باتیں ایک دوسر سے مربوط ہونے کے باوجود مترادف نہیں ہیں۔قسم کے اعتبار سے وہ مدوّر کردار(Round Character)ہے۔گویا ایسا کردار جس کے اوصاف پے چیدہ اور ہماری عمومی فکر کی طرز کو چیلنج کرنے والے ہیں۔ہم آسانی کے ساتھ جانکی کے کردار پر کوئی حَکم نہیں لگا پاتے۔وہ ہمارے عورت کے روایتی تصور پر ضرب لگانے کے باوجود ہمارے دل میں اپنے لیے نفرت نہیں ابھارتی۔ہم اندر سے ایک قسم کی ٹوٹ پھوٹ کے علی الرغم اسے بھلانے،نظر انداز کرنے یا مستردکرنے پر خود کو آمادہ نہیں کر پاتے۔وہ ہمارے دل میں اپنے لیے ہم دردی نہیں ابھارتی،مگر حقارت کوبھی تحریک نہیں دیتی۔یہی اس کردار کی پے چیدگی ہے۔دوسری طرف اس کی شخصیت مدوّر نہیں ،چپٹی (Flat)ہے،یعنی اس کے اوصاف کو آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔شخصیت ،ایک
انفرادی نقطہِ نگا ہ کا دوسرا نام ہے۔جانکی کا نقطہِ نگاہ اپنے وجود کی خود مختاری کو منوانے سے عبارت ہے۔وہ اپنے جسم اور وجود کو اپنی ملکیت سمجھتی ہے ،اور اس ملکیت کے سلسلے میں وہ سماج اور اس کی اخلاقیات کی حاکمیت کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ بہ طور کردار اپنی خود مختاری پر اصرار کے بجاے اس کی قربانی دیتی ہے اوراسی بنا پر پنے رشتوں کو نبھانے میں کام یاب ہوتی ہے۔ یہاں ایک لمحے کے لیے اگر آپ علی عباس حسینی کی میلہ گھومنی کو ذہن میں لائیں تو کردار اور شخصیت کا فرق مزید آئنہ ہو جاتا ہے۔میلہ گھومنی کا کردار کسی حد تک مدوّر تو ہے،مگر اس کی کوئی شخصیت نہیں ہے۔دوسرے لفظوں میں وہ محض ایک کردار ہے، جس کی شخصیت کی نمو ہوئی ہی نہیں۔وہ افسانے میں اپنے کردار کے اعتبار سے جانکی سے کافی مشابہت رکھتی ہے،وہ بھی تین مردوں سے وابستہ دکھائی گئی ہے :درزی،منو اور گاؤں کے کسان سے ،مگر اسے اپنے وجود کی خود مختارحیثیت کا شعورنہیں اور نہ ہی اپنے وجود کے ’’بے بس کر دینے والی سماجی،جنسی قوتوں‘‘ کے ماتحت ہونے کی آگاہی ہے۔آگاہی شخصیت کی شرطِ اوّلین ہے۔
ہر تھیم ایک منفرد اور مخصوص زمانی و مکانی صورتِ حال میں پیش ہوتا اور تشکیل پاتا ہے،اس لیے خاص ہوتا ہے مگر اس میں اپنے حدود کو پھلانگنے کے’’ نشانیاتی امکانات ‘‘ ہوتے ہیں۔اگر ایسا نہ ہو تو یہ تھیم نہیں ،آئیڈیالوجی ہے۔نشانیاتی امکانات کو علامتی معنیاتی امکانات سے ممیز کرنے کی ضروروت ہے۔نشانیاتی امکانات ،تھیم میں مضمر خیال،تصور کو ،تھیم کی بنیادی منطق سے وابستہ رکھتے ہوے ،پھیلانے کے عمل سے عبارت ہیں،جب کہ علامتی امکانات میں ،علامت کی بنیادی منطق کو بھی پھلانگا جا سکتا ہے۔دوسرے لفظوں میں تھیم کی جب تعمیم کی جاتی ہے،اس کی خصوصیت کو عمومیت میں بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ سارا عمل تھیم کی اس بنیادی منطق کے اند رہوتا ہے جو’’مخصوص زمانی و مکانی صورتِ حال‘‘ سے عبارت ہے۔اردو کی افسانوی تنقید میں افسانوں کے تجزیوں اور تعبیروں میں اس اصول کی ہرگز پروا نہیں کی جاتی اور افسانوں کی من مرضی کی تعبیریں کی جاتی ہیں۔اور پھر یہ سوچنے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی کہ ایسا کرنا افسانوی متن کا استحصال ہی نہیں ،انسانی فکر کے ساتھ ایک بڑا کھلواڑ بھی ہے۔افسانے کی ہر صورتِ حال علامتی نہیں ہوتی۔بہ ہر کیف اگر جانکی کے تھیم کی تعمیم کریں ،یعنی اس کے نشانیاتی امکانات کی دریافت کریں تو تین باتیں سامنے آتی ہیں۔ایک یہ کہ عورت ایک خود مختار وجود ہے۔دوسری یہ کہ مرد عورت کے جذباتی و جنسی
رشتے میں خلوص اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دونوں کی شخصیتیں منہا ہو جائیں۔اگر اس رشتے میں ایک یا دونوں فریق اپنے انفرادی و شخصی وجود کو برقرار اور مستحکم رکھنے کی سعی کریں تو ان کا نفرادی وجود تو شاید برقرار رہ جاے اور اس کی نشوونما بھی ہو جاے،مگر یہ رشتہ خلوص سے محروم ہو جاے گا۔دوسری یہ بات متبادر ہوتی ہے کہ انسان جب بھی کسی رشتے میں بندھتا ہے تو اپنے اس جوہر سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ،جو اس رشتے کی عدم موجودگی میں اس کی شاید سب سے اہم یافت ہوتا ہے۔زبان سیکھنے سے لے کر کسی گروہ کا حصہ بننے یاکسی سماجی،سیاسی ،انتظامی کمیونٹی میں شامل ہونے کے عمل میں یہ بات مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔دوسرے لفظوں میں،ایک وقت میں ایک بات کا اثبات ہوتا ہے:آدمی کی شخصیت و انفرادیت کا یا رشتے کا۔
اب اگر غور کریں تو جانکی کے تھیم کی یہ تعمیم ہمیں ایک نازک صورتِ حال سے دوچار کرتی ہے۔تعمیم کے نتیجے میں جو دو باتیں سامنے آئی ہیں، ان کی نوعیت کیا ہے؟کیا یہ عمومی صداقت ہیں یا اصول؟اخلاقی قدر ہیں یا ایک ایسی صداقت کا اظہار جو موجود اور کارفرما تو ہے،مگر جس سے ہم عام طور پر آگاہ نہیں ہوتے؟اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان سوالوں کے معقول جواب تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟
اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ صرف بیانیہ پیراڈایم کے ذریعے ہی ہم مذکورہ نازک صورتِ حال سے عہدہ برا ہو سکتے ہیں۔بیانیہ پیراڈایم کی اہم شرط ’’بیانیہ استدلال‘‘ ہے،جو عقلی استدلال سے مختلف ہے۔بیانیہ استدلال ،بہ قول والٹر فشر ،تنظیم(coherence) اور مطابقت(fidelity)سے عبارت ہے۔یعنی
بیانیے کے تمام اجزا (واقعات،بیانات،اطلاعات وغیرہ) میں ربط و تنظیم ہو اور بیانیے اوربیانیے سے باہر کی صورتِ حال میں کسی نہ کسی سطح کی مطابقت ہونی چاہیے۔باہر کی صورتِ حال میں قارئین سے لے کر ان کے تصورات و توقعات اور اشیا و مظاہر کے جاننے سمجھنے کے طریقے تک، سب شامل ہے ۔ظاہر ہے عقلی استدالا ل اس سے مختلف ہوتا ہے اور اس میں یہ باتیں بہ طور شرایط
شامل نہیں ہوتیں۔
بیانیہ استدلال کی اس وضاحت کی روشنی میں غور کریں تو جانکی کے تھیم کی تعمیم سے حاصل
ہونے والی پہلی بات ایک نیم فلسفیانہ اصول ہے۔بشر مرکزیت فلسفے نے انسان کوایک منفرد ہستی قرار دیا ہے،جو اپنے وجود سے متعلق تمام فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔افسانے میں یہ اصول اپنے فلسفیانہ پس منظر کے ساتھ ظاہرنہیں ہوا ،بلکہ بیانیہ پیراڈایم کے اندر پیش ہوا ہے۔اسے ایک عام فلسفیانہ اصول ،جس کا اطلاق تمام انسانوں پر ہوتا ہو،کے بجاے ایک خاص پس منظر کی عورت کی نسبت سے پیش کیا گیا ہے۔یہ عورت سماجی بندھنوں سے نئی نئی آزاد ہوئی ہے:اسے پشاور سے بمبئی تک اکیلے سفر کرنے اورفلمی دنیا میں قسمت آزمانے اور مردوں سے آزانہ اختلاط کی آزادی ملی ہے۔وہ اپنی آزادی کا شعور رکھتی ،اس شعور کا اظہار کرتی اور اسے اپنے آزادانہ فیصلے کرنے میں بروے کار بھی لاتی ہے،مگراس ردّعمل کوبھی اپنے شعور سے برابر متصادم دیکھتی ہے،جو اس کی آزادی کے ضمن میں سماج ظاہر کرتا ہے۔اسی تصادم کے جواب میں وہ اپنی خود مختاری کا اعلان کرتی ہے۔لہٰذاجانکی کے تھیم کی عمومیت انسانی انا کی خود مختاری کے ایک عام فلسفیانہ اصول سے عبارت نہیں ،بلکہ مذکورہ سماجی صورتِ حال میں مقید نسوانی شخصیت کی خود مختاری کا اصول ہے۔اسے مذکور سماجی صورتِ حال میں محصور عام انسانی شخصیت کی خود مختاری بھی قرار نہیں دیا جاسکتا،اس لیے کی جانکی اپنے جینڈر سے اوپر اٹھنے کا امکان نہیں رکھتی۔جب کہ اس افسانے کے تھیم کا دوسرا پہلواخلاقی قدر ہے۔اس لیے کہ ہر وہ قدر اخلاقی ہوتی ہے ،جس میں کسی نہ کسی درجے میں سماجی افادیت ہو،جو سماج میں افراد کے رشتوں کو مستحکم اور مفید بناتی ہواور یہ ایک اخلاقی قدر ہے کہ فرد کسی رشتے کے وجود اور بقا کی خاطر اپنی شخصیت کو بالاے طاق رکھے۔جب کہ تیسری بات ایک ایسااصول ہے جو سماجی میکانزم میں کارفرما تو ہے مگر جو نظروں سے اوجھل ہے۔اس لیے اس افسانے کا تھیم اپنی تعمیمی صورت میں ہمیں اپنے سماجی عمل کی تفہیم میں مدد دیتا ہے،مگر بیانیہ استدلا ل کے ذریعے۔چوں کہ یہ ایک اصول ہے ،اس لیے یہ ہمیں یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ ہم اسے اختیار کریں یا مسترد۔ہم اپنی شخصیت کا اثبات کریں یا اپنے سماجی رشتوں کا۔اس سے آگے اس افسانے کی نشانیاتی حدود ختم ہو جاتی ہیں ۔یعنی یہ افسانہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ
آدمی کے لیے احسن صورت کیا ہے؟ اپنی شخصی نمو یاسماجی سا لمیت۔
اب تک تھیم کے تجزیے میں زیادہ تر کہانی پر انحصار کیا گیا ہے اور افسانے کے دوسرے’’حصے‘‘ڈسکورس کی طرف کم رجوع کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ تھیم ہو یا آئیڈیالوجی،دونوں کے تجزیے میں کہانی اور ڈسکورس اہمیت رکھتے ہیں ،تاہم یہ اہمیت یکساں نہیں ہوتی۔یہ درست ہے کہ ہر افسانہ ،کہانی اور ڈسکورس پر مشتمل ہوتا ہے ،مگرہر افسانے میں دونوں کی کارفرمائی کا عالم یکساں نہیں ہوتا۔بعض میں کہانی اور بعض میں ڈسکورس حاوی ہوتا ہے۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی افسانے کی کہانی عمدہ،مگر اس کا ڈسکورس ناقابلِ رشک ہوتا ہے:افسانے میں واقعات کا انتخاب،ان کا باہمی ربط،اچانک اور متوقع طور پر وقوع پذیر ہونے والے ’’موتف نما واقعات‘‘ قاری کو متوجہ اور متاثر کرتے ہیں،مگر ان کے بیان،راوی کی تعبیروں اور تبصروں میں فنی اور نفسیاتی بصیرت کی افسوس ناک کمی ہوتی ہے ۔مقبولِ عام فکشن اس امرکی سب سے بڑی مثال ہے۔لہٰذا افسانوی تجزیے میں یہ دیکھنا لازم ہوتاز ہے کہ کس افسانے میں کہانی ،ڈسکورس پر غالب ہے اور کہاں اس کے برعکس صورت ہے۔جانکی کے تجزیے میں اگر کہانی پر انحصار زیادہ کیا گیا ہے تو اس کی وجہ ظاہر ہے۔کہانی اور ڈسکورس کی باہمی صورتِ حال کو سمجھے بغیر محض کہانی،یا فقط ڈسکور س پر انحصار کرنے سے افسانے کی فنی وجمالیاتی قدراور اس کے معنیاتی ابعاد نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ اس اعتبار سے موزوں افسانہ ہے کہ اس میں ڈسکورس ،کہانی پر حاوی ہے۔اس مفہوم میں کہ اس افسانے کی معنوی کائنات کی تشکیل میں کہانی سے زیادہ ،کہانی کے بیانیہ عمل ،کرداروں کے بیانات اور راوی(جو واحد غائب ،غیر جانب دار اور ہمہ بین ہے)کی تعبیرات،کا حصہ ہے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کا موضوع’ تقسیمِ ہند‘ہے۔اسے بعض نے ’آزادیِ ہند ‘بھی کہا ہے،جو درست نہیں،اس لیے کہ ایک تو تقسیمِ ہند اور آزادیِ ہندکے معنوی تلازمات میں کافی فرق ہے،اس کے باوجود کہ یہ دونوں باتیں بہ یک وقت ممکن ہوئیں:ایک کا مفہوم سیاسی اور قومی ہے تو
دوسرے کے مفہوم میں ثقافتی،مذہبی تلازمات کا غلبہ ہے۔اور قومی مفہوم بھی کوئی سادہ اور یک جہت مفہوم نہیں ہے۔اس کی تہ میں وہ جغرافیائی اور مذہبی تصوراتِ قومیت موجود ہیں جو آزادیِ ہند کی تحریک کے دوران میں کارفرما تھے۔یہاں یہ سوال اٹھانا بے محل نہیں کہ منٹو نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تقسیمِ ہندکوآزادیِ ہند پر ترجیح کیوں دی؟اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ ترجیح کا معاملہ
ہمیشہ اقداری اور آئیڈیالوجیکل ہوتاہے،مگر منٹو کا بہ طور افسانہ نگار کمال یہ کہ اس نے اپنے عہد کی سیاسی قومی فضا کے معاملے میں ایک آئیڈیالوجیکل موقف تو اختیا ر کیا ،مگراپنے افسانوی بیانیوں پر اس موقف کا بوجھ نہیں لادا۔وہ اپنے افسانے کو آئیڈیالوجی کا ترجمان یا آئیڈیالوجی کی تشہیر کا ذریعہ نہیں بناتے۔ان کے یہاں آئیڈیالوجی افسانوی متن سے باہر ،ایک ترجیحی شعور کے طور پر موجود ہوتی ہے۔اور افسانہ تھیم پرمبنی ہوتا ہے۔مگر اس کا کیا کیا جاے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کو ایک آئیڈیالوجیکل متن کے طور پر پڑھا گیا ہے اور اس کے موضوع کو تقسیم کے بجاے ،محدود طور پرآزادیِ ہند قراردیا گیا ہے۔اس رویے کو متن کی ’آزادی ‘پر نقادکے شب خون مارنے کی کوشش کے علاوہ کیا نام دیا جا سکتا ہے! ٹوبہ ٹیک سنگھ بلاشبہ تھیم کا افسانہ ہے۔اور اس کا تھیم ہے:’’ آدمی کا وجود اور شناخت اس دھرتی کی مرہون ہے،جہاں وہ پیدا ہوتا ہے۔اس دھرتی کی تقسیم سے آدمی کا وجود اور شناخت ،تقسیم کے اس بحران کا شکار ہوتے ہیں ،جس سے آدمی سمجھوتا کر سکتا ہے نہ اس سے باہر نکل سکتا ہے۔‘‘
یہ تھیم ،فلسفے کے قبل تجربی اصول(a priori) کی مانند نہیں ہے،جسے من مرضی کا نتیجہ اخذ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو اس افسانے کو بآ سانی آئیڈیالوجیکل افسانہ قرار دیا جاسکتا تھا۔اصل یہ ہے کہ یہ تھیم افسانے کے ڈسکورس میں اسی طرح سرایت کیے ہوے ہے جس طرح برف میں پانی!کسی افسانے میں آئیڈیالوجی کی کارفرمائی جانچنے کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ اس میں راوی یا بیان کنندہ ،افسانوی عمل میں کتنا دخل اندازہوتا ہے۔وہ کسی کردار کے اوصاف کی وضاحت اورکسی واقعے کی تعبیر میں کتنا حصہ لیتا ہے۔اگر یہ حصہ افسانے میں اس کے متعین کردار سے زیادہ ہو اور یہ قاری کو افسانے کے خاص مفہوم کی طرف ہانکنے کے مترادف ہو تو سمجھیے آئیڈیالوجی کارفرما ہے۔مثلاً افسانہ کفن میں جہاں سماجی صورتِ حال کے تناظر میں مادھو اور گھیسو

کی ذہنیت کا تجزیہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ’’جس سماج میں رات دن محنت کرنے والوں کی حالت ان کی حالت سے کچھ بہت اچھی نہ تھی.....اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہوجاناکوئی تعجب کی بات نہ تھی۔‘‘یہ سراسربیان کنندہ کی افسانوی عمل میں کھلی مداخلت ہے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کا مذکورہ تھیم پاگلوں کے تبادلے کی اس کہانی کے ذریعے پیش کیا گیا ہے،جو ۵۰..۱۹۴۹ء کے زمانے کو محیط ہے۔یہ وہی زمانہ ہے جب سرحد کے دونوں اطراف سے آبادیوں

کا تبادلہ ہو رہا تھا۔’’دانش مندوں کے فیصلے کے مطابق ....بالآخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لیے مقرر ہو گیا...وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندستان میں ہی تھے،وہیں رہنے دیے گئے تھے جو باقی تھے ان کو سرحد پر روانہ کر دیا گیا۔یہاں پاکستان میں چوں کہ قریب قریب تمام ہندو سکھ جا چکے تھے،اس لیے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوا،جتنے سکھ پاگل تھے،سب کے سب پولیس کی حفاظت میں سرحد پر پہنچا دیے گئے۔‘‘یہاں سب سے پہلا سوال ہی یہ پیدا ہوتا ہے کہ افسانہ نگار نے پاگلوں کے تبادلے کی کہانی کا ہی انتخاب کیوں کیا؟کیا مذکورہ تھیم کے لیے پاگلوں کی کہانی ہی اسے موزوں لگی؟تقسیم کے موضوع کے سلسلے میں پاگل خانے کی کیا خصوصی معنویت ہے،جس کی ترسیل افسانہ نگار کو مطلوب ہے؟اس کے جواب میں یہ کہنا تو نری سادہ لوحی ہو گی کہ چوں کہ منٹو نے کچھ عرصہ لاہور کے پاگل خانے میں گزارا تھا ،اس لیے وہ کچھ خصوصی تجربات رکھتے تھے او ر انھی کو اس افسانے میں با اندازِ دگر پیش کیا ہے۔اصل یہ ہے کہ اس افسانے کے تھیم کا نشانیاتی اور’وجودیاتی تعلق ‘پاگل خانے کے ساتھ ہے۔
منٹو نے اس افسانے میں جن پاگلوں کو پیش کیا ہے،اگرچہ وہ کئی قسم کے ہیں،مگر کوئی ایک بھی ایسا نہیں ،جس کی حرکات یا بیانات کی تقسیم کے ضمن میں گہری معنویت نہ ہو۔مثلاًپہلا پاگل مسلمان ہے جو بارہ برس سے ’’زمیندار‘‘ کا مطالعہ کررہاہے۔جب اس سے پاکستان کے بارے میں پوچھا جاتاہے تو اس کا جواب آج ساٹھ برس بعد زیادہ بلاغت کے ساتھ سمجھ میں آتا ہے۔’’ہندستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں۔‘‘استر ے کی لغوی اور استعاراتی معنویت عیاں ہے:سنگدلی اور مہارت سے کاٹنا،آدمی کا گلہ ہو ،دوسروں کا حق ہوکہ آئین اور

قانون ! اسی طرح ایک پاگل کا درخت پر چڑھ کر یہ اعلان کرنا کہ ’’ میں ہندستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں.....میں اس درخت پر ہی رہوں گا۔‘‘انخلاع کی تمثیل اس سے بہتر کیا ہوگی!اور ایم ۔ایس ۔سی پاس ریڈیو انجینر کا باغ کی روش پر تمام کپڑے اتار کر ،ننگ دھڑنگ گھومنا شروع کرنا ،قبل منطق عہد میں پہنچنے کی تمثیل ہے۔ان باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنابے جا نہیں کہ پاگل خانے میں مریض نہیں ،منحرفین رکھے جاتے ہیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تمام پاگل ایک درجے میں منحرفین ہیں۔مریض اور ’پاگل منحرف‘ میں موٹا فرق یہ ہے کہ مریض ارد گرد سے لا تعلق ہوتا
ہے،وہ ارد گرد میں رونما ہونے والے ان واقعات سے جو اس کے طبعی وجود پر اثرانداز نہیں ہوتے، ان کے سلسلے میں کسی رد عمل کا مظاہرہ نہیں کرتا۔دوسرے لفظوں میں وہ محض جسم کی سطح پر جیتا ہے، جب کہ پاگل ارد گرد کے واقعات پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس کا ردعمل ،شعورِ عامہ سے مختلف ہوتا اور بعض صورتوں میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اس کا ردعمل ایک طرح کا کوڈ ہوتا ہے،جس کی تفہیم کے لیے شعور عامہ کو ایک نئی ،مگر اس کوڈ سے نشانیاتی سطح پر ہم آہنگ منطق وضع کرنا پڑتی ہے۔تمام منحرفین بھی اپنے اعمال کی نئی منطق پیش کرتے ہیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کئی کوڈ ہیں۔
منٹو کے اس افسانے میں پاگل خانہ ،مریضوں کی جاے پناہ یا علاج گا ہ نہیں،منحرفین کا مستقر ہے!یہ وہ سب لوگ ہیں جو اپنے عہد کے ’خداؤں‘سے الگ اور انحراف پسندانہ زاویہ نگاہ رکھتے ہیں۔ان میں بھی’خدا‘ بننے کی صلاحیت ہے اور اسی بنا پر قید ہیں۔افسانے میں یہ Mythosمحض اتفاق سے پیش نہیں ہواکہ’’ ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندستان میں تو اس نے حسب عادت قہقہہ لگایا اور کہا’وہ پاکستان میں ہے نہ ہندستان میں ۔اس لیے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا۔‘‘آخر پاگل پن میں خدا کے ساتھ تماثل کیوں؟یقینااس کی گہری نفسیاتی اور ثقافتی وجہ ہے۔ پاگل پن میں ’اختیار اور اقتدار ‘ کی ثقافتی علامتیں ،نفسیاتی صداقت بن کر اپنا اظہار کرتی ہیں۔ڈیوڈ کوپر نے میثل فوکو کی معروف کتاب پاگل پن اور تہذیب کے پیش لفظ میں برسبیلِ تذکرہ نہیں ، سوچ سمجھ کرلکھا ہے کہ

"Madness, for instance, is a matter of voicing the realization that I am
(or you are) Christ."
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تمام پاگل تقسیم کے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔اور ایک متبادل نقطہِ نظر (Counter View) پیش کرتے ہیں ۔یہ نقطہِ نظراس عہد کی سماجی اور سیاسی تاریخ کے اس خلا کو بھرتاہے ،جو اس عہد کے خداؤں نے اپنے فیصلوں کے ذریعے پیدا کر دیا تھا۔یہ پاگل اس عہد کی تاریخ کا متبادل بیانیہ لکھتے ہیں ۔ اور اس بیانیے کا ہیرو بشن سنگھ ہے!

بشن سنگھ کے پاگل پن کے بیانیے کا تجزیہ کیا جاے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذہنی مریض نہیں ،ایک دیدہ ور (Visionary) ہے، مگر ایک ایسا دیدہ ور جس کی دیدہ وری اور بصیرت،اپنے لسانی تشکیلی مرحلے میں مسخ ہو گئی ہے۔چوں کہ اس کی دیدہ وری اپنی ’وجودیاتی سطح‘پر سلامت ہے،اس لیے وہ اسے کام میں لاتا اور اس کی روشنی میں فیصلے بھی کرتا ہے۔اس کا سب سے بڑا ثبوت اس کا آخری اقدام ہے۔زمین کے اس ٹکڑے پر اوندھے منھ گرنا ،جس کا کوئی نام نہیں ہوتا اور جس کے دونوں اطراف دو نئے ممالک ہیں، اس کا اختیاری فیصلہ تھا۔اور یہی فیصلہ دراصل اس بحران سے نکلنے کا واحد حل تھا ،جس میں بشن سنگھ تقسیم کی خبر سننے کے بعد گرفتار ہو گیا تھا۔
بشن سنگھ کے پاگل پن کے محرکات افسانے میں مذکور نہیں ہیں،بس یہ بتایا گیا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کئی زمینیں تھیں۔اچھا کھاتاپیتا زمیندار تھاکہ اچانک دماغ الٹ گیا۔اس کے دماغ کے الٹنے کے واقعے کو پندرہ پرس قبل بتایا گیا ہے۔اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے رشتہ دار وں نے اس کی زمینوں پر قابض ہونے کے لیے اسے پاگل بنا کر،اسے موٹی موٹی زنجیریں پہنا کر پاگل خانے چھوڑ گئے ہوں۔ہمارے یہاں ایسا اکثر ہوتا ہے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ باتیں بشن سنگھ کے اس جملے میں نشانیاتی تجسیم پا گئی ہیں جو وہ اکثر بولتا ہے۔’’ اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی وال آف دی لا لٹین ‘‘۔یہ بیان افسانے میں موتف کا درجہ رکھتا ہے۔اس بیان کو ڈی کوڈ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ

شدید جذباتی کیفیت میں ادا کیا گیا ،بے ربط اور بے معنی جملہ ہے۔اصل یہ ہے کہ یہ بے ربط تو ہے،بے معنی نہیں۔اس میں شعورِ عامہ کی سیدھی منطقی اور لسانی لکیر کو توڑا گیا ہے۔ اور یہ حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے بشن سنگھ اپنی دیدہ وری کو سلامت رکھنے میں کام یاب ہوتا ہے۔پہلے یہی دیکھیے کہ وہ اس جملے کا اظہار ایک سے انداز میں کرتا ہے۔اس کے بے ربط جملے کی لسانی ترتیب قایم رہتی ہے اور جب وہ اس جملے کے آخر میں حک و اضافہ کرتا ہے تو یہ بھی معنی خیز ہوتا ہے۔
غور کریں تو ’’اوپڑ دی گڑ گڑ ‘‘کے الفاظ ایسے صوتیوں کا مجموعہ ہیں،جن کے معانی زبان کی سیمانٹکس کے بجاے محض اس کے صوتی اثرات سے اخذ کیے جا سکتے ہیں۔اور یہ اثرات تشدّد کے ہیں۔یہ الفاظ بشن سنگھ کو پہنائی گئی موٹی موٹی زنجیروں سے واضح کنایاتی رشتہ رکھتے ہیں۔بے
دھیانا کا لفظ ان بے بصر لوگوں کے لیے ہے جو بشن سنگھ کی بصیرت کے ادراک سے قا صر ہی نہیں ،اس کے مخا لف بھی ہیں۔ابتدا میں یہ بے بصر لوگ اس کے رشتہ دار ہیں ،جو اسے پاگل خانے چھوڑ گئے تھے اور ہر مہینے اس سے ملاقات کی غرض سے آتے تھے۔اور بعد میں وہ لوگ جو اسے سرحد پر لے جاتے ہیں ۔منگ ،بشن سنگھ کی روح کے مطا لبے کا اعلامیہ ہے۔وال اس دیوار کا سیدھا سادا سگنی فائر ہے ،جو دو ملکوں،دلوں اور روحوں کے درمیان کھینچی گئی تھی۔لالٹین کو بغیر کسی ردو کد کے بشن سنگھ کی روح میں روشن دیے کا استعارہ قرار دیا جاسکتا ہے۔بشن سنگھ کی روح کا سب سے بڑا مطالبہ ہی یہ ہے کہ یہ دیا نہ بجھے ۔ظاہر ہے یہ بات افسانے میں براہ راست نہیں کہی گئی ۔دیکھیے :بشن سنگھ کے جملے یا افسانے کے موتف میں جب بھی تبدیلی ہوتی ہے ،وہ اس کے آخری حصے میں ہوتی ہے۔صرف لالٹین کا لفظ بے دخل ہوتا ہے۔غور کیجیے اس کو بے دخل کون سے الفاظ کرتے ہیں۔پاکستان گورنمنٹ اورگورو جی خالصہ اینڈ واہے گوروجی کی فتح۔لالٹین کی بے دخلی پہلی با ر اس وقت ہوتی ہے جب پاکستان گورنمنٹ اسے سرحد پار بھیجنے کا فیصلہ کرتی ہے۔اور دوسری بار جب اسے خدا بننے والا پاگل کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی جگہ کا تعین اس لیے نہیں کر سکا کہ وہ بہت مصروف تھااور اسے بے شمار حکم دینے تھے۔لہٰذا لفظ لالٹین کی Displacement کا محرک دونوں جگہ ’طاقت‘ ہے:سیاسی اور مذہبی طاقت۔افسانے میں بشن سنگھ کا بہ طور ہیر وکارنامہ یہ ہے کہ وہ طاقت کی ان دونوں صورتوں کے آگے جھکنے سے انکار کرتا

ہے۔یعنی اپنی روح میں روشن لالٹین کی حفاظت اپنی جان پر کھیل کر کرتا ہے۔اور ایک ایسے انداز میں اپنی جان دیتا ہے ،جس کی علامتی معنویت گہری ہے،اتنی ہی گہری جتنی ایڈی پس کے آنکھیں پھوڑنے کی ہے۔اس کا پندرہ برس تک اپنے پاؤں پر کھڑا رہنا ،اس کی استقامت کو ہی ظاہر کرتا ہے۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہاپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے روز بشن سنگھ کیوں اچھی طرح نہاتا تھا ،تیل لگا کر کنگھا کرتا تھا اور اپنے وہ کپڑے پہنتا تھا جو وہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا؟اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ اپنی (یا اپنے موقف) کی استقامت کا اعلان ان کے سامنے کرتا تھا ۔پاگلوں کی ایک قسم مالیخولیا کی ہوتی ہے۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مینیا قسم کے پاگلوں کے برعکس اپنی قوت متصورہ کے انتشار کا شکار نہیں ہوتے۔بشن سنگھ بھی انتشار کا شکار نہیں۔اگر ہوتا تو اس کی حرکات اور بیانات میں اس انتشارکا ظہار ضرور ہوتا۔ اس کے کردار کی استقامت ہی خاردار تاروں پر گر کر جان دینے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
اب اس افسانے کے تھیم کی تعمیم کریں تو یہ باتیں سامنے آتی ہیں:
*آدمی اپنے وجود کی شناخت ’فطری‘انداز میں کرتا ہے۔اس کی دھرتی اور اس سے وابستہ کلچر اسے فطری طریق سے پہچان دیتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں وجود کی شناخت کا عمل فلسفیانہ اور تجریدی نہیں۔
*وجود کی شناخت جب فطری طریق سے ہو تو اس کا تحفظ انسان کی سب سے بڑی وجودی ذمے داری بن جاتا ہے۔فلسفیانہ یا تجریدی انداز میں طے کی گئی اپنی شناخت پر سمجھوتا کیا جاسکتا ہے، اس میں تبدیلی کی جاسکتی،اس کی جگہ شناخت کا کوئی دوسرا متن یا ورژن قبول کیا جاسکتا ہے۔یعنی اس صورت میں طاقت کی کسی شکل کے آگے جھکا جا سکتا ہے،مگر ’فطری طریق‘ سے حاصل کی گئی شناخت ہر نوع کی طاقت کے آگے جھکنے سے انکار کرتی ہے۔
یہ ’’اصول‘‘ ظاہر ہیں ،افسانے کے داخلی تناظر کے پابند ہیں۔انھیں آفاقی اور لا زمانی اصولوں کے طور پر پیش کرناایک جسارت ہی ہو گی۔افسانے کا داخلی تناظر نو آبادیاتی ملک کی آزادی اور تقسیم ہے۔لہٰذا وجودی شناخت کے یہ اصول اسی تناظر میں تشکیل پاتے اور اپنی معنویت
متعین کرتے ہیں۔اہم ترین بات یہ ہے کہ اس اصول کا جتنا مستند (اپنے تناظر کے اندر)علم یہ افسانوی بیانیہ مہیا کرتا ہے،کوئی دوسرا متن مہیا کرنے کا اوّل دعوا نہیں کر سکتااور اگر کرتا ہے تو اسے منطقی اور تجربی استناد میں سے محض ایک حاصل ہوتا ہے۔

اب آئیڈیالوجی!
اردو کے بیش تر مابعد جدیدنقاد وں کی یہ راے گونج پیدا کر رہی ہے کہ ہر ادبی متن آئیڈیالوجیکل ہوتا ہے۔اس باب میں ان کی دلیل یہ ہے کہ آئیڈیالوجی زبان میں لکھی گئی ہوتی ہے اور ادبی متن چوں کہ زبان کے ذریعے قایم ہوتا ہے ،اس لیے اس میں آئیڈیالوجی کا عمل دخل لازمی ہے۔بہ ظاہر یہ راے ٹھیک ٹھاک وزنی لگتی ہے،مگر اصل میں یہ آئیڈیالوجی کی نوعیت اور
کارفرمائی کی پے چیدہ صورتوں سے لاعلمی ظاہر کرتی ہے۔دیکھیے،اگر آئیڈیالوجی زبان میں لکھی گئی ہے تو پھر اس کا عمل دخل ہر قسم کے لسانی اظہار میں ( ادبی ،صحافتی یا عام روزمرہ )ہونا چاہیے۔اور اس بات کو قبول کرنے کا مطلب اپنی آزادی کے ہر امکان کا انکار اور یہ تسلیم کرنا ہے کہ پوری سماجی اور ذہنی زندگی آئیڈیالوجی کے ناقابلِ شکست شکنجے میں گرفتار ہے۔ آئیڈیالوجی زبان میں ہی لکھی ہوتی،مگر پوری زبان میں نہیں،اس کی بعض صورتوں میں لکھی ہوتی ہے۔خاص طور پر ان صورتوں میں ،جن میں اشیا،اشخاص اور تصورات کے سلسلے میں ایک ترجیحی ،اقداری سلسلہ ،بیّن یا مخفی طور پر موجود ہو،یا ان صورتوں میں،جہاں چیزوں کو تاریخی اور اسرار آمیز بنا کر پیش کیا گیا ہو۔اگر کوئی افسانہ نگار زبان کی انھی صورتوں کو بروے کار لاے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ اس نے آئیڈیالوجی کو ہی پیش کیا ہے۔بیش تر ترقی پسند اور جدید؍علامتی افسانہ اس اعتبار سے آئیڈیالوجیکل ہے کہ اس میں زبان کی مخصوص اقداری صورتوں کو کام میں لایا گیا ہے ۔تاہم افسانے میں آئیڈیالوجی کی پیش کش کا ایک اور انداز بھی ہے۔اس میں آئیڈیالوجی کی ترجمانی کے بجاے اسے اور اس کی حکمت عملی کو منکشف کیا جاتا ہے۔پہلی صورت میں افسانہ نگار آئیڈیالوجی کو مستحکم کرتا ہے،خواہ وہ اس سے واقف ہو یا نہ ہو۔اور دوسری صورت میں وہ آئیڈیالوجی کی ’’چیرہ دستیوں‘‘ کا پردہ چاک کرتا ہے۔اس کی قابلِ رشک مثال پریم چند کا کفن ہے!
آئیڈیالوجیکل افسانوی متن بھی ’’ سٹوری‘‘ اور ’’ ڈسکورس‘‘کی ثنویت رکھتا ہے۔اورآئیڈیالوجیکل مطالعے میں دونوںیکساں طور پر اہم ہوتے ہیں۔کبھی صرف کہانی آئیڈیالوجی کو پیش یا منکشف کر دیتی ہے اور کبھی ڈسکورس کے غائر تجزیے سے ہی آئیڈیالوجی تک پہنچا جا سکتا ہے۔اور کبھی دونوں کو برابر اہمیت دینا پڑتی ہے۔ کفن میں دونوں یکساں اہم ہیں۔
کفن ہمہ بین واحد غائب کے ’’نقطہِ نظر ‘‘میں لکھا گیا افسانہ ہے ۔اصولی طور پر یہ نقطِ نظراس بیانیے کے لیے موزوں ترین ہے،جس میں راوی خود کو غیر جانب دار رکھنا چاہتا اور افسانوی عمل کو یہ آزادی دینا چاہتا ہے کہ وہ خود اپنی منطق کے تحت جاری رہے۔عام طور پر یہ نقطہِ نظر سماجی نوعیت کے بیانیوں میں اختیار کیا جاتاہے۔اور جہاں بیانیے کی نوعیت شخصی ہو یا سماجی بیانیے کو شخصی تجربے کے استناد کے ساتھ پیش کرنا مقصود ہو وہاں واحد متکلم کا ’’نقطہِ نظر‘‘ برتا جاتا ہے۔مگر ضروری نہیں کہ افسانہ نگار اس اصولی بات کا لحاظ رکھیں۔کفن اگرچہ واحد غائب کے نقطہِ
نظر میں لکھا گیا ہے اور اس سماجی بیانیے کے لیے یہی موزوں بھی تھا،مگر اس کا کیا کیا جاے کہ بیانیے میں راوی کئی مقامات پر خود کو غیر جانب دار نہیں رکھ پاتا ،مداخلت کرتا اور افسانوی عمل کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے،جو ایک دوسرے انداز میں آئیڈیالوجی کو افسانے پر مسلط کرنے کی کوشش ہے۔مثلاًمادھو اور گھیسو کے کرداروں کی وضاحت میں راوی کا یہ بیان اور خاص طور پر اس کا پہلا لفظ:’’ کاش دونوں سادھو ہوتے تو انھیں قناعت اور توکل کے لیے ضبطِ نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی۔‘‘راوی کی اس خواہش کے زمرے میں آتا ہے ،جو ان دونوں کی بد تر حالت کے بدلنے کے ضمن میں وہ اپنے دل میں رکھتا ہے۔ نیز وہ سادھووں کو ایک ترجیحی مقام دیتا ہے۔اسی طرح مادھو اور گھیسو کی ذہنیت کے تجزیے میں راوی کا یہ کہنا بھی افسانوی عمل میں مداخلت ہے:’’ ہم تو کہیں گے کہ گھیسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بین تھا اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔ہاں اس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ شاطروں کے آئین و آداب کی پابندی بھی کرتا۔‘‘ ۔۔۔ اس لیے کہ بیان کنندہ نہ صرف دو طبقات کا ترجیحی ،اقداری بیانیہ پیش کرتا ہے بلکہ طبقات کے لیے جن صفات (تہی دماغ ،فتنہ پرداز، شاطر)کا استعمال کرتا ہے ،وہ بھی غیر جانب دارانہ نہیں ، اقداری ہیں۔یہ کفن کے قاری کو اصل افسانوی عمل سے باہر کرداروں کے بارے میں راے قایم کرنے ترغیب دیتی ہیں۔
عام طور پر سمجھا گیا ہے کہ واحد غائب کے بیانیوں میں بیان کنندہ کی مداخلت کا امکان زیادہ ہوتا اور واحد متکلم کے بیانیوں میں یہ امکان کم ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ امکان دونوں جگہ یکساں ہے۔مداخلت،تیکنیکی طور پر متکلم یا غائب کا وہ بیان،وضاحت اور تعبیر ہے جو بنیا دی افسانوی منطق کے لیے زاید اور غیر ضروری ہی نہ ہوں،اسے متاثر بھی کرتی ہوں۔بیدی کا گرم کوٹ واحد متکلم میں لکھا گیا ہے،مگر اس میں بھی دو ایک مقامات پر متکلم مداخلت کا مرتکب ہوتا ہے۔مثلاً اس افسانے کا متکلم ؍راوی ، گرم کوٹ کی خواہش کرتا ہے ۔یہ خواہش جس محرک (دوسروں کے سوٹ )کے تحت پیدا ہوتی ہے ،اس کا تجزیہ بھی کرتا ہے ۔وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ نئے کوٹ کی خواہش ،دوسروں کے نئے کوٹ دیکھ کر ہی پیدا ہوتی ہے۔وہ یہ بھی اقرار کرتا ہے کہ اسے رفعتِ ذہنی سے زیادہ ورسٹڈ پسند ہے۔اس کے باوجود اس کا یہ تبصرہ’’ نئے نئے سوٹ پہننااور خوب شان سے رہنا ہمارے افلاس کا بدیہی ثبوت ہے۔‘‘ناگوار حد تک غیر ضروری تبصرے کی ذیل میں آتا ہے۔
بہ ہر کیف ،ابتدائی صفحات پر راوی کی مداخلت کے بعداورآگے کفن آئیڈیالوجی کو منکشف کرتا ہے، بنیادی افسانوی منطق کو پورے فنی وقار کے ساتھ قایم رکھتے ہوے! کفن کا موضوع ’’ بنیادی انسانی خواہش ‘‘ ہے۔وہ بنیادی خواہش ،جو حقیقی نہیں،مگر اسے کچھ ایسے تاریخی عمل کے ذریعے سماج میں رائج کر دیا گیا ہے کہ لوگ اسے فطری سمجھتے اور خود کو اس کے سپرد کر دیتے ہیں۔یہی نہیں وہ اس خواہش کا ایسا اسرار آمیز تصور بھی رکھتے ہیں کہ اس کی تکمیل کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد قرار دیتے ہیں۔اور اسی بر بس نہیں ،وہ اپنی زندگی کے اس بڑے مقصد کی تکمیل کے لیے اپنی دست رس میں اور دست رس سے باہر،ہر چیز کوداؤ پر لگانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔اور جب ان کی مراد بر آتی ہے تو وہ ’’ارتفاع ‘‘ کے غیر معمولی تجربے سے بھی گزرتے ہیں۔اور اس سارے عمل میں وہ بنیادی خواہش کے حقیقی اور آئیڈیالوجیکل ہونے کی رمز سے نا آگاہ رہتے ہیں۔واضح رہے کہ یہاں سوال آئیڈیالوجی کے چھوٹے بڑے ہونے کا نہیں ،اس کی کارکردگی کا ہے۔بعض اوقات آئیڈیالوجی بڑی ہوتی ،وسیع انسانی طبقے کی حقیقی فلاح کی ضامن ہوتی ہے اور کبھی یہ چھوٹی ہوتی اور ایک اقلیتی گرو ہ کے وقتی مفادات کا ایجنڈا رکھتی ہے،دوسروں کے مفادات کی قیمت پر ۔یہی صورت ادبی آئیڈیالوجی کی ہوتی ہے۔بہ ہر کیف ان سب صورتوں میں اس کی کارکردگی یکساں ہوتی ہے۔جو لوگ اور ادبا آئیڈیالوجی کے زیرِ اثر ہوتے ہیں ،وہ اسے ’حقیقی انسانی صورتِ حال ‘ سمجھ کر اس سے معاملہ کرتے ہیں مگر انسانی شخصیت میںآئیڈیالوجی کے آسیب نما عمل دخل کو ادبی متن منکشف کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔کفن ایک ایسا ہی ادبی متن ہے!
کفن کی کہانی مادھو اور گھیسو(باپ بیٹے )کی اس بنیادی خواہش کی تکمیل کی کہانی ہے،جو ایک خاص سماجی نظام میں انسانوں کی ’’روح‘‘کی عظیم طلب بن جاتی ہے۔یہ ایک طبقاتی سماجی نظام ہے:محنت کرنے والوں اور محنت کا استحصال کرنے والوں پر مشتمل طبقاتی نظام،جو بہ ہر حال ایک تاریخی عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے،تاریخی قوتوں پر ایک طبقے کے اجارے کے نتیجے میں!ایسے نظام میں افراد کی زندگیوں کے مقاصد غالب طبقے کی آئیڈیالوجی کی رو سے ،طے ہوتے ہیں۔جب یہ مقاصد طے ہو جاتے ہیں ، آئیڈیالوجی مستحکم ہو جاتی ہے تو مذکورہ طبقاتی نظام کو ’فطری انداز ‘ میں مستحکم ہونے کی سہولت از خود حاصل ہو جاتی ہے۔۔۔مادھو اور گھیسو کی بنیادی خواہش یا ان کی ’’ روح‘‘ کی طلب بہ عینہٖ وہی ہے جو غالب طبقے نے بہ طور آئیڈیالوجی سماج میں رائج کی ہے۔:عیاشانہ اور مسرفانہ مسرت۔طبقاتی سماج میں اس مسرت کا حصول ،زندگی کی سب سے بڑی قدر بن جاتا ہے۔
مادھو اور گھیسو کے پاس کچھ نہیں ،جس کا استحصال کیا جاسکے، نہ مال اور نہ محنت !اور نہ وہ مرتبے اور اختیار کی طاقت ہے کہ وہ دوسروں کا استحصال کر سکیں۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ استحصال کی خواہش ہی سے بے نیاز ہیں۔وہ محروم طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔اور لگتا ہے کہ ان کی محرومی ایک ایسا خلا بن گئی ہے جسے سماج کی حاوی آئیڈیالوجی بھر رہی ہے۔چناں چہ دیکھیے کہ وہ طبقاتی درجہ بندی میں سب سے نچلے درجے پر ہیں، مگر اپنے نقطہِ نظر اور عمل کے اعتبار سے بالائی
طبقے میں شامل ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ان کا نقطہِ نظر اور عمل ٹھوس مادی بنیاد کی عدم موجودگی کے سبب ایک طرح کا باطل شعوراوربھونڈی نقل ہیں۔بدھیاکی تکلیف سے لاپروا ہو کرآلو بھون کر کھاتے چلے جانا اور ایک دوسرے سے بڑھ کر کھانے کی حرص میں مبتلا ہونا،اور پھر کفن کے پیسوں سے دارو پینا، یہ بالائی طبقے کی استحصالی روشوں کی بھونڈی نقل ہی ہیں۔
آئیڈیالوجی کے نقطہِ نظر سے ،افسانے کا سب سے اہم حصّہ آخری ہے جہاں مادھو اور گھیسو شراب کے نشے میں دھت دکھاے گئے ہیں۔کفن کے پیسوں سے خریدی گئی شراب پی کر وہ ’’ ارتفاع‘‘ کے ’’غیر معمولی تجربے ‘‘سے گزرتے ہیں۔یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا تجربہ ہے،جس کی تمنا انھیں ہمیشہ رہی۔ ان کے بے ساختہ اظہارات سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی مراد ،عیاشانہ اور مسرفانہ مسرت کا حصول ہی ہے:’’ مرتے مرتے ہماری جندگی کی سب سے بڑی لالسا پوری کر گئی۔‘‘ اور ’’ہماری آتما پرسن ہو رہی ہے تو کیا اسے پن نہ ہو گا؟‘‘ ......یہ تجربہ ارتفاعی اس مفہوم میں ہے کہ وہ ’’ گہری مسرت‘‘ محسوس کرتے ہیں۔تاہم اتنی ہی گہری،جتنی ان کی ’’ روح‘‘ ہے۔نشان خاطر رہے کہ یہ ’’ مسرت‘‘ فقط شراب کے نشے سے طاری ہونے والی بے خودی کا دوسرا نام نہیں ہے،بلکہ ان کی داخلی بے داری کا نام ہے۔اصل یہ ہے کہ اس تجربے کے نتیجے میں ان کی ’’ بہترین ذہنی صلاحیتیں‘‘ بے دار ہو گئی ہیں اور وہ اس سماج پر تنقیدی راے ظاہر کرنے لگے ہیں،جس کی وہ خود پیدا وار ہیں۔
’’کیسا برا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چھپڑ بھی نہ ملے اسے مرنے پرنیا کپھن چاہیے۔‘‘
’’کپھن لگانے سے کیا ملتا ۔آکھر کو جل ہی جاتاکچھ بہو کے ساتھ نہ جاتا۔‘‘
’’ہاں بیٹا بے کنٹھ میں جاے گی۔کسی کو ستایا نہیں،کسی کو دبایا نہیں....وہ بے کنٹھ میں نہ جاے گی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائیں گے جو گریبوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹتے ہیں اور اپنے پاپ کو دھونے کے لیے گنگا میں جاتے ہیں مندروں میں جل چڑھاتے ہیں۔ ‘‘
کہا جا سکتا ہے کہ یہ سارے تبصرے اس احساسِ گناہ کو مٹانے کی عقلی کوشش ہیں جوبدھیا کے کفن کے پیسوں کو عیاشی پر لٹانے کا نتیجہ تھا۔گویا ان کے اندر اس قدر تو انسانیت باقی ہے کہ وہ اپنے اعمال کے خیر یا بد پر مبنی ہونے کا احساس کرسکتے ہیں۔ایک حد تک یہ بات ٹھیک بھی ہے،مگر یہ بھی دیکھیے کہ وہ اپنے احساسِ گناہ کو مٹانے کے لیے کس قسم کی کوشش کر رہے ہیں؟ وہ اپنے عمل کی تعبیر کے ذریعے ایک التباس پیدا کر رہے ہیں ۔بالکل ویسا ہی التباس ،جیسا آئیڈیالوجی پیدا کرتی ہے۔آئیڈیالوجی ،کسی عقیدے،نظریے کو فطری اور تاریخی بنا کر پیش کرتی ہے،حالاں کہ وہ فطری اور تاریخی ہوتے نہیں۔لہٰذا ان کا فطری ہونا التباس ہی ہے۔کفن میں بھی باپ بیٹا اپنی گفت گو سے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے ان میں انسانیت باقی اور وہ بنیادی انسانی اقدار کا علم رکھتے اور اپنے باطن میں ان کی پاس داری کی مبہم سہی،خواہش ضرور رکھتے ہیں۔شاید اپنے دگرگوں اور نا موافق حالات کی بنا پر وہ اپنی اس خواہش کی تکمیل میں ناکام رہے ہیں،لیکن یہ ساری کوشش ،واضح سماجی تجزیوں کے باوجود باپ بیٹے کے عمل کے’’عیاشانہ اور مسرفانہ پہلووں‘‘ کے کسی بھی درجے کے دفاع میں ناکام ہے۔تاہم ان پر تعبیر اور تبصرے کا ایک پردہ ضرور ڈالتی ہے!
Back to Conversion Tool

Globalization and Urdu

گلوبلایزیشن اور اردو زبان
گلوبلائزیشن معاصر عالمی صورتِ حال کا جزو اعظم ہے، مگر اس کا اس عالم گیر تصور انسانیت سے کوئی بنیادی تعلق نہیں جسے فلسفیوں اور شاعروں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش کیا ہے۔ہر چند گلوبلایزیشن بھی اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے ،یعنی یہ اچانک رونما نہیں ہوئی بلکہ رفتہ رفتہ اور متعدد عوامل کی باہمی عمل آرائی سے وجود پذیر ہوئی ہے، مگر اس کا جواز (legitmacy) تاریخ کی ناگزیریت میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔دوسرے لفظو ں میں گلوبلایزیشن پیدا کی گئی ہے۔ اس کی پیدایش میں معاون اور کار گر عوامل پر کنٹرول حاصل کر کے اس سے مختلف صورتِ حال کو پیدا کیا جا سکتا تھا، مگر یہ صورتِ حال ان قوتوں کے مفادات سے متصادم ہوتی جنھوں نے گلوبلایزیشن کو جنم دیا ہے۔ اینٹی گلوبلایزیشن کی تحریک کی بنیاد ہی اس شعور پر ہے کہ گلوبلایزیشن نہ فطری صورتِ حال ہے اور نہ ناگزیر تاریخی صورتِ حال۔یہ جن عوامل پر کنٹرول اور تصرف کا نتیجہ ہے،اگر ان پر تصرف کا حق دوسروں کو بھی دے دیا جاے تو ’’ایک دوسری دنیا ممکن ہے۔‘‘ گلوبلایزیشن کی پیدایش میں معاون اورکا رگر عوامل میں ایک عامل، لسانی بھی ہے۔انسانی معاملات پر کنٹرول حاصل کرنے میں زبان کا جو غیر معمولی کردار ہے، اسے گزشتہ صدی میں بہ طورِ خاص بروے کار لایا گیا ہے۔ اس امر کی مثال خود گلوبلایزیشن کی اصطلاح ہے۔ یہ اصطلاح اپنے مصرف و عمل میں آئیڈیالوجی کی طرح ہے،یعنی جن باتوں کو یہ اپنے بنیادی مفہوم کے طور پر پیش کرتی اور جن کے مبنی بر حقیقت ہونے پر اصرار کرتی ہے، انھی کے پردے میں یہ اپنے اصل مقاصد کو چھپاتی ہے۔ گلوبلایزیشن اشیا، تصورات اور اقدار کے گلوبل یعنی ’’عالمی اور مشترک‘‘ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، قوموں اور سرحدوں کے تصور کے خاتمے پر اصرار کرتی ہے، مگر عالمی سے مراد ایک یا چند ایک ایسے ممالک (کی اشیا و تصورات) لیتی ہے اور قوموں اور سرحدوں کے خاتمے پر زور اس لیے دیتی ہے کہ ان چند ممالک کی اجارہ داری کی راہ میں یہ دونوں حائل نہ ہوں۔ اس طرح گلوبلایزیشن اپنے لسانی اور کلامیاتی اظہار میں لا مرکزیت کی علم بردار ہے، مگر عملاً مرکزیت کے ایک تصور کو آفاقی تسلیم کرانے کی کوشش کرتی ہے۔اسی بنا پر نوام چومسکی گلوبلایزیشن کی مخالف تحریک کو اینٹی گلوبلایزیشن کہنے کے حق میں نہیں کہ اس طرح ان تصورات کے خاتمے کا اندیشہ ہے، جنھیں گلوبل سطح پر رائج ہونا چاہیے۔ خود کو اس نام سے موسوم کر کے گلوبلایزیشن در اصل ان تصورات اور اقدار کو فروخت کرتی ہے، جو گلوبلایزیشن سے کنونشنل طور پر اور عالم گیر تصور انسانیت سے اس کی لسانی نسبت کی وجہ سے عوامی شعور میں موجود ہیں۔
ضروری ہے کہ گلوبلایزیشن کو عالم گیر انسانی تصور سے الگ کیا جاے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے متوازی ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور اس کا فائدہ گلوبلایزیشن نے خوب اٹھایا ہے۔ گلوبلایزیشن کا وصفِ خاص سیاسی، معاشی اور ثقافتی غلبہ ہے، جب کہ عالم گیر انسانی تصور اس کے مقابلے میں ہر طرح اور ہر سطح کے غلبے کے خلاف ہے۔ یہ تصورتمام نسلی، جغرافیائی، مذہبی، لسانی، ثقافتی، معاشی امتیازات سے بالاتر ہونے اور کرہ ارض اور اس کے جملہ وسائل کو تمام انسانوں کی یکساں ملکیت قرار دینے سے عبارت ہے۔ اشراقی فلاسفہ سے لے کر اقبال تک ہمیں یہ تصور ملتا ہے۔ اشراقی فلاسفہ خود کو عالمی شہری یعنی Cosmopolis کہتے تھے۔ ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدا ے ما است۔ یا بہ قول اقبال:
درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دِلی، نہ صفاہاں نہ سمر قند
علاوہ ازیں متعدد فلاسفہ اور تخلیق کار جیسے سقراط، زینو، رومی، ڈی ایچ لارنس، سارترے، برٹرنیڈرسل وغیرہم خود کو عالمی شہری کہتے تھے اور کرہ ارض کو اپنا اور دوسروں کا یکساں طور پر گھر تسلیم کرتے تھے۔ دوسری طرف گلوبلایزیشن کا آغاز بھی قبل مسیح میں ہو گیا تھا۔ جب مشرقی ایشیامیں چین کی چاؤ چن اور ہان سلطنتیں وجود میں آئی تھیں، یا پھر ہندوستان کی موریہ اور گپتا حکومتیں قایم ہوئی تھیںیا میسوپوٹیمیا کی بابلی اور سمیری سلطنتیں ابھری تھیں اور سکندر اعظم نے جب پوری دنیا کو یونانیوں کے تابع کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ گلوبلایزیشن کی یہ ابتدائی شکل تھی اور اس میں سیاسی اور عسکری غلبے کی شدید خواہش تھی۔ اس غلبے کے بعد ثقافتی غلبے کی راہ خود بہ خود ہم وار ہو جاتی ہے۔ گلوبلایزیشن کا دوسرا عہد روشن خیالی کے زمانے سے شروع ہوا، جب یورپی اقوام نے اپنی سائنسی تحقیقات اور مخصوص فلسفیانہ تصو رات کی بہ دولت نو آبادیاتی نظام تشکیل دیا۔اس نظام کو صنعتی انقلاب نے مستحکم کیا اور یورپی اقوام نے ایشیا اورا فریقہ کے کئی ممالک پر قبضہ کر لیا۔ گلوبلایزیشن کی نو آبادیاتی شکل میں بھی عسکری، سیاسی، معاشی اور ثقافتی غلبے کو فوقیت حاصل تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد گلوبلایزیشن کا تیسرا عہد شروع ہوا۔ مقاصد کے اعتبار سے یہ عہد پہلے دو ادوار سے منسلک مگر طریق کار کے لحاظ سے نیا تھا۔ نوآبادیات کا تو خاتمہ ہوا، مگر گلوبلایزیشن کے مقاصد کا حصول جاری رہا۔ اب راست اقدام کے بہ جائے بالواسطہ اقدام کو زیادہ اہمیت ملی اور بالواسطہ اقدام کو بھی چھپانے کی غرض سے ڈسکورس یا کلامیے تشکیل دیے گئے اور انھیں رائج کیا گیا۔ GATT نامی معاہدے سے گلوبلایزیشن میں شدت پیدا ہوئی اور ڈبلیو ٹی او سے اس شدت میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔یہ تجارتی معاہدے بہ ظاہر یکساں معاشی قوانین کی حمایت کرتے ہیں مگر ان کا فائدہ ترقی یافتہ مغربی اقوام (بالخصوص امریکا) کو ہے، اسی بنا پر بعض لوگ گلوبلایزیشن کو امریکنائزیشن بھی کہتے ہیں۔
واضح رہے کہ عسکری، سیاسی، معاشی اور ثقافتی غلبے کو گلوبلایزیشن کا نام گزشتہ چند برسوں میں دیا گیا۔ گویا کبھی یہ بے نام رہی اور کبھی دوسرے ناموں کے پردے میں خود کو چھپاتی رہی ہے۔ پہلے یہ نو آبادیات کے پردے میں تھی اور جنگِ عظیم دوم کے بعد اس نے خود کو بین الاقوامیت (انٹرنیشنل ازم) کے طور پر پیش کیا۔ آج بھی کچھ لوگ گلوبلایزیشن اور انٹرنیشنل ازم کو ایک ہی چیز قرار دیتے ہیں۔ جنگِ عظیم دوم کے دوران میں بنی نوع انسان نے جس عظیم تباہی کا سامنا کیا، اس سے مستقبل میں بچنے کی غرض سے بین الاقوامیت کی تھیوری پیش کی گئی۔ بہ ظاہر اسے عالمی اخوت کے سیاسی تصور کے طور پر پیش کیا گیا، مگر اس کے عقب میں مغربی اقوام اور (امریکا بہ طور خاص) کے غلبے کی خواہش برابر موجود تھی۔ بین الاقوامیت کی حمایت آئن سٹائن نے بھی کی تھی۔ اس نے Why War? (جو فرائڈ کے ساتھ اس کی خط کتابت پر مشتمل ہے) میں عالمی حکومت کی تجویز پیش کی اور کہا کہ عالمی حکومت کی باگ ڈور امریکا، برطانیہ اور سوویت یونین کے پاس ہونی چاہیے۔ عالمی حکومت کے اختیارات کے ضمن میں اس عظیم سائنس دان نے جو کچھ کہا، وہ نہ صرف بین الاقوامیت کی آڑ میں گلوبلایزیشن کے مقاصد کا اعلامیہ ہے، بلکہ جسے آج بھی امریکاکی خارجہ پالیسی میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
"The World Government would have power over all military matters and need have only one further power: the power to intervene in countries where a miniority is oppressing a majority and creating the kind of instability that leads to war... There must be an end to the concept of non-intervention, for to end it is part of keeping the peace."
(Bruno Leone, Internationalism, P140)
بین الاقوامیت اور گلوبلایزیشن میں ایک یا چند ممالک کی مرکزیت اور اس مرکزیت کو باقی دنیا سے تسلیم کرانے کی مساعی، مشترک ہیں، مگر دونوں میں یہ ایک اہم فرق بھی ہے کہ بین الاقوامیت قومی حکومتوں اور قومی سرحدوں کو قایم رکھنے کے حق میں تھی۔ یہ دوسری بات ہے کہ عالمی حکومت کے تصور میں قومی حکومت کے کردار کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی گئی اور گلوبلایزیشن قومی حکومت اور سرحدوں کے خود مختار انہ کردار کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے، گویا بین الاقوامیت میں جو بات محض تصور کی حد تک تھی، اسے گلوبلایزیشن نے عملاً ثابت کر دکھایا ہے۔
گلوبلایزیشن کی صورتِ حال سادہ اور یک جہت نہیں ہے۔ ارجن اپا دراے نے اس کی پانچ شکلوں کی نشان دہی کی ہے۔
.i نسلی (Ethnoscapes) :لوگوں کی غیر معمولی نقل و حرکت، سیاحوں اور تارکین وطن کی کثرت۔
.ii معاشی (Finance scapes):زر کی نقل و حرکت، سٹاک ایکسچینج، آزاد تجارت، آئی ایم ایف وغیرہ۔
.iii نظریاتی (Ideo scapes):مختلف و متعدد نظریات، اور سیاسی آئیڈیالوجیز کی نقل و حرکت
.iv ابلاغی(Media scapes):اخبار، ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ کے ذریعے خبروں اور تصویروں کی نقل و حرکت
.v ٹیکنالوجی (Techno scapes):نت نئی ٹیکنالوجی کی نقل و حرکت
ارجن اپادراے نے گلوبلایزیشن کی لسانی، ثقافتی اور جمالیاتی شکلوں کی نشان دہی نہیں کی،حالاں کہ ان کی بھی نقل و حرکت ہو رہی ہے۔ گویا گلوبلایزیشن ایک ایسا مظہر ہے، جس میں ’’آزادانہ، متنوع اور بہ کثرت نقل و حرکت‘‘ بنیادی چیز ہے۔ اس نقل و حرکت کو ممکن بنانے کے لیے نئے تجارتی معاہدے (جیسے ڈبلیو ٹی او) ؛تجارتی ادارے (آئی ایم ایف، ورلڈ بینک) اور تجارتی بلاک (یورپی یونین، نیفٹا) قایم کیے گئے ہیں اور ان سب کے پیچھے ملٹی نیشنل کمپنیاں موجود ہیں۔ دنیا کی سیاست اور تجارت در اصل انھی کے ہاتھ میں ہے۔
گلوبلایزیشن کی آزادانہ اور متنوع نقل و حرکت کے اثرات تین طرح کے ہیں: سیاسی، معاشی اور ثقافتی۔ دوسرے لفظوں میں گلوبلایزیشن کے ذریعے ملٹی نیشنل کمپنیاں سیاسی، معاشی اور ثقافتی غلبہ حاصل کرتی ہیں اور اس کے لیے قانون شکنی سے لے کر قانون سازی، ہر طرح کے اقدامات کو جائز سمجھتی ہیں۔ تا ہم ان کمپنیوں نے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر ’’صارفیت کے کلچر‘‘ کو سب سے موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اور یہ کہنا غلط نہیں کہ گلوبلایزیشن کے اظہار کی جتنی بھی صورتیں ہوں، ان کے عقب میں صارفیت بہ طور ساخت موجود اور کار فرما ہے، اس طرح گلوبلایزیشن کی ہر نوع کی نقل و حرکت، صارفیت کے تابع ہے۔
گلوبلایزیشن اپنے صارفی مقاصد کے لیے ہر شے کی داخلی معنویت کو اولاً دریافت کرتی اور پھر اسے بروے کار لاتی ہے۔گلوبلایزیشن کا اشیا کی طرف روّیہ بے غرضانہ تحقیقی نہیں، جس کا مقصد محض انسانی علم میں اضافہ اوربے غرض مسرت کا حصول ہوتا ہے اور جس کا مظاہرہ کلاسیکی ادوار میں بالخصوص ہوتا رہا ہے۔ اب ہر شے کموڈیٹی ہے۔گویا پہلے اشیا کے ساتھ کم یا زیادہ تقدس وابستہ تھا، مگر اب اشیا محض اشیائے صرف ہیں۔ انھیں بیچا اور خریدا جا سکتا ہے۔ اشیا کی داخلی معنویت بہ جاے خود کوئی قدر نہیں رکھتی، قدر کا تعیّن صارفیت اور مارکیٹ کرتی ہے اور اشیا میں وہ سب کچھ شامل ہے جن سے انسان کی سماجی زندگی ممکن اور منضبط ہوتی ہے، جیسے زبان، آرٹ، اخلاق، میڈیا، ثقافتی اقدار، معاشی روابط، مذہب وغیر ہم۔ گلوبلایزیشن ان سب کو کموڈیٹی کا درجہ دیتی ہے۔ اور ان کی خرید و فروخت کے لیے نئی نئی منڈیاں تلاش کرنے میں سر گرم رہتی ہے۔
بہ ظاہر یہ بات عجیب نظر آتی ہے کہ زبان، آرٹ، ثقافت اور مذہب براے فروخت نہیں۔ عجیب نظر آنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم ان کے بارے میں ’’کلاسیکی‘‘ تصورات رکھتے ہیں۔ اور اس سے عجیب تر بات یہ ہے کہ گلوبلایزیشن انھی ’’کلاسیکی تصورات ‘‘کے وسیلے سے ان کی صَرفیت کو ممکن بناتی ہے۔ گلوبلایزیشن میڈیا اور اشتہارات کے ذریعے ان تصورات کو اُبھارتی اور لوگوں میں ان اشیا کے لیے ترغیب اور آمادگی بے دار کرتی ہے۔ اسی طرح اشیا سے متعلق کلاسیکی تصورات کا احیا نہیں ہوتا، بلکہ ان تصورات کا خاموش ،ہنر مندانہ استحصال کیا جاتا ہے۔ لوگوں /صارفین کو استحصال کی خبر تک نہیں ہوتی۔ اس ضمن میں شیرف حطاط (Sherif Hatata) کا یہ کہنا درست ہے کہ ’’عالمی مارکیٹ کو بڑھانے کے لیے صارفین کی تعداد بڑھانا ضروری ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صارفین ہر وہ چیز خریدیں، جسے براے فروخت پیش کیا جاے۔ اس کے لیے اشیاے صَرف کے مطابق ضرورتیں ’’پیدا‘‘ کی جائیں۔ اس ضمن میں ثقافت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ثقافت، عالمی صارف کو لازماً وضع و تخلیق کرے۔‘‘چناں چہ ثقافت، زبان، آرٹ وغیرہ گلوبلایزیشن کے صارفی مقاصد کے حصول میں بہ طور آلہِ کار استعمال کیے جاتے ہیں۔ گلوبلایزیشن کا یہ رویہ دنیا کی تمام ثقافتو ں، تمام زبانوں، آرٹ کی تمام صورتوں کی طرف یکساں ہے،مگر چوں کہ ترقی یافتہ، کم ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی ثقافتیں اورزبانیں ایک جیسی صارفی قیمت اور ایک جیسی صارفی اثر اندازی نہیں رکھتیں، ترقی یافتہ ممالک کی ثقافت و زبان کو دیگر پر صَرفی فوقیت حاصل ہے، اس لیے ان کے غلبے کی راہ خود بہ خود ہم وار ہو جاتی ہے۔
ثقافتکوعالمی صارف پیدا کرنے میں کیوں کر استعمال کیا جاسکتا ہے ،اس کی ایک عام مثال ویلنٹائن ڈے ہے۔یہ دن اب ہر سال ۱۴ فروری کو دنیا کے تقریباً تمام ممالک کے بڑے شہروں میں منایا جاتا ہے۔اس روز لوگ ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔محبت کے اظہار کے لیے نہ کوئی دن مقرر کیا جاسکتا ہے اور نہ کوئی خاص طریقہ،مگر گلوبلایزیشن نے دن بھی مقرر کردیا ہے اور طریقے بھی!یہ سارے طریقے دراصل صارفی کلچر کو تقویت پہنچاتے ہیں۔اس روز لوگوں میں محبت کا اضافہ تو نہیں ہوتا ،مگر طرح طرح کی اشیا کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ضرور ہوتا ہے ،یعنی بھلا محبت کانہیں ،صارفیت کا ہوتا ہے۔اس ضمن میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ صارفیت کسی ثقافتی مظہر کی بنیادی علامتی معنویت کو دریافت کرتی اورمیڈیا کے ذریعے اس کی وسیع پیمانے پر اشاعت کرتی ہے تا کہ اسے ایک گلوبل اور آفاقی علامت کے طور پر تسلیم کرایا جاسکے۔گلوبلایزیشن کے ماسٹر مائنڈ جانتے ہیں کہ ہر ثقافتی مظہر کسی قوم کے مجموعی تصورِ کاینات سے جڑا ہوتا ہے۔جب اس کی علامتی معنویت کو گلوبل اور آفاقی بنا کر پیش کیا جاتا ہے تو گویا اسے اس کے تصورِ کاینات سے کاٹ ڈالا جاتا ہے۔ گلوبلایزیشن میں ثقافتی مظاہر اپنے origin سے کٹ جاتے ہیں۔لوگ جب ان مظاہر کی نام نہاد آفاقی علامت کو قبول کرتے اور ان مظاہر کی رسومیات میں شریک ہوتے ہیں تو وہ ان کی ’’اصل‘‘ سے بے خبر اور لا تعلق ہوتے ہیں۔یہی دیکھیے کہ ویلنٹائن ڈے منانے والوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ تیسری صدی عیسوی سے تعلق رکھنے والے سینٹ ویلنٹائن کون تھے،کس بنا پر انھیں کلاڈیس دوم نے جیل میں ڈالا اور پھر سزاے موت دی تھی۔اس دن کی عیسائی تصورِ کاینات سے گہری نسبت ہے، مگر پوری دنیا میں اس دن کو منانے والے اس نسبت سے بے خبر یا لا تعلق ہوتے ہیں۔بے خبری یا لاتعلقی کی وجہ سے ثقافتی مظہر کو منانے میں اس ارتفاعی تجربے سے گزرنا ممکن ہی نہیں،جس سے اس ثقافتی مظہر کے تصورِ کاینات میں شریک لوگ گزرتے ہیں۔یہی صورت دیگر ثقافتی تہواروں کے ساتھ ہے۔خواہ وہ بسنت ہو،عید ہو،دیوالی ہو یا مشاعرہ ۔صارفیت تمام تہواروں کو ایک حقیقی ثقافتی تجربے کے بجاے انھیں تفریحی اور تجارتی سرگرمی میں بدل دیتی ہے۔

گلوبلایزیشن نے دنیا کی تمام زبانوں کو متاثر کیا ہے۔ ایک سطح پر یہ اثر یکساں ہے کہ تمام زبانوں کو کموڈیٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس وقت دنیا کی چھوٹی بڑی زبانوں میں جو مختلف ٹی وی چینلزکھلے ہیں، ان کا مقصد ان زبانوں کی بقا یا فروغ نہیں، بلکہ انھیں ان زبانوں کے بولنے والوں کی مارکیٹ میں بیچناہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ بالواسطہ طور پر ان زبانوں کوفروغ بھی مل رہا ہے۔ اسی طرح سوا حلی زبانوں اور مشرقِ وسطیٰ میں عربی کو بھی صارفی مقاصد کے تحت اہمیت دی جا رہی ہے۔ خود انگریزی زبان، جسے گلوبلایزیشن کی آفیشنل زبان اور موجودہ زمانے کی لینگوافرنیکا کہنا چاہیے، ایک کموڈیٹی ہے۔ انگریزی کو اس کی کلچرل اور اد بی حیثیت کی وجہ سے نہیں،اس کے لینگوافر نیکا ہونے کی وجہ سے اہمیت مل رہی ہے۔ چناں چہ انگریزی کے کلچرل یا ادبی پہلو کے بہ جاے، اس کے فنکشنل پہلو کو اہمیت دی جا رہی ہے اور فنکشنل انگریزی کا کوئی مخصوص مرکز نہیں ہے۔ ہر چند اس وقت امریکی انگریزی کا بول بالا ہے، کہ برطانوی انگریزی کے مقابلے میں امریکی انگریزی زیادہ فنکشنل ہے، مگر ہر جگہ اس کی صد فی صد نقل نہیں کی جا رہی ،نیز دنیا کے مختلف ممالک میں انگریزی کی مختلف قسمیں رائج ہیں۔جنوبی ایشیا میں بولی اور لکھی جانے والی انگریزی وہ نہیں ہے، جو برطانیہ یا امریکا میں رائج ہے۔ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا، پاکستانی انگریزی، ہندوستانی انگریزی سے مختلف ہے اور اس با ت سے اہل زبان انگریز پریشان ہیں کہ انگریزی زبان مسخ ہوتی جا رہی ہے۔Tove Skutnabb Kagesنے انگریزی کو گلوبلایزیشن کی آفیشل زبان ہونے کی وجہ سے قاتل زبان (Killer Language) کہا ہے، مگر اپنی مرکزیت سے محروم ہونے کی بنا پر یہ خود جگہ جگہ قتل ہو رہی ہے۔
دوسری سطح پر گلوبلایزیشن نے مختلف زبانوں کو مختلف طرح سے متاثر کیا ہے۔ گلوبلایزیشن صارفیت کے عمل کو بے روک ٹوک جاری رکھنے کی غرض سے ثقافتی یکسانیت چاہتی ہے اور اس کے لیے انگریزی زبان کو بہ طور خاص بروے کار لاتی ہے۔ یعنی انگریزی کے ذریعے ’’ثقافتی یکسانیت‘‘ قایم کی جا رہی ہے۔ ثقافتی یکسانیت کا مطلب دیگر اور متفرق ثقافتوں کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ اسی طرح انگریزی کے ذریعے دیگر اور متفرق زبانوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ یونیسکو کے’’ اٹلس آف دی ورلڈ لینگویجزان ڈینجر آف ڈس اپیرنگ‘‘ کے مطاق دنیا کی چھ ہزار زبانوں میں سے پانچ ہزار زبانوں کو ختم ہونے کا حقیقی خطرہ لاحق ہے۔ اور یہ سب گلوبلایزیشن کا کیا دھرا ہے۔ دنیا میں اس سے پہلے بھی زبانیں ختم ہوتی رہیں اور ان کی جگہ نئی زبانیں لیتی رہی ہیں،جیسے قدیم سومیری، بابلی، ہڑپہ، موہنجودڑو کی تہذیبوں کی زبانیں، سنسکرت، عبرانی، مگر ان کے خاتمے کے عوامل تاریخی تھے، جب کہ موجودہ زمانے میں زبانوں کے خاتمے کے اسباب سیاسی اور تجارتی ہیں۔ انگریزی کو گلوبل بنانے کی غرض سے دنیا کی ہزاروں زبانوں کو تہ تیغ کیا جا رہا ہے۔ کسی زبان کا خاتمہ ایک عظیم ثقافتی، تاریخی اور انسانی المیہ ہے۔زبان کے ختم ہونے سے ایک پوری ثقافت ختم ہو جاتی ہے۔ زبان ثقافت کو محفوظ ہی نہیں کرتی، ثقافت کو تشکیل بھی دیتی ہے اور یہ ثقافت انفرادی ہوتی ہے؛دنیا کے ایک مخصوص وژن اور منفرد ورلڈ ویو کی علم بردار ہوتی ہے۔ چناں چہ جب ایک زبان ختم ہوتی ہے تو دنیا کو دیکھنے کا مخصوص وژن بھی صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔اور یہ عظیم ثقافتی،بشریاتی المیہ ہے۔ اسی طرح ہر زبان تاریخ کے ایک مخصوص محور پر جنم لیتی ہے اور ہر زبان کی مخصوص نحوی ساخت اور معنیاتی نظام ہوتا ہے،نیز ہر زبان نے معاصر تاریخ کی کئی کروٹو ں کو محفوظ رکھا ہوتا ہے ،لہذا زبان کا خاتمہ، انسانی تاریخ کے ایک باب کا نابود ہو نا ہے۔
زبان انسانی گروہوں کو شناخت دیتی ہے۔زبان کے خاتمے سے ایک انسانی گروہ اپنی شناخت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس نے دنیا اور کائنات سے جو رشتہ قرنوں کی گرد آلود مسافت کے بعد قایم کیا ہوتاہے، زبان کے خاتمے سے اس رشتے کی ڈوراس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے اوروہ گر وہ در بدر ہو جاتا ہے۔ اس المیے کا احساس گلوبلایزیشن کو نہیں ہے، تا ہم دنیا میں بعض ایسی تنظیمیں موجود ہیں، جو ختم ہوتی زبانوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔
گلوبلایزیشن ثقافتی و لسانی یکسانیت کی زبردست مداح اور ما بعد جدیدیت کے بر عکس ثقافتی و لسانی تنوع (Diversity) کی مخالف ہے،حالاں کہ تنوع نہ صرف حیاتیاتی سطح پر توازن اور ارتقا کے لیے ضروری ہے بلکہ سماجی، تخلیقی اور فطری زندگی کے ارتقا کے لیے بھی لازم ہے۔کیپرا (Fritjof Capra) نے بعض انواع کے خاتمے کو پوری حیاتیاتی اقلیم کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق حیاتیاتی ا قلم ایک جال کی طرح ہے۔ایک جوڑ اس جال سے ٹوٹتا ہے تو باقی جوڑ ڈھیلے پڑنا اور ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کچھ یہی صورت انسانی ثقافت کی ہے۔ کسی ایک ثقافت یا زبان کا خاتمہ ’’عظیم ثقافتی جال‘‘ کے ٹوٹنے پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اوکتاویوپاز نے کہا تھا ’’کوئی تصور کائنات جب ختم ہوتا یا کوئی کلچر فنا ہوتا ہے تو زندگی کا ایک امکان ختم اور فنا ہو جاتا ہے۔‘‘میکسیکن شاعر کی یہ بات محض شاعرانہ نہیں ہے۔یہ سائنسی صداقت ہے کہ ہر زبان (جو کسی کلچر کی علم بردار ہوتی ہے) انسانی شعور کی مختلف اور منفرد صورت کو پیش کرتی ہے۔ زبان (اور کلچر) کے خاتمے سے اس انسانی شعور کا خاتمہ ہوتا ہے۔ گلوبلایزیشن کو نہ تو عظیم ثقافتی جال سے کوئی دل چسپی ہے ،نہ زندگی کے متنوع ا مکانات سے۔
گلوبلایزیشن اولاً جسے ثقافتی یکسانیت کہتی ہے، وہ آگے چل کر ثقافتی و لسانی اجارہ داری میں بدل جاتی ہے۔ ایک زبان اور ثقافت، دوسری زبانوں کو بے دخل اورمسخ کرنا شروع کر دیتی ہے، تا کہ اپنے غلبے کو ممکن بنا سکے۔ ایسا اسی وقت ہو تاہے،جب گلوبل زبان (یہاں مراد انگریزی) مخصوص طاقت رکھتی ہو۔ گلوبلایزیشن روایتی طاقت (جیسے طبعی، عسکری، زرودولت) اور طاقت کے روایتی مفاہیم (جیسے سیاسی، معاشی، قومی) سے کوئی علاقہ نہیں رکھتی اور نہ انھیں اپنے مقاصد سے ہم آہنگ پاتی ہے۔ گلوبلایزیشن کے لیے طاقت کا مفہوم ’’علم‘‘ ہے اور علم سے مراد محض صداقت اور حق نہیں، بلکہ وہ سب کچھ ہے،جو کسی بھی چیز کے بارے میں کسی بھی نوع کی آگاہی، خبر، اطلاع یا معلومات فراہم کرتا ہے۔اس آگاہی کا کوئی اقداری درجہ نہیں ہے۔ کسی چیز کے بارے میں سچ بھی اتنا ہی اہم ہے، جتنا جھوٹ۔ایلون ٹافلر (Alvin Toffler) نے اپنی معروف کتاب ’’پاور شفٹ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’باطل حقائق، دروغ، سچے حقائق، سائنسی قوانین، مسلمہ مذہبی صداقتیں، سب ’علم‘کی قسمیں ہیں‘‘، اس لیے ان سب میں ’’طاقت‘‘ ہے۔یہ کسی صورتِ حال کو پیدا کرنے یا پہلے سے موجود صورتِ حال کو بدلنے کی یکساں صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بات اہم نہیں کہ کسی چیز کی اپنی داخلی قدر یا سچائی کیا ہے، اہم بات یہ ہے کہ اس قدر کو اپنے مقاصد کے مطابق کیسے ڈھالا جا سکتا اور بروے کار لایاجا سکتا ہے۔ چوں کہ موجودہ علم کی بیش تر صورتوں کو انگریزی زبان پیش کر رہی ہے، اس لیے یہ زبان غیر معمولی ’’طاقت‘‘ رکھتی ہے۔ اس طاقت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ مثلاً اقوام متحدہ کی چھ سرکاری زبانیں (انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، عربی،جرمن، روسی) ہیں، مگر ۹۷222 انگریزی استعمال ہوتی ہے۔اسی طرح ویب کی زبان بھی زیادہ تر انگریزی ہے۔ ویب جس نے دنیا کو ’’عالمی گاؤں‘‘ بنایا ہے۔
گلوبلایزیشن کے اردو پر بیش تراثرات تو وہی ہیں، جو دنیا کی دوسری زبانوں پر ہیں اور انگریزی کا اردو کے ضمن میں وہی قاتل زبان کا کردار ہے، تا ہم بہ حیثیت مجموعی گلوبلایزیشن نے اردو زبان کو درج ذیل حوالوں سے متاثر کیا ہے۔
اردو زبان کا شمار ان زبانوں میں بہ ہر حال نہیں ہوتا، جو گلوبلایزیشن کے زہریلے اثرات کی وجہ سے مر رہی ہیں یا مرنے کے قریب ہیں۔ کوئی زبان اس وقت تک نہیں مرتی،جب تک اس کو بولنے والے موجود ہوں۔اردو میں اگر بولی جانے والی ہندی بھی شامل کر لی جاے تویہ چینی اور انگریزی کے بعد تیسری بڑی زبان ہے۔ تاہم غور طلب بات یہ ہے کہ کم بولے جانے کے باوجود انگریزی ،چینی کے مقابلے میں طاقت ور ہے۔اس کا صاف مطلب ہے کہ کسی زبان کی طاقت کا تعیّن اس کے بولنے والوں کی تعداد سے نہیں ہوتا۔ خود ہمارے ملک میں پنجابی بولنے والوں کی تعداد ملک کی کل آبادی کا ۴۴222 ہے، جو سب سے زیادہ ہے، جب کہ انگریزی بولنے والوں کی تعداد سب سے کم ہے، مگر اسے تمام پاکستانی زبانوں اور اردو کے مقابلے میں مقتدر حیثیت حاصل ہے۔ بول چال کی وجہ سے زبان زندہ ضرور رہتی ہے، مگر زبان کو اقتداری حیثیت اس وقت حاصل ہوتی ہے، جب وہ ’’طاقت‘‘ رکھتی ہو۔ ڈاکٹر طارق رحمان طاقت سے مراد ایسی صلاحیت لیتے ہیں، جو زبان بولنے والوں کو زیادہ سے زیادہ "means of gratification"حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تسکین کے ذرائع طبعی (جیسے گھر، کار، اچھی خوراک، روپیہ پیسہ) اور غیر طبعیّ (جیسے اناکی برتری، عزتِ نفس ،تکریم، بلند سماجی مرتبہ) دونوں ہو سکتے ہیں۔ جو زبان تسکین کے جتنے زیادہ ذرائع مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو گی، اتنی ہی طاقت ور ہو گی۔ ڈاکٹر طارق رحمان نے طاقت کا یہ تصور پاکستانی تناظر میں پیش کیا ہے۔ باقی دنیا میں انگریزی تسکین کے طبعی ذرائع مہیا کرتی ہے، یعنی بڑے مالیاتی، ابلاغی اور تحقیقی اداروں میں اعلا ملازمتیں دلاتی ہے، مگر پاکستان (اور بعض دوسرے سابق نو آبادیاتی ممالک ہیں) میں اس کے علاوہ انگریزی انا کی برتری، تکریم اور بلند سماجی مرتبے سے بھی وابستہ ہو گئی ہے اور یہ وابستگی گلوبلایزیشن کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے نو آبادیاتی پس منظر کی وجہ سے مدت سے موجود ہے، تا ہم گلوبلایزیشن نے اس وابستگی کو مزید پختہ کیا ہے۔اس امر کی معمولی مثال یہ ہے کہ اردو بولتے ہوے جب اپنی برتری کا اظہار مقصود ہو،حکم دینا ہو،کسی ماتحت کو ڈانٹنا ہو،کسی پر اپنی ناراضگی ،غصے کا اظہار کرنا ہو تو مختصر انگریزی جملوں کا استعمال فراوانی سے کیا جاتا ہے۔شٹ اپ،ڈونٹ ڈسٹرب می،یو باسٹرڈ،ایسے مختصر جملے اردو میں عام ہیں۔ان کا کوئی لسانی جواز نہیں۔ایسا نہیں کہ اردو میں ان جذبات یا خیالات کے اظہار کے لیے موزوں الفاظ نہیں ہیں، بلکہ مقصود لسانی ذریعے سے اپنی سماجی برتری کا اظہارہے۔ یہ جملے زیادہ تروہیں برتے جاتے ہیں جہاں فریقین میں سماجی،علمی،طبقاتی،اختیاراتی یا سن و سال کا بعد لازماً موجود ہو ۔ کہیں جذباتی شدت کے اظہار کے لیے بھی مختصر انگریزی جملوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔اور یہ بھی ان مواقع پر جب جذباتی شدت کا مفہوم ،جذباتی برتری اور اپنی جذباتی کیفیت کا پر زور اثبات ہو۔بائی گاڈ ایسا نہیں ہے۔آئی ایم ناٹ کریزی ابوٹ دیٹ مسٹر فلاں فلاں۔آف کورس،میں ہرٹ ہوا تھا۔
اسے گلوبلایزیشن کا اثر ہی کہنا چاہیے کہ اب نام ور بزرگ اردو ادبا انگریزی میں لکھنے لگے ہیں۔ انگریزی میں لکھنا بہ جائے خود معیوب نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ وہ کن لوگوں کے لیے انگریزی میں لکھتے ہیں؟ غیر ملکی انگریزی قارئین کے لیے تو بالکل نہیں، اس لیے کہ غیر ملکی قارئین کو نہ پاکستانی انگریزی سے دل چسپی ہے اور نہ ان موضوعات سے، جن پر اردو ادبا خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ ہمارے اردو ادبا کے انگریزی کالموں اور مضامین کے موضوعات اردو ادب، مقامی تقریبات، اردو کتب، اردو ادبا ہوتے ہیں، لہذا حقیقت یہ ہے کہ ان بزرگوں کے اصل مخاطب اردو قارئین یا انگریزی میں شدھ بدھ رکھنے و الے اردو قارئین ہیں۔ پاکستانی انگریزی خواں طبقہ بھی ان کالم نگاروں کے موضوعات سے اور خود اردو سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتا۔اس لیے سوال یہ ہے کہ اردو قارئین سے انگریزی میں تخاطب کس لیے؟ اس سوال کا جواب اس ’’پاور گیم‘‘ میں تلاش کرنا چاہیے، جو گلوبلایزیشن کی بساط پر کھیلی جا رہی ہے۔ اس گیم میں زبانیں، ثقافتیں، فنون سب مہرے ہیں۔کسی مہرے کی اپنی آزاد حیثیت میں کوئی قیمت یا طاقت نہیں؛ اس کی قیمت اور طاقت اس کھیل میں کام یابی یا نا کامی کے تناسب سے ہے۔اور کامیابی و ناکامی کا مفہوم تجارتی اور سماجی ہے۔اور سیدھے سادے لفظوں میں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اردو کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والے ادیب انگریزی میں کالم لکھ کر اردو قارئین میں ہی مزید سماجی مرتبہ اورنیا امتیاز حاصل کرتے ہیں۔
گلوبلایزیشن زبانوں (اور اس میں اردو بھی شامل ہے)کی بقا و ترقی کا ایک نیا ’’اصول‘‘ پیش کرتی ہے۔ یہ کہ زبان محض بول چال کی وجہ سے نہیں، اپنی اقتداری حیثیت کی وجہ سے باقی رہتی ہے اور ترقی کرتی ہے۔ بول چال، زبان کوثقافت سے سرفراز کرتی ہے، مگر اقتداری حیثیت زبان کو ’’طاقت‘‘ دیتی ہے۔ پہلے یہ خیال تھا کہ زبان اپنی ثقافت کی وجہ سے اور ثقافت کے زور سے زندہ رہتی ہے، مگر اب یہ باور کیا جانے لگا ہے کہ زبان ’’طاقت‘‘ کی وجہ سے رائج ہوتی اور ترقی کی منزلیں مارتی ہے۔ گلوبلایزیشن کے زمانے میں جو زبانیں محض اپنے ثقافتی تفاخر کی وجہ سے زندہ رہنے کا خواب دیکھ رہی ہیں، وہ عالمِ غفلت میں ہیں۔انھیں یا تو ’’طاقت‘‘ حاصل کرنا ہو گی، یا پھر اس وقت کا انتظار کرنا ہو گا، جب ثقافت، طاقت میں بدل جائے گی یا پھر ثقافت کی داخلی قدر کو اہمیت ملنا شروع ہو جائے گی۔ دنیا میں نوے فیصد کے قریب جو زبانیں مر رہی ہیں، وہی ہیں جو ثقافت تو رکھتی ہیں مگر ’’طاقت‘‘ سے محروم ہیں۔
گلوبلایزیشن نے ارد زبان کو جس دوسرے زاویے سے متاثر کیا ہے، اسے عملی یا فنکشنل کا نام دیا جا سکتا ہے۔ فنکشنل انگریزی کی طرح، فنکشنل اردو رائج ہو رہی ہے۔ہر فنکسنل زبان، زبان کی روایت، جمالیاتی اور اظہاری اقدار کے بہ جاے زبان کی عملی ضرورتوں کے تابع ہوتی ہے۔ وہ استناد اور وایت کے بہ جائے سادہ، راست ، سریع اور پر زورابلاغ کو اہمیت دیتی ہے۔ پاکستان میں جو حال فنکسنل انگریزی (جسے ’انگلش کا نام دیا گیا ہے) کا ہے، اس سے بد تر حال فنکسنل اردو کا ہے، جسے بعض لوگ ’اردش کا نام دیتے ہیں، ’انگلش میں اردو الفاظ کا بے موقع استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ جیسے Jamaat Staged Dharna یا اردو انگریزی کو ملا کر وضع کی گئیں تراکیب، جیسے Mini-Jirga, Mohalla-wise, Desi Liguor, Obsreving Parda و غیرہم اور فنکشنل اردش میں انگریزی الفاظ کو کثرت کے ساتھ موقع بے موقع لایا جاتا ہے، مثلاً:
’’ایف ایم کی وجہ سے ریڈیو کے لسنرز انکریز ہوئے ہیں۔‘‘
’’ایم ٹی وی کے ویورز میںینگسٹرز کی تعداد سب سے زیاد ہ ہے۔‘‘
’’پاکستان کی اکانوی ڈے بائی ڈے ڈیکے کی طرف جا رہی ہے۔‘‘
’’میرے فادر کی ڈیتھ پر میرے ریلیٹوز نے میری پارٹیکولرلی ہیلپ نہیں کی۔‘‘
’’ٹی کو ٹیسٹی بنانے کے لیے اس میں شوگر کی کوانٹیٹی لٹل ہونی چاہیے۔‘‘
’’آج کا کریٹک اپنے لٹریچر کی ٹریڈیشن کا کوئی نالج نہیں رکھتا۔‘‘
’’پلے جیرازم یونی ورسٹیوں کی ریسرچ کا بگ اشوہے۔‘‘
’’اربن ایریاز میں کرپشن کی ریشو ہائی پیک پر ہے۔‘‘
اس طرح کے سیکڑوں جملے ہم دن رات سنتے ہیں، جن کی نحوی ساخت تو اردو کی ہوتی ہے، مگر جملے آدھے سے زیادہ انگریزی کے الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان جملوں کا تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اردو پر انگریزی کا اثرپے چیدہ اور تہ دار ہے:نہ صرف انگریزی کے اسما،افعال،متعلق فعل،اسم صفات ،ضمائر،حروف جار کثرت سے استعمال ہو رہے ہیں بلکہ مارفیمیاتی سطحوں پر بھی اردو اور انگریزی کو آمیز کیا جارہا ہے ۔سیٹوں،ہوٹلوں،ڈگریوں،انسٹی ٹیوٹوں،بوریت،سکیمیں،ریفیوجیوں وغیرہ،یہ مارفیمیاتی آمیزش کی مثالیں ہیں۔ اس طرح کی ز بان زیادہ تر ریڈیو، ٹی وی چینلوں ،سرکاری دفتروں،تعلیمی اداروں،نجی اور سرکاری تقریبات میں سنائی دیتی ہے۔
یہ درست ہے کہ اردو میں انگریزی الفاظ کی آمد کا سلسلہ، انگریزی کی آمد کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔یعنی اس وقت جب ہندستان ایک نئی قسم کی ذو لسانیت سے دوچار ہوا۔برصغیر اپنی تاریخ کی ابتدا ہی سے کثیر لسانی معاشرہ رہا ہے ، مگر انگریزوں کی آمد کے بعد یہ ایکمنفرد لسانی صورتِ حال میں مبتلا ہوا۔لسانی سطح پر انگریزی اور اردو سمیت دوسری زبانوں میں ایک نئے قسم کا ربط ضبط شروع ہوا۔نو آبادیاتی عزائم :طاقت کے ذریعے غلبہ اور استحصال ، اس ربط ضبط کی بنیاد تھے۔چناں چہ انگریزی اور اردو کے تعلق میں انگریزی شروع سے ہی نہ صرف طاقت کی علم بردار بلکہ طاقت کی علامت بھی رہی ہے۔اس میں شک نہیں کہ اس وقت سیکڑوں انگریزی الفاظ اردو زبان کا نامیاتی حصہ ہیں:جیسے سٹیشن، پنسل، ریڈیو، سٹیشنری، سکول، کالج، یونی ورسٹی، گورنمنٹ، انسٹی ٹیوٹ، ریلوے، کمپیوٹر اور دیگر۔اور یہ سب الفاظ اردو کی ثروت میں اضافے کا موجب ہیں۔ اس لیے کہ انھوں نے اردو میں ایک خلا کو پر کیا ہے۔ یعنی یہ ایسے الفاظ ہیں جن کے مترادف و متبادل موجود نہیں تھے اور اگر تھے تو اس مفہوم کو ٹھیک طرح سے ادا نہیں کرتے تھے، جس مفہوم کے علم بردار انگریزی الفاظ ہیں۔ لہٰذایہ الفاظ اردو زبان کی نمو کی داخلی طلب کے جواب میںآے ہیں، اسی طرح محتاط انداز میں وضع کی گئیں انگریزی الفاظ کی نئی مارفیمیاتی شکلیں بھی گوارا کی جاسکتی ہیں،مگر اسسے ہٹ کر جو صورتِ حال ہے، اسے اردو زبان پر انگریزی کے قاتلانہ حملے سے تعبیر کرنا چاہیے۔ اردو زبان نہ صرف اپنی شناخت سے محروم ہوتی جا رہی ہے، بلکہ اس سے بولنے والوں کا لسانی شعور بھی مسخ ہو رہا ہے۔زبان اور انسانی شعور میں گہرا تعلق ہے۔ تازہ لسانی تحقیقات تو یہ تک کہتی ہیں کہ انسانی لا شعور (جو شعور پر حاوی ہوتا ہے) زبان کی طرح اور زبان سے ساخت پاتا ہے، لہذا کسی سماج میں اگر لسانی بدنظمی پھیل جاے تو اس کا لازمی اثر اس سماج کے افراد کے شعور و ادراک پر ہو تا ہے۔
ہم تحقیق سے بے زار قوم ہیں،ورنہ اس پہلو پر تحقیق کی جانی چاہیے کہ ہماری سماجی بد نظمی اور ثقافتی انتشار کا تعلق کس حد تک لسانی بد نظمی سے ہے۔سماجی نظم اور ثقافتی استحکام ،اقدار پر منحصر ہے اور اقدار، زبان میں ہی نہیں ،زبان کی وجہ سے اپنا وجودرکھتی ہیں۔جب اقدار کا ذریعہ اور ہیئت بد نظمی کا شکار ہو گا تو نتیجہ ظاہر ہے!
ان دنوں کثرت سے برتے جانے والے انگریزی الفاظ کے اردو زبان میں نہ صرف مترادف موجود ہیں (لسنرز کا سامعین، ویورز کا ناظرین، شارٹ بریک کا مختصر وقفہ، اکانوی کا معیشت، ڈیکے کا انحطاط،ڈیتھ کا موت،ریلٹوز کا رشتے دار،ہیلپ کا مدد،پلے جیر ازم کا سرقہ،اربن ایریاز کا شہری علاقے) بلکہ یہ سہل اور عام فہم بھی ہیں۔ انگریزی الفاظ کے بے جا استعمال کا کوئی لسانی جواز موجود نہیں۔ تا ہم اس فنکشنل اردو کا جواز اسی ’’پاور گیم‘‘ میں بہ ہر حال موجود ہے، جس کا ذکر پیچھے ہو چکا ہے۔ اسے ’’پاور گیم‘‘ کی ہنر مندانہ حکمتِ عملی کہیے یا لوگوں کی سادہ لوحی کہ اس کا حصہ وہ افراد اور ادارے بھی بن چکے ہیں، جو کبھی اردو زبان کی روایت اور اصل کے پاسبان تھے۔ ایک زمانے میں ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی اردو زبان کیمستند استعمال کی مثال تھے، مگر آج وہ بھی زمانے کا چلن دیکھ کر اردو کے ثقافتی کردار کو ترک کر چکے اور فنکشنل اردو کا بے محابا استعمال کر رہے ہیں۔نو آبادیاتی اثرات کو یہ ادارے جھیل گئے تھے،مگرگلوبلایزیشن کے آگے یہ ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ شاید اس خوف کی وجہ سے کہ ثقافتی اردو کا مشن لے کر وہ’صارفی منڈی‘ میں پٹ جائیں گے۔انھیں بھی قومی شناخت اور ثقافت کے بجاے ڈھیروں ڈھیر منافع عزیز ہے۔
گزشتہ دنوں اردو کے ایک جاپانی پروفیسر نے لاہور میں ایک ادبی تقریب میں اردو سے اپنی محبت کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے ہوٹل کے کمرے میں ٹی وی چلایا اور چاہا کہ پی ٹی وی دیکھیں، محض اس نیت سے کہ انھیں پر لطف اور معیاری زبان سننے کو ملے گی، مگر انھوں نے تھوڑی ہی دیر بعد ٹی وی بند کر دیا کہ پی ٹی وی پر اردو نہیں، انگریزی نما جناتی زبان بولی جا رہی تھی۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں ایک حقیقی صورتِ حال کا اظہار ہے ۔یہی حال ہمارے شعرا،ادبا اور بیش تر اساتذہ کا ہے۔ میر ہو، میرزا ہو کہ میرا جی ہو، اس حمام میں سب ننگے ہیں اور جو اس حمام سے دور اور اپنے ستر کی حفاظت کیے ہوئے ہیں،وہ تسکین کے طبعی اور غیر طبعی ذرائع سے محروم ہیں اور کتنے لوگ ہیں جو تسکین و طاقت کی طلب سے ماورا ہوں اور صوفیانہ مسلک رکھتے ہوں۔خیر ہمارے یہاں تو تصوف کو بھی مارکیٹ کی چیز بنا دیا گیا ہے۔اس کی باقا عدہ تعلیم و تدریس شروع ہو گئی ہے اور پڑھانے والے فی لیکچر اچھا خاصا معاوضہ وصول کرنے لگے ہیں۔
فنکشنل اردو کے حق میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ چوں کہ اس کا ابلاغ ہوتا ہے، اس لیے یہ جائز ہے۔ان صاحبان کے نزدیک زبان کا بنیادی وظیفہ اس کا ابلاغ ہی ہے۔وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہکثیرلسانی معاشروں میں زبانوں کی آمیزش کے عمل پر نہ تو قابو پایا جاسکتا ہے اور نہ قابو پانے کی کوشش مستحسن ہے۔ظاہر ہے یہ سادہ لوحی ہے اور ان معاشروں میں رائج ہو تی ہے جن میں تاریخ اور تاریخی عوامل کو سمجھنے کے بجاے تاریخ کے آگے بے دست و پا ہونے کا رویہ عام ہوتا ہے۔جہاں تاریخ اور اس کی حرکیا ت کو سمجھنے کی اجتماعی روش موجود ہو وہاں تاریخ کے جبر سے آزادی کی خواہش اور تاریخی قوتوں کو اپنے بس میں لا کر تاریخ کے دھارے کا رخ بدلنے کا عزم بھی موجود ہوتا ہے۔ان سادہ لوحوں کے نزدیک کثیر لسانی صورتِ حال تاریخی جبر ہے ،جس سے بچنے کی کوئی صورت ہمارے پاس نہیں ہے۔خیربات یہیں تک محدود ہوتی تو امید کی جاسکتی تھی کہ جبر کو محسوس کر کے اس کے خلاف کسی نہ کسی درجے کی مزاحمت بھی کی جاے گی،مگر المیہ یہ ہے کہ ’’تاریخی جبر‘‘کو ناقابلِ شکست تاریخی اصول سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کے آگے اسی طرح سر تسلیم خم کیا جاتا ہے جس طرح مابعدا طبیعیاتی قوت کے آگے تقدس بھرے جذبات سے جھکا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اردو اور انگریزی کا تعلق تاریخی عمل کا نتیجہ ہے ،مگر یہ عمل فطری اور ناگزیر نہیں تھا۔اس تاریخی عمل کی رفتار اور جہت پر ایک سیاسی قوت کا غلبہ تھا۔غور کیجیے :ہم بلاشبہ کثیر لسانی معاشرے کے افراد ہیں ،مگر کیا ہم انگریزی کی طرح دوسری زبانوں کو بھی اردو میں اسی انداز میں آمیز کرتے ہیں؟ یقیناًکرتے ہیں ،مگر دونوں کے اثرات یک سر مختلف ہیں۔اردومیں انگریزی شامل کر کے ہم برتری محسوس اور ظاہر کرتے ہیں، جب کہ پنجابی کی آمیزش سے شرمندگی اور مضحکہ خیزی کی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں۔اول الذکر عمل ’’علمی ‘‘سمجھا جاتا اور ثانی الذکر ’’جہالت ‘‘ کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے ۔حالاں کہ لسانی پیمانے پر دونوں زبانوں کا درجہ یکساں ہے۔ایک ہی لسانی عمل دو مختلف اور باہم متضاد اثرات کا موجب کیوں؟اس کا جواب مذکورہ تاریخی عمل میں ہی ہے،جسے گلوبلایزیشن نے مزید مستحکم کیا ہے۔
بے شبہ زبان کا اہم وظیفہ ابلاغ ہے مگر یہ بھی سوچیے کہ زبان کو اگر محض ابلاغ تک محدود کر دیا جاے تو پھر پورا جملہ بولنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہاتھ کے اشاروں، چہرے کے تاثرات اور آنکھوں کی چمک سے بھی ابلاغ ہوتا ہے۔ زبان کو محض ابلاغی چیز اسی وقت قرار دیاجاتا ہے، جب اسے ایک کلچرل تشکیل کے بہ جاے، ایک کموڈیٹی سمجھا جانے لگے، جس کی قدر فقط اس کے صَرف ہو جانے میں ہوتی ہے، بالکل ٹشو پیپر کی طرح !زبان کو کلچرل تشکیل سمجھنے اور اسے بہ طور کموڈیٹی استعمال کرنے سے دو مختلف سماجی رویے ہی نہیں، دو مختلف تصور ہاے کائنات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اول الذکر صورت میں غیر افادی، جمالیاتی رویہ پیدا ہوتا ہے، جو سماجی ہم آہنگی اور ہم زبانوں کے ساتھ ذہنی یگانگت کو جنم دیتا ہے۔ علم اور تخلیق کی مسرت کو قدر اول کا درجہ دیا جاتا ہے، جب کہ زبان کو کمیو ڈیٹی کے طور برتنے سے افادیت پسندی، سطحیت پسندی کا رویہ جنم لیتا اور لذت اور تفریح پسندی کو قدرِ اوّل کے طور پر قبول کیا جانے لگتا ہے۔ یہ رویہ اور قدر بالآخر مسابقت اور تفریق کے رجحانات پر منتج ہوتا ہے۔
انگریزی کے تحکم کو بہ ہر طور قایم رکھنے اور اسے گلوبل زبان بنانے کی غرض سے کبھی اردو کو رومن رسمِ خط میں لکھنے کی تجویز پیش کی جاتی ہے اور کبھی مختصر اردو جملوں کو رومن حروف میں لکھا جانے لگتا ہے اور یہ کام سب سے زیادہ تر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہارات میں ہو رہا ہے۔ یہ اشتہارات مقامی لوگوں کے لیے ہوتے ہیں، جن کی اکثریت انگریزی نہیں سمجھتی،صرف اردو سمجھتی ہے۔ ان کے لیے رومن حروف میں ’’اورسناؤ‘‘ ’’ٹھنڈ پروگرام‘‘ ’’پیو اور جیو ‘‘لکھنا کیا معنی رکھتا ہے؟یہی ناکہ صارفین کو بصری حس کے ذریعے کسی شے کے گلوبل ہونے کا احساس دلایا جاے۔ انگریزی زبان اپنے حروف، رسمِ خط اور الفاظ ہر سطح پر گلوبل ہے، اس بات کا لوگوں کو یقین دلانا اور اس یقین کے ذریعے انھیں گلوبل شہری ہونے کا احساس دلانا۔گلوبلایزیشن لوگوں کو گلوبل شہری ہونے کا احساس ضرور دلاتی ہے کہ وہ گلوبل اشیااستعمال کرتے اور گلوبل زبان سے کسی نہ کسی طور وابستہ ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ گلوبل شہری نہیں، گلوبل صارف پیدا کرنا، گلوبلایزیشن کا ایجنڈا ہے۔
آخر میں اس سوال پر غور کرنا بے جا نہیں ہو گا کہ زبانوں کے تعلق میں بالعموم اور اردو زبان کے حوالے سے بالخصوص، گلوبلایزیشن سے خیر کی کوئی توقع بھی کی جا سکتی ہے؟ یقیناً کی سکتی ہے۔اگر ہم عالمی تبدیلیوں کے ضمن میں اپنے روایتی منفعل کردار کو ترک کر دیں اور ان تبدیلیوں کی حقیقی نوعیت اور اصل سمت کو سمجھیں۔ تبدیلیوں کو عجلت میں یا کسی پرانے تاثر کی وجہ سے فوراً مستردیا قبول کرنے کی روش سے باز آجائیں۔ کسی تبدیلی کو اس کے اصل تناظر اور سیاق میں رکھ کر سمجھنے سے ان امکانات کو گرفت میں لیا جا سکتا ہے،جن کی وجہ سے وہ تبدیلی ہمارے تناظر میں موزوں اور مفید ہو سکتی ہے۔
یہ درست ہے کہ گلوبلایزیشن کی حقیقی نوعیت، صارفیت ہے اوراس کی اصل سمت زبان اور (صارفی) کلچر کی اجارہ داری ہے، مگر یہ بھی دیکھیے کہ گلوبلایزیشن نے خیالات، نظریات اور سائنسی و ٹیکنالوجیکل آلات کے آزادانہ ’’بہاؤ‘‘ کو ممکن بنایا ہے۔ اس ’’بہاؤ‘‘ کو اگر ہوش مندانہ طریقے سے سمجھا جاے تو اسے اپنی زبان اور کلچر کی ترقی کا وسیلہ بنایا جا سکتا ہے۔یہ بات سمجھنے کی ہے کہ گلوبلایزیشن میں خود تردیدی اور خود شکنی کا پور اپورا ساما ن موجود ہے۔ جب وہ (صارفی اغراض سے سہی) اشیا و نظریات کے آزادانہ بہاؤ کا اہتمام کرتی ہے تو ان اشیا و نظریات سے وابستہ ’’طاقت‘‘ بھی ان لوگوں کی دست رس میں آجاتی ہے، جوان کے صارف ہیں۔مثلاً انگریزی زبان تمام علوم کی زبان ہونے کی وجہ سے ’’طاقت‘‘ کی حامل ہے، اس کے ذریعے تمام یا بیش تر علوم تک رسائی ممکن ہوتی اور ’’طاقت‘‘ حاصل ہو جاتی ہے۔ بہ شرطے کہ ہم اس زبان کے محض صارف نہ بنیں، ’’طاقت‘‘ کے حصول اور اسے اپنے لیے موزوں و مفید بنانے کو اپنامطمحِ نظر بنائیں۔
اردو زبان کے تعلق میں دیکھیں تو کئی حقیقی طور پر گلوبل ٹیکنالوجیکل اور سائنسی اور تنقیدی اصطلاحات اردو میں داخل ہو رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی گلوبل اور ’’صارفی گلوبل‘‘ میں فرق روار کھا جائے۔

حواشی:
(۱) گلوبلایزیشن کے متوازی دو اور اصطلاحات بھی گردش میں ہیں‘ گلوبل ازم اور گلو کلایزیشن۔ان میں امتیاز کرنے کی ضررت ہے۔ گلوبل ازم کو گلوبلایزیشن کی تھیوری‘ اور پس منظری فکر کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں گلوبلایزیشن‘ گلوبل ازم کی عملی صورت ہے۔ گلوبل ازم اشیا کے گلوبل ہونے کا تصور دیتی اور گلوبلایزیشن اس تصور کی تجسیم کا وہ سارا پے چیدہ اور کثیر الاطراف عمل ہے‘ جس سے پوری دنیا دوچار ہے، جب کہ گلوکلایزیشن کی اصطلاح کو گلوبلایزیشن کے رد عمل میں وضع کیا گیا ہے۔ گلوبلایزیشن اشتراک اور یکسانیت کی قائل ہے‘ مگر گلو کلائزیشن افراق اور کثرت کو بر قرار رکھنے پر زور دیتی ہے۔ یعنی لوکل او گلوبل کے تصور کی بہ یک وقت علم بردار ہے کہ کچھ چیزوں کو تو گلوبل ہونا چاہیے ان پر دنیا کے تمام خطوں کے تمام لوگوں کا تصرف اور اختیار ہونا چاہیے مگر یہ سب مقامی ثقافتی‘ لسانی شناخت کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔


Back to Conversion Tool