Follow by Email

Wednesday, August 3, 2011

Linguistics and Criticism

لسانیات اور تنقید


لسانیات اور تنقید کے رشتے کی نوّ عیت، ایک دوسرے پر انحصار یا دونوں میں باہمی فصل یا ایک دوسرے کے معاون و مددگار یا محض ایک کے دوسرے کے دست بازو بننے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان امور پر غور و فکر ضروری ہے۔
(ا) لسانیات کی مختلف تعریفوں اور قسموں کو ایک لمحے کے لیے نظر انداز کرتے ہوے اتنی بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس کا موضوع زبان ہے اور تنقید کی مختلف تعریفوں اور دبستانوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوے اتنا یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس کا موضوع ادب ہے۔ لہٰذا لسانیات اور تنقید کے رشتے کی نوّ عیت اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک زبان اور ادب کے رشتے کی وضاحت نہ کی جاے۔ اگر یہ سمجھا جاے کہ زبان اور ادب میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ بات اس بنیاد پر تسلیم کی جاے کہ ادب آرٹ کی ایک قسم ہے اور دیگر قسموں جیسے موسیقی، مصوّری، رقص کے مقابلے میں ادب کا امتیاز اس کا ذریعہ اِظہار ہے، جو زبان ہے تو لسانیات اور تنقید کا موضوع ایک ہو جاتا ہے اور دونوں میں کوئی فصل دکھائی نہیں دیتا، مگر یہ دلیل (جو اکثر دی جاتی ہے) بودی ہے۔ یہ نہ صرف لسانیات اور تنقید کے ان امتیازات سے لاعلمی ظاہر کرتی ہے جو ان دونوں نے اپنے تاریخی سفر کے دوران میں قایم کیے ہیں، بلکہ زبان اور ادب کے نازک فرق سے ناواقف ہونے کا ثبوت بھی دیتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ادب کا ذریعہ اِظہار یا میڈیم ،زبان ہے اور اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ دوسرے فنون کے مقابلے میں زبان، ادب کا امتیازی وصف بھی ہے، جس طرح موسیقی کا امتیازی وصف آواز اور مصوّری کا رنگ ہے مگر کیا موسیقی اور آواز کو یا مصوّری اور رنگ کو مترادف قرار دیا جاسکتا ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے اور یقیناًنفی میں ہے تو ادب اور زبان میں بھی فرق ہے۔ تاہم یہ فرق ویسا نہیں ہے، جیسا آواز اور موسیقی میں ہے یا مصوّری اور رنگ میں ہے۔ آواز اور رنگ، موسیقی اور مصوّری سے باہر آزادانہ طور پر معانی نہیں رکھتے؛ وہ خام مواد ہیں۔ جب کہ زبان، ادب سے باہر آزادانہ طور پر نہ صرف معانی رکھتی ہے، بلکہ اپنے آپ میں ایک مکمل ابلاغی نظام اور ثقافتی مظہر ہے، اس لیے اپنے خام مواد اور میڈیم کو آرٹ کے درجے تک پہنچانے کے لیے جو آسانیاں موسیقار اور مصوّر کو حاصل ہوتی ہیں ،شاعر ان سے محروم ہوتا ہے۔ آرٹ کی تمام شکلوں میں میڈیم کی قلبِ ماہیت کی جاتی ہے۔ شاعر کو اپنے میڈیم کی قلبِ ماہیت کرنے میں سب سے بڑی دقّت یہ ہوتی ہے کہ اُسے زبان کے حوالہ جاتی فریم ورک کو توڑنا پڑتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں شاعری سے باہر موجود زبان اور شاعری کی زبان میں فرق ہوتا ہے۔ جو شاعر یہ فرق پیدا نہیں کر سکتا، وہ محض کلامِ موزوں پیش کرتا ہے، شاعری نہیں۔
ان معروضات سے ظاہر ہے کہ زبان اور ادب میں فرق موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس فرق کی نوعیت کیا ہے؟ کیا یہ فرق نوع کا ہے یا درجے کا؟ اس سوال کا جواب اُوپر کی معروضات میں ہی موجود ہے۔ ادب زبان کی قلبِ ماہیت کرتا ہے، یعنی زبان کو نشانیاتی سطح پرتبدیل کرتا ہے (کبھی کبھی مارفیمی سطح پر بھی تبدیل کرتا ہے،معمولی نحوی تبدیلیاں بھی کرتا ہے)۔دوسرے لفظوں میں ’’نئی زبان‘‘ ایجاد کرتا ہے۔ چوں کہ ایجاد کا یہ عمل زبان پر ہی آزمایا جاتا ہے، اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ دونوں میں صرف درجے کا فرق ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس نتیجے کی تہ میں یقیناًزبان کا خاص مفہوم مضمر ہے جس کے مطابق زبان کسی سماجی گروہ کی روزمرہ کی ابلاغی ضرورتوں کی تکمیل کرنے والا نظام ہے۔ یہاں لسانیات اور تنقید میں ایک فرق تو آئنہ ہو جاتا ہے کہ تنقید کی دل چسپی اگر زبان سے ہے تو فقط زبان کے اس استعمال سے ہے، جو ادب سے مخصوص ہے اور لسانیات کی دل چسپی زبان یعنی لسانی اظہارات کی جملہ صورتوں سے ہے۔ ادب سے لسانیات کو دل چسپی یقیناًہے، مگر لسانی اظہار کی ایک مخصوص صورت کے طور پر۔ بلوم فیلڈ ادبی زبان کو لسانیاتی تحقیق کا کوئی قابل ذکر شعبہ نہیں سمجھتا تھا۔ اس کے یہ خیالات توجہ چاہتے ہیں۔
’’ماہر لسانیات تمام لوگوں کی زبان کا مطالعہ یکساں طور پر کرتا ہے۔ اسے کسی عظیم ادیب کی زبان کے انفرادی اوصاف سے دل چسپی ہوتی ہے، جو اس کی زبان کو اس کے عہد کے عام لوگوں کی زبان سے ممیز کرتے ہیں، مگر یہ دل چسپی بس اتنی ہی ہے جتنی کسی دوسرے آدمی کی زبان کے انفرادی اوصاف سے ماہر لسانیات کو ہوتی ہے اور یہ دل چسپی اس سے تو بہت ہی کم ہے جو اسے تمام لوگوں کی زبان کے اوصاف جاننے سے ہوتی ہے‘‘۔ (۱)
بلوم فیلڈ کا یہ بیان لسانیات کے ادب کی طرف عمومی رویے کا عکاس ہے۔ چناں چہ اسلوبیات، جسے بعض لوگ ایک تنقیدی دبستان قرار دیتے ہیں، اصل میں ادب کی مخصوص زبان کے امتیازات کا مطالعہ کرتی ہے۔ حقیقتاً اسلوبیات تنقیدی دبستان نہیں، لسانیاتی دبستان ہے۔ اس کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ ہر شعبہِ علم اور فن کی مخصوص زبان ہے، جسے سٹائل یا اسلوب کہا گیا ہے۔ مذہب، سیاست، قانون، باغبانی، صحافت، تاریخ، فلسفے، سب کی جدا زبان یا منفرد سٹائل ہے۔ ا س سٹائل کے امتیازی اوصاف کا مطالعہ اسلوبیات ہے۔ لہٰذا لسانیات کی طرح اسلوبیات بھی زبان کے جملہ اور متنوّع اظہارات کا مطالعہ کرتی ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتی ہے کہ آخر ایک شعبہ ،زبان کے متعدّداظہاری امکانات میں سے کچھ کو منتخب کرتا اور دیگر کو مسترد کیوں کرتا ہے؟(۲) آخر ایک مخصوص صورتِ حال میں ایک سٹائل موزوں، برمحل اور معنی خیز ہوتا ہے، مگر یہی سٹائل دوسری صورتِ حال میں مضحک اور ناگوار ہو جاتا ہے۔ کیوں؟
یہاں یہ سوال بجا طور پر اٹھایا جاسکتا ہے کہ لسانیات کے نقشے میں تو ادب اور ادبی زبان کو معمولی جگہ دی گئی ہے۔ کیا تنقید کے نقشے میں ادبی زبان کے مطالعے کو مرکزی حیثیت تفویض ہوئی ہے؟ افسوس کہ تنقید بھی اس ضمن میں دریا دلی کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ اس مقام پر لسانیات اور تنقید ادبی زبان کے مطالعے کے ضمن میں متفق ہیں: دونوں کی مطالعاتی سکیموں میں ادبی زبان حاشیے پر ہے۔
(ب) تسلیم کہ ادبی زبان لسانیات اور تنقید کا مرکزی موضوع نہیں، مگر موضوع بہ ہر حال ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دونوں کا طریقِ مطالعہ یکساں ہے؟ کیا جن وجوہ سے لسانیات ادبی زبان کو اپنے نقشے میں غیر اہم جگہ دیتی ہے، انھی وجوہ سے تنقید بھی ادبی زبان کے امتیازات کے مطالعے کو کم اہم سمجھتی ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ دونوں کے پاس الگ الگ وجوہ ہیں اور انھی وجوہ کی بنا پر لسانیات اور تنقید میں ایک دوسرا فرق آئنہ ہوتا ہے۔
لسانیات زبان کا سائنسی مطالعہ کرتی ہے۔ سائنسی مطالعہ تفہیم، وضاحت، توجیہہ اور تجزیے سے غرض رکھتا ہے۔ چناں چہ زبان کے سائنسی مطالعے میں نَوبہ نَو لسانی اظہارات اور انحرافات کی توجیہہ و وضاحت تو ہوتی ہے؛ ایک قسم کے اظہار کو دوسری طرح کے اظہار پر ترجیح دینے کا اقدام نہیں کیا جاتا۔ ترجیح دینے کا عمل اقداری ہے۔ لہٰذا لسانیات کو اقدار سے غرض نہیں۔ ایک زبان کو دوسری سے بہتر یا کم تر قرار دینے یا ایک طرزِ اظہار کو دوسرے طرزِ اظہار سے خوب صورت یا بدصورت ثابت کرنے کی کوئی کوشش لسانیات میں نہیں ملتی۔ اظہار کی مختلف طرزوں میں فرق و امتیاز کی نشان دہی ، وضاحت اور توجیہہ کی جاتی ہے اور بس۔ لہٰذا لسانیات ایک عظیم ادیب کی زبان اور ایک عام آدمی کی زبان میں اقداری فرق نہیں کرتی۔ خالص لسانیاتی نقطہِ نظر سے غالب کو امام دین گجراتی کی زبان پر فضیلت حاصل نہیں ہے۔ وہ دونوں کے اسلوب میں محض فرق دیکھتی اور اس صورتِ حال کو جاننے کی کوشش کرتی ہے جو اس فرق کی ذمے دار ہے۔ جب کہ تنقید کی بنیاد ہی اقدار پر ہے۔ بہتر اور کم تر، حسین اورقبیح کا شعور تنقیدی عمل کے عین آغاز میں بے دار اور متحرک ہو جاتا ہے۔ تنقید بھی عظیم ادیب اور چھوٹے ادیب، ادیب اور عام آدمی کی زبان میں فرق دیکھتی ہے، مگر یہ فرق اقداری ہوتا ہے۔ چھوٹا ادیب زبان کی جمال آفرینی اور معنی خیزی کے امکانات کو بروئے کار نہیں لا سکتا، جب کہ بڑا ادیب یہ امکانات مجسم کرتا ہے اور عام آدمی ان امکانات کی موجودگی سے ہی بے خبر یا لاتعلق ہوتا ہے۔ چوں کہ تنقید ادب کی جملہ جہات کی تفہیم و تعبیر بھی کرتی ہے اور زبان یا اسلوب ادب کی محض ایک جہت ہے، اس لیے وہ اپنے مطالعاتی عمل میں اسے کلیدی حیثیت نہیں دیتی۔
(ج) تعین قدر، تنقید کا اولین فریضہ ہے، مگر واحد فریضہ نہیں۔ توضیح، تعبیر اور تجزیہ بھی تنقید کے فرائض میں شامل ہیں۔ تنقید ان فرائض سے آگاہ تو ہوتی ہے، مگر انھیں پورا کرنے کے وسائل نہیں رکھتی۔ یہ وسائل جن کی نوّ عیت باقاعدہ نظریات، عمومی بصیرتوں اور طریق کار کی ہے ،تنقید کو اِدھر اُدھرسے، یعنی دیگر علوم سے حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ لہٰذا ارسطو سے لے کر دریدا تک تنقید اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے سلسلے میں معاصر علوم کی بصیرتوں کی طرف برابر راجع رہی ہے۔ لسانیات بھی ایک علم ہے۔ اس لیے یہ بھی تنقید کے فرائض کی ادائیگی میں معاونت کی اہل ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا لسانیات تنقید کی اسی طرح مدد کرتی ہے، جس طرح دوسرے علوم؟ نیز اس مدد کی نوّ عیت کیا ہے؟ یعنی کیا لسانیات، ادبی متن کے تجزیے و تعبیر میں مدد کرتی ہے یا تعبیر یا تجزیے کامحض طریقِ کار فراہم کرتی ہے؟ ان سوالوں کے جواب اسی وقت دیے جا سکتے ہیں، جب لسانیات اور دوسرے علوم کا فرق اور لسانیات کی قسمیں اور شاخیں پیش نظر ہوں۔
لسانیات اپنے وسیع مفہوم میں سماجی علم ہے۔ زبان سماجی تشکیل ہے، لسانیات اس تشکیل کی نوعیت اور اس میں مضمر و کارفرما قوانین اور اس کے ارتقا کا مطالعہ کرتی ہے۔ اس علم کی نوعیت بالائی نظر میں وہی ہے جو بشریات، عمرانیات، تاریخ اور نفسیات کی ہے، مگر چوں کہ لسانیات کا معروض یعنی زبان، ثقافتی، عمرانی اور ذہنی تشکیلات سے مختلف اور بعض صورتوں میں ان سب پر حاوی ہے، اس لیے لسانیات ،دیگر سماجی علوم کے مقابلے میں کچھ مختلف ہو جاتی اور ان پر حاوی بھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ لسانیات، بشریات، عمرانیات، تاریخ اور نفسیات کے مقابلے میں تنقید کو اور طرح کی مدد فراہم کرتی ہے۔
اصولاً لسانیات کی دو قسمیں ہیں: عمومی اور توضیحی۔ عمومی لسانیات زبان کا اور توضیحی لسانیات کسی مخصوص زبان کا مطالعہ کرتی ہے۔ زبان یا مخصوص زبان کے مطالعات تاریخی (Diachronic) یا یک زمانی (Synchromic) ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے فرق کو نسبتاً تفصیل سے سمجھنا ضروری ہے کہ اس کے بعد ہی یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ لسانیات، تنقید کی کس نوع کی مدد کر سکتی اور اب تک مدد کی ہے۔
ہرچند جدید لسانیات کا آغاز ۱۷۸۶ء سے متصور ہوتا ہے، جب سرولیم جونز نے یہ انکشاف کیا کہ سنسکرت، یونانی، لاطینی اور جرمینک زبانوں سے تعلق رکھتی ہے، مگر یہ فلالوجی یا تقابلی و تاریخی لسانیات کا آغاز تھا۔ آگے پوری انیسویں صدی میں تاریخی لسانیاتی مطالعات کا دور دورہ رہا۔ تاریخی لسانیات دراصل زبان کی جامع سوانح مرّ تب کرتی ہے۔ وہ زبان میں عہد بہ عہد ہونے والے تاریخی تغیرات کو گرفت میں لیتی ہے کہ زبان کے ارتقا کا جامع تصور مرتب ہو سکے۔ گویا تاریخی لسانیات اولاً یہ مفروضہ قایم کرتی ہے کہ زبان جامد نہیں ہے ۔وہ ایک متحرک اور ارتقا پذیر چیز ہے۔ زبان کا یہ تحرک لفظ، معانی، صرف، نحو سب سطحوں پر ہے۔ تاریخی لسانیات اس پورے تحرک کو گرفت میں لیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تحرک زبان کے سارے فی نومی نن کے مترادف ہے؟ کیا ہم زبان کی تاریخی ارتقائی کڑیوں کو مرتب کر کے زبان کے اس ابلاغی طریق کار کو بھی سمجھ سکتے ہیں جو لمحہِ حاظر میں کام کر رہا ہے اور جس کی وجہ سے افراد کے مابین مکالمہ ممکن ہو رہا ہے؟ ایک مثال ملاحظہ کیجیے۔ کلرک کی اصل یونانی زبان کا لفظ Klerikos ہے، جس کا مطلب نصیب، ورثہ یا قسمت ہے۔ عیسائیوں نے اسے حصہ کہا اور وہ چھوٹا پادری مراد لیا، جوگرجے میں بڑے پادری کے ساتھ رسوم کی ادائیگی میں حصہ لیتا تھا۔ چوں کہ پادری، چھوٹا ہو یا بڑا، اس کے لیے مذہبی معلومات کا حامل ہونا ضروری تھا، اس لیے کلرک سے مراد تعلیم یافتہ فرد لیا جانے لگا۔ رفتہ رفتہ گرجے کا حساب کتاب اور دوسرا تحریری ریکارڈ رکھنے کی ذمے داری بھی اس کے سپرد ہوئی۔ سولھویں صدی میں اس لفظ کے ساتھ وابستہ مذہبی مفہوم ختم ہو گیا اور لکھنے پڑھنے اور دفتری کام کرنے والے کو ہی کلرک کہا جانے لگا۔ (۳)
لفظ کلرک کے بارے میں یہ سوانحی اور تاریخی معلومات دل چسپ تو ہیں، مگر کیا یہ لمحہِ موجود میں لفظ کلرک کو اپنی مقصد براری کے لیے استعمال کرنے میں مدد گار بھی ہیں؟ بلاشبہ یہ سوال تاریخی لسانیات کے دائرے سے باہر ہے کہ تاریخی لسانیات کوئی ایسا علم مہیا کرنے کا دعویٰ نہیں کرتی جو ایک زبان بولنے والوں کی ابلاغی ضرورتوں کے کام آسکے؛وہ تو محض زبان کی تاریخ سے خالص علمی دل چسپی رکھتی ہے، مگر تاریخی لسانیات کے دائرے کی محدودیت کا احساس ہی ہمیں مذکورہ سوال اٹھانے اور زبان کے ایک نئے علم کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے۔ تاریخی لسانیات کے حدود اور مجبوریوں کا شدید احساس سوس ماہرلسانیات فرڈی نینڈ سوسیئر (۱۸۵۷ء۔ ۱۹۱۴ء) کو ہوا۔ انھوں نے تاریخی لسانیات کے حدود کی وضاحت میں تین نکات بہ طور خاص پیش کیے۔
اوّل یہ کہ تاریخی لسانیات، زبان کے ابلاغی عمل کی وضاحت نہیں کرتی۔ دوم یہ کہ ابلاغی عمل کے دوران میں یہ علم موجود ہی نہیں ہوتا کہ زبان میں وقتاً فوقتاً کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ اُردو بولنے والا اور اس میں پوری کام یابی کے ساتھ اپنا مافی الضمیر ادا کرنے والا یہ علی العموم نہیں جانتا کہ کلرک کبھی قسمت، ترکے، پادری کے معاون کے معنوں میں بھی رائج تھا۔ وہ یہ جانے بغیر اپنا مدعا پوری تفصیل سے پیش کرنے میں کام یاب ہوتا ہے کہ پمفلٹ کسی زمانے میں خفیہ طور پر تقسیم ہونے والی عشقیہ نظم کے مفہوم میں استعمال ہوتا تھا۔ سوم یہ کہ زبان کی صوتی، تکلمی، نحویاتی یا معنیاتی تبدیلیوں کا علم ابلاغ کے عمل میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ عین لمحہ ابلاغ میں اگر کسی لفظ کے صوتی و معنیاتی تغیرات کی تمام کروٹیں کسی مقرر کے احاطہ شعور میں بے دار و متحرک ہو جائیں تو ابلاغ ممکن ہی نہ ہو۔ (۴)
اس طور تاریخی لسانیات غیر ضروری نہیں تو غیر سائنسی ضرور ہو جاتی ہے۔ اگر زبان کی سائنس کا مطلب زبان کے ان تمام قوانین کی دریافت ہے، جو اسے بہ طور زبان قایم کرتے ہیں تو یہ کام تاریخی لسانیات کے بس کا نہیں۔ چناں چہ سوسیئر نے زبان کے یک زمانی (Synchromic) مطالعے کی بنیاد رکھی۔ یک زمانی مطالعے کے ذریعے زبان کے ان بنیادی قوانین کو دریافت و مرتب کیا جاتا ہے جو کسی زبان کے پس پشت یا تہ میں موجود ہوتے اور زبان کی ابلاغی کارکردگی کو ممکن بنا رہے ہوتے ہیں۔ (۵)
مگر سوال یہ ہے کہ تاریخی لسانیات پر یہ اعتراض ادبی تنقید کے نقطہِ نظر سے کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا زبان کا تاریخی علم ادبی متن کی معنی یابی اور تعبیر و تجزیے میں معاون ہوتا ہے یا مزاحم؟ اگر ہم عام روزمرہ لسانی ابلاغ اور ادبی متن کو یکساں قرار دیں تو پھرکَہ سکتے ہیں کہ ادبی متن کی تفہیم میں بھی زبان کا تاریخی علم مزاحم ہوتا ہے، لیکن اگر دونوں کے فرق کو ملحوظ رکھیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ زبان کا تاریخی علم کہیں ادبی متن کی درست تفہیم میں اور کہیں نئی تعبیر میں اور کہیں فکر انگیز تجزیے میں معاون ہو سکتا اور ہوتا ہے۔ عام لسانی ابلاغ فوری، زبانی اور عارضی ہوتا ہے، جب کہ ادبی متن تحریری، دیرپا اور مستقل ہوتا ہے۔ نیز ادبی متن میں عام زبان بھی منقلب ہو جاتی ہے۔ اس لیے عام زبان کی کئی باتوں کا اندھا دھند اطلاق ادبی متن کی زبان پر نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ادبی تنقید میں تاریخی لسانیات کے چنیدہ عناصر (بالخصوص لفظوں کے بدلتے معانی) کو استعمال کرتے ہوئے ادبی متن کے اپنے تناظر کو ملحوظ رکھنا اشد ضروری ہے وگرنہ محض علم کا اظہار ہو گا؛متن کی نئی سطح پر تفہیم و تعبیر نہ ہو سکے گی۔ شمس الرحمن فاروقی نے میر کے اشعار کی شرح میں تاریخی لسانیات کو کثرت سے استعمال کیا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اکثر مقامات پر شعر کے داخلی تناظر سے صرفِ نظر کیا گیا ہے۔
سوسیئر کی ساختیاتی لسانیات محض اپنے طریقِ مطالعہ اور موضوعِ مطالعہ کے اعتبار سے ہی تاریخی لسانیات سے مختلف نہیں بلکہ اپنے نتائج، اثرات اورمضمرات کے لحاظ سے بھی مختلف ہے۔ تاریخی لسانیات اپنے اثرات کے لحاظ سے مائیکرو ہے۔یہ ایسے نتائج تک نہیں پہنچتی یا ایسے انکشافات نہیں کرتی جو ماوراے لسانی ہوں اور دیگر علوم کے لیے کار آمد ہوں؛یہ محض زبان کی تاریخ سے آگاہ کرتی اور اس سے آگے اپنی نارسائی کا اعلان کردیتی ہے، مگر ساختیاتی لسانیات کا معاملہ دوسرا ہے ۔یہ اپنے نتائج و اثرات کی ر’و سےَ میکرو ہے : یہ زبان کا سائنسی ماڈل پیش کرتی ہے ،اور اسے آگے دیگر سماجی علوم کے سپرد کر دیتی ہے ،لہٰذا یہ اپنی پیش رو کی مانند’’ خود اپنی ذات ‘‘ تک محدود نہیں رہتی۔ ساختیاتی لسانیات کے بشریات، اساطیر، نفسیات، ادب، فلسفے، تاریخ اور کلچر پر اثرات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ لسانیات سماجی علوم کے قلب میں جگہ بنانے میں کام یاب ہوئی ہے۔ لیوی سٹراس تو اس سے بھی ایک قدم آگے جاتا ہے اوریہ کہتا ہے کہ ساختیاتی لسانی ماڈل، انسانی ذہن کی بنیادی ساخت کو منکشف کرتا ہے۔ یہ ساخت ان طریقوں اور قوانین کی حامل ہے، جو تمام سماجی اداروں، فنون اور علوم کی تشکیل کرتے ہیں۔ (۶)
ژاک لاکان اس سے بھی آگے جاتا اور انسانی لاشعور کو ساختیاتی لسانی ماڈل کی مانند قرار دیتا ہے۔ یعنی لسانیاتی اصولوں کو ،اپنی حقیقی یا تعمیمی شکل میں انسانی شعور کے پس پردہ کارفرما دیکھتا ہے ۔بہ ظاہر ان آرا میں مبالغہ محسوس ہوتا اور ساختیاتی لسانی ماڈل سے مبالغہ آمیز توقعات کا شائبہ ہوتا ہے اور کسی حد تک ساختیاتی لسانیات کے فیشن بن جانے کا احساس بھی ہوتا ہے، مگر اس کا کیا کیا جاے کہ ساختیاتی لسانیات کی بنیاد پر اساطیر، ثقافتوں، لوک کہانیوں، تاریخ، ادب، تحلیلِ نفسی کے مطالعات کیے گئے اور نئی بصیرتیں اخذ کی گئی ہیں۔
آخر ساختیاتی لسانیات میں وہ کیا خاص بات تھی کہ اسے یہ اہمیت ملی؟ اس ضمن میں دو نکات توجہ طلب ہیں:ایک یہ کہ ساختیاتی لسانیات نے زبان کی اس تہ نشیں ساخت کی نشان دہی کی، جس کی وجہ سے ہمہ اقسام لسانی کارکردگی ممکن ہوتی ہے۔ اس ساخت کو سوسیئر نے لانگ کا نام دیا۔ لانگ کی وجہ سے ہی ہم سیکڑوں، ہزاروں جملے اختراع کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ہر مظہر کی تہ میں ساخت یا لانگ کارفرما ہوتی ہے۔ یہ مظہر کوئی نفسیاتی وقوعہ ہو، کوئی اسطور ہو یا کوئی ادب پارہ ہو یا کوئی خاص فیشن! یہیں سے نشانیات (Semiology) کا باقاعدہ رواج ہوا۔
دوسرا توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ ساختیات نے زبان اور دنیا کے رشتے کا نیا اور بعض کے لیے صدمہ پہنچانے والا تصور دیا۔ افلاطون سے لے کر بیسویں صدی کے آغاز تک یہ تصور عام اور مقبول رہا کہ زبان ایک شفاف میڈیم ہے؛یہ دنیا کی ترجمانی حقیقت کے ساتھ کامل وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرتی ہے۔ افلاطون کے یہاں تو یہ تک کہا گیا ہے کہ زبان ہی شے کا علم دیتی ہے۔ (۷) محض اشیا کے نام جان لینے سے اشیا کا علم حاصل ہو جاتا ہے۔ گویا زبان، شے یا حقیقت کی متبادل ہے اور جب ہم باتیں کرتے ہیں تو اشیا ہی ہمارے پاس موجود ہوتی ہیں۔زبان سے متعلق مذہبی تصورات اسی نظریے سے ماخوذ ہیں۔قدیم مذاہب میں تویہ نظریہ مبالغہ آمیزی کے ساتھ موجود تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ لفظ میں وہ ساری قوت سمٹی ہوئی ہے،جسے اس لفظ سے وابستہ شے میں متصور کیا جاتا تھا۔ ساختیات نے اس نظریے کو معصومانہ قرار دیا۔
ساختیات کے مطابق زبان اشیا کو نہیں، اشیا کے ان تصورات کو پیش کرتی ہے جنھیں زبان اپنے مخصوص قوانین کے تحت تشکیل دیتی ہے۔ زبان میں اشیا کی طرف اشارہ ضرور موجود ہوتا ہے (یعنی شے Referent کے طور پر موجود ہوتی ہے) مگر یہ اشارہ فطری یا منطقی نہیں ، من مانا اور ثقافتی ہوتا ہے۔ زبان نشانات کا نظام ہے اور ہر نشان نے دوسرے نشان سے فرق کا رشتہ قایم کر رکھا ہے۔ فرق کی وجہ سے ہی تمام لسانی کارکردگی ممکن ہوتی ہے۔ سوسیئر تو یہ تک کہتا ہے کہ زبان میں فرق کے علاوہ کچھ نہیں۔ (۸) دوسرے لفظوں میں فرق سے مرتب ہونے والا لسانی نظام دنیا کی ترجمانی کرتا ہے،لہٰذا یہ ترجمانی کامل وفاداری سے ممکن نہیں ہوتی کہ دنیا اور زبان کے درمیان، زبان کا یہ نظام موجود ہوتا ہے۔ ہم زبان کے ذریعے دنیا کا براہ راست نہیں، زبان کے راستے سے علم حاصل کرتے ہیں۔ زبان میں ہم دنیا کو بہ عینہٖ ہی نہیں دیکھتے ،زبان کے مخصوص قوانین کے تحت تشکیل پانے والی دنیا کو دیکھتے ہیں۔ ظاہر ہے ،یہ زبان کے علم کے سلسلے میں مکمل پیراڈایم شفٹ ہے۔پہلے زبان اور دنیا کی ثنویت کا احساس تو موجود تھا ،مگردونوں کے ثنوی رشتے کو غیر فعال سمجھ لیا گیا تھا۔ساختیات نے نہ صرف اس رشتے کی فعالیت اجاگر کی ہے بلکہ دنیا کے لسانی علم میں زبان کے فعال کردار کو منکشف کیا ہے۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ یہ انکشاف کوپر نیکس کے انکشاف سے کم نہیں ہے۔جس طرح کوپر نیکس نے انسان اور زمین کو ’’بے مرکز‘‘کر دیا تھا ،اسی طرح ساختیات نے انسانی سبجیکٹ کو بے مرکز کردیا ہے۔
یہی دو نکات بالعموم اساطیر، لوک کہانیوں، ادب اور دیگر ساختیاتی و پس ساختیاتی مطالعات میں راہ نما اصولوں کے طور پر پیش نظر رہے ہیں۔
ساختیاتی لسانیات سے تنقید نے غیر معمولی مدد لی ہے۔ اس مدد کے نتیجے میں تنقید ’نئی تنقیدی تھیوری‘ میں منقلب ہوئی ہے۔ تنقید کا تھیوری کا لیبل اختیار کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ساختیات کے زیر اثر تنقید نے بھی ادبی متون کے اسی طرح نظری ماڈل مرتب کیے ہیں، جس طرح ساختیات زبان کا نظری ماڈل مرتب کرتی ہے۔ جس طور ساختیات زبان کے جامع تجریدی نظام، یعنی لانگ تک پہنچی ہے، اسی طور تنقید ادب کی شعریات تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ لسانیات میں جو لانگ ہے، ادب میں وہ شعریات ہے۔
شعریات کی دریافت میں نئی تنقیدی تھیوری نے دو رُخ اختیار کیے ہیں: ایک تو شعریات کو خود ادب میں دریافت کیا گیا ہے، دوسرا زبان میں۔ یعنی ایک طرف یہ سمجھا گیا ہے کہ جیسے زبان کیَ تہ میں جامع تجریدی نظام کارفرما ہوتا اور اس زبان کی ساری کارکردگی کا ضامن ہوتا ہے، ویسے ہی ادب کیَ تہ میں ایک جامع نظام موجود ہے۔ گویا تمثیلی منطق کے تحت زبان اور ادب کو مساوی سمجھا گیا ہے۔ دونوں کو ایسے متون خیال کیا گیا ہے جو ایک جیسی کارکردگی کے حامل ہیں۔ بجا کہ یہاں زبان اور ادب کے بعض امتیازات پس منظر ہیں چلے گئے ہیں، مگر ساختیات ایک جبر آمیز نظریے کے بجائے مطالعہِ ادب کا سائنسی طریقِ کار فراہم کرتی ہے جو ادب کے تہ نشین نظام کو مرتب کرتا ہے۔ دوسری طرف یہ خیال کیا گیا ہے کہ شعریات خود زبان میں موجود ہے؛ شعریات زبان کا ہی ایک وظیفہ ہے۔ واضح رہے کہ دونوں صورتوں میں شعریات کا تصور ساختیاتی لسانیات سے ہی ماخوذ ہے۔
رومن جیک سن شعریات کو خود زبان میں دیکھتے ہیں، جب کہ رولاں بارت اور تودوروف اسے ادب میں تلاش کرتے ہیں۔
رومن جیک سن نے اپنا نظریہ اپنے مشہور ترسیلی ماڈل کے ذریعے پیش کیا ہے۔ اس ماڈل کے مطابق کسی پیغام کی ترسیل میں چھ عناصر حصہ لیتے ہیں: مقرر؛پیغام؛ سامع؛ تناظر؛کوڈ اور وسیلہ۔ یعنی مقرر کسی سامع کو پیغام بھیجتا ہے؛یہ پیغام ایک کوڈ میں مضمرہوتا اور تناظر میں بامعنی ہوتا ہے۔ پیغام کی ترسیل کسی وسیلے (آواز یا کاغذ) سے ہوتی ہے۔ اس ماڈل کی بنیاد پر زبان کے چھ وظائف ہیں۔ جب ترسیلی عمل میں زور، مقرر پر ہو تو زبان کا وظیفہ جذباتی (Emotive) ہو جاتا ہے۔جب زور ،سامع پر ہو تو زبان کا وظیفہ ارادی یا Conative ہوتا ہے :سامع تک ارادی معنی کی ترسیل مقصود ہوتی ہے۔جب تناظر کو مرکزی اہمیت دی جائے تو زبان کا وظیفہ حوالہ جاتی ہو جاتا ہے:کلام کے معانی ،کلام سے پیوستہ تناظر سے متعین ہوتے ہیں۔ جب کوڈ پر زور دیا جائے توزبان کا وظیفہ ’میٹا لنگول‘ ہو گا :کوڈ کو کھولنے (جو میٹا لینگوئج کو پیشِ نظر رکھنے کا عمل ہے)سے معانی متعین ہوں گے۔اورجب وسیلے پر زور دیا جائے توزبان رسمی یا Phatic وظیفے کو انجام دے گی۔اور جب سارا زور پیغام پر ہو تو زبان کا وظیفہ شاعرانہ ہو گا۔(۹) گویا ان کے نزدیک شعریات سے مراد محض شاعری ہے۔ ادب کی دیگر اصناف ان کے پیش نظر نہیں ہیں اور شاعری کی شعریات بھی زبان کے ایک مخصوص استعمال سے عبارت ہے۔ یعنی زبان کے چھ کے چھ وظائف بہ یک وقت کارفرما ہوتے ہیں؛ شاعری اس وقت وجود میں آتی ہے جب ان چھ وظائف میں درجہ بندی قایم ہو جاتی ہے اور پہلے درجے پر پیغام آجاتا ہے،باقی تمام عناصر اس کے تابع ہو جاتے ہیں۔پیغام ،زبان کے حوالہ جاتی ،تناظراتی،ارادی اور دیگر وظائف پر حاوی ہو جاتا ہے۔وضاحتِ احوال کے لیے مجید امجد کا یہ شعر دیکھیے:
مرے نشانِ قدم دشتِ غم پہ ثبت رہے
ابد کی لوح پہ تقدیر کا لکھا ، نہ رہا
اس شعر میں زبان کے مذکورہ چھ عناصر موجود ہیں:متکلم ہے؛مخاطب ہے؛تناطر ہے؛کوڈ (دشتِ غم بہ طور استعارہ)ہے؛میڈیم (کاغذ) ہے اور پیغام یا ایک خاص معنی ہے۔ایک تخیلی شخصیت دوسری تخیلی شخصیت سے ،مخصوص شعری روایت اور صورتِ حال کے تناظر میں اس پیغام کی ترسیل کر رہی ہے کہ ’غم کے صحرا پر میرے قدموں کے نشان مٹے نہیں ،باقی رہے ہیں،جب کہ ابد کی لوح پر تقدیر کا لکھا باقی نہیں رہا۔صحرا میں نشان مٹ جاتے ہیں اور لوحِ تقدیر پر کندہ تحریر امٹ ہوتی ہے،مگر غم ایک ایسا صحرا ہے ،جس پر انسانی قدموں کے نشان ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔تقدیر بدل سکتی ہے ،لیکن غم سے نجات ممکن نہیں ہے۔‘یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ شعر کی نثر کرنے کے بعد ،زبان کے عناصر کی ترتیب اور درجہ بندی بدل گئی ہے۔چناں چہ شعر میں پیغام کی ترسیل جس انداز میں ہورہی ہے،اس کی نثری تلخیص کے ذریعے اس انداز میں نہیں ہو رہی۔شعر میں لسانی عناصر کی ترتیب میں پیغام سرِفہرست ہے اور متکلم،سامع،تناظر وغیرہ بعد میں آتے ہیں۔شعر پڑھتے ہی قاری کے ذہن میں سب لسانی عناصر متحرک ہوتے ہیں ،اور ایک دائرہ تشکیل دیتے ہیں،جس کا مرکزہ ،شعر میں کوڈ کیا گیا پیغام ہے۔اس پیغام کی شعریت کا مدار ،اس کی مرکزیت پر ہے۔یہ عمل اپنی نوعیت نہیں،اپنے اثر کے اعتبار سے ساختیات کی لانگ کے مماثل ہے۔تاہم غور طلب نکتہ یہ ہے کہ اگر مرکزیت متکلم ،سامع یا تناظر کو حاصل ہو جاے تو کیاساری شعریت زایل ہو جاے گی؟
اب سوال یہ ہے کہ کیا اسے شاعری کا بنیادی اصول قرار دیا جاسکتا ہے اوریہ استنباط کیا جاسکتا ہے کہ یہی اصول شاعری کی تعینِ قدر کا پیمانہ بھی ہے؟کیا شاعری کا بنیادی اصول ہی ،اس کی تعین قدر کا اصول ہے؟اس شاعری کے بارے میں کیا کہیں گے جس میں مرکزیت تناظر یا متکلم یا سامع کو حاصل ہوتی ہے؟اردو کی بیش تر ترقی پسند شاعری میں تناظر اوّل ہے؛رومانی شاعری میں متکلم پر زور دیا گیا ہے؛عوامی شاعری میں سامع پر زور ہوتا ہے۔صاف محسوس ہوتا ہے کہ جیکب سن کے پیشِ نظر جدید شاعری ہے،جس میں پیغام مرکز میں ہوتا ہے۔اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ایک ہی شعر کی ایک سے زاید طریقوں سے قرات میں،لسانی عناصرپر زور کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ غالب کے اشعار یاد کیجیے۔اگر جیکب سن کے اصول کو شاعری کا بنیادی اصول قرار دیں تو لا بدی ہے کہ جدید شاعری کو ہی شاعری کا ماڈل سمجھیں۔ظاہر ہے جدید شاعری اپنے تمام امتیازات کے باوجود ،تمام شاعری کا پیمانہ نہیں ہو سکتی۔
جیکب سن کا ماڈل یقیناًمحدود ہے؛یہ لسانی وطائف میں امتیاز قایم کر کے ،جدیدشاعری کے بنیادی اصول کی وضاحت کرتا ہے اور یہ وضاحت اپنے دائرے میں انکشاف کا درجہ بھی رکھتی ہے۔جیکب سن کے ترسیلی ماڈل میں یہ امکان بہ ہر حال موجود ہے کہ اس کی مدد سے فکشن کی شعریات بھی مرتب کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔مثلاًجاسوسی فکشن میں کوڈ پر زور ہوتا ہے۔داستان میں سامع پراور حقیقت نگاری کی روایت میں لکھے گئے افسانے میں تناظر کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے۔اس طور دیکھیں تو ساختیاتی لسانیات شاعری اور فکشن کی شعریات کی تدوین میں کئی طریقوں سے مددگار ثابت ہوتی ہے۔
رولاں بارت اور تودوروف شعریات کا تصور تو ساختیات سے لیتے ہیں، مگر اسے ادب پر چسپاں کرنے کے بجاے اسے ادب میں دریافت کرتے ہیں۔ ساختیات زبان کے نظام کو ضابطوں (کوڈز) اور رسمیات (کنونشنز) سے عبارت قرار دیتی ہے جنھیں ثقافت تشکیل دیتی ہے۔ اسی اصول کے تحت ادب کا نظام یا شعریات بھی ضابطوں اور رسمیات سے عبارت ہے؛ انھیں بھی ثقافت تشکیل دیتی ہے۔ رولاں بارت نے بہ طور خاص اپنی عملی تنقیدات میں ان ضوابط اور رسمیات کو دریافت کیا ہے۔ خصوصاً Sarassine کے مطالعے میں یہ دکھایا ہے کہ کس طرح پانچ کوڈ اس ناول کے پورے معنیاتی عمل کو ممکن بنا رہے ہیں۔
ساختیاتی لسانیات زبان کے نظام میں فرق کو بنیادی اہمیت دیتی ہے۔ یہ کہ ہر نشان اس لیے بامعنی ہے کہ وہ صوتی، تکلمی اور معنوی سطحوں پر دوسرے نشان سے مختلف ہے، ورنہ کسی نشان میں اپنی معنی خیزی کا کوئی فطری یا منطقی نظام موجود نہیں ہے۔ اس اصول کی رُو سے بھی ادبی مطالعات کیے گئے ہیں۔ خصوصاً بیانیات (Narratology) (جو ساختیات کے فکشن پر اطلاق سے وجود میں آئی ہے) فرق اور اضدادی جوڑوں کو متن کی معنی خیزی کے عمل میں بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیتی ہے۔(تفصیل کے لیے کتاب میں شامل مضمون’فکشن کی تنقید کے نظری مباحث‘ ملاحظہ کیجیے۔)
ان معروضات سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ساختیاتی لسانیات، ادبی متن کے تعبیر و تجزیے میں مدد دینے کے بجائے، ادبی متن کی ساخت کو سمجھنے کا طریقِ کار اور ماڈل فراہم کرتی ہے،مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ لسانیات متن کی تعبیر و تجزیے کا کوئی نیا طریق کار فراہم ہی نہیں کرتی۔
ساختیات کی کلیت پسندی اور مرکز جوئی پر پہلی شدید ضرب دریدا نے ساخت شکنی (ڈی کنسٹرکشن) کی شکل میں لگائی اور اسی آلے سے جو ساختیات کے پاس تھا: لسانیات۔ دریدا نے سوسیئر کا یہ نکتہ تو قبول کیا کہ معنی تفریق سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ کہ زبان کا سارا نظام فرق سے عبارت ہے۔ پھول اس لیے پھول ہے کہ اس کے فونیم گول، ہول اور فول سے الگ اور متفرق ہیں، مگر دریدا اس بات کو ماننے پر تیار نہیں تھا کہ زبان میں فرق کا یہ سلسلہ کبھی ختم ہوتا ہے۔ یہ محض ملتوی ہوتا ہے (Differance) اور ہمیں کسی معنی کی وحدت کا تجربہ اس لیے ہوتا ہے کہ زبان کی تفریقی ساخت کو دبایا جاتا ہے۔ (یہ ایک اہم سوال ہے کہ دبانا زبان کا اصول ہے یا ہماری روزمرہ کی ابلاغی ضرورت کی وجہ سے ہے؟) اسی طرح دریدا اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ زبان اپنے آپ میں خود مختار و مکمل ہے،یعنی متن سے باہر کچھ نہیں۔ کوئی تحریر، خود سے باہر اپنا تناظر نہیں رکھتی۔ مگر چوں کہ (دریدا کے یہاں) تناظر لسانی ہے اور ہر لسانی نشان کا Trace باقی رہتا ہے اور Trace کسی متن کے خارجی ماخذ کا شائبہ ہے، (۱۰) اس طور متن کا اپنا لسانی تناظر، تاریخی و سماجی تناظر سے منسلک ہو جاتا ہے اور یہیں سے متن کی تعبیر کی راہ کھل جاتی ہے۔ تاہم واضح رہے کہ یہ تعبیر آزادانہ اور من مرضی کی نہیں ہوتی بلکہ لسانی و تاریخی تناظر کی ہم رشتگی کے مذکورہ تصور کے تحت ہوتی ہے۔
یہ کہنا سادہ لوحی ہو گی کہ تنقید اور لسانیات میں تعلق کی یہی صورتیں ممکن ہیں، مگر یہ کہنا مبنی برانصاف ہو گا کہ تنقید، لسانیات سے یا تو متن کے تعبیر و تجزیے کا طریق کار مستعار لیتی ہے یا پھر تعبیر و تجزیے میں براہ راست مدد لیتی ہے۔ تاہم کچھ اور طریق کار بھی منتخب کیے جاسکتے ہیں اور کسی دوسری طرح سے تعبیرِ متن میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً لسانیات اور دیگر علوم کے تعلق سے پیدا ہونے والی لسانیات کی شاخیں جیسے سماجی لسانیات، نفسی لسانیات وغیرہ تنقید کو تعبیر متن کے نئے انداز فراہم کر سکتی ہیں۔ ویسے تو سماجی و نفسی لسانیات کی طرز پر تخلیقی لسانیات کو خالص سائنسی بنیادوں پر قایم کرنے کی ضرورت اور اسے تنقیدِ متن میں بروئے کار لانے کی حاجت ہے۔ تخلیقی لسانیات اسلوبیات سے مختلف ہو گی۔ یہ محض ادب کی زبان کے انفراد و امتیاز کا مطالعہ نہیں کرے گی (جیسا کہ اسلوبیات کرتی ہے) بلکہ اس نفسی تخلیقی حالت کے تناظر میں ادبی زبان کا مطالعہ کرے گی جو ادب کو وجود میں لانے کی ذمے دار ہے اور جس کے ہاتھوں زبان نحوی سطح پر نئی ترتیب اور معنیاتی سطح پر تقلیب سے ہم کنار ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جیکب سن کے ترسیلی ماڈل پر نظرِ ثانی کی جاے اور ایک نئے لسانی عنصر کو شامل کیا جاے۔متکلم کے علاوہ ،اپنے باطنی انکشاف کو اہمیت دینے والے تخیلی کردار کو اس ترسیلی ماڈل کا حصہ سمجھا جاے۔یہ کردار تخلیقی عمل کے دوران میں ہی اور لسانی دائرے میں اپنے خدوخال حاصل کرتا ہے۔تخلیقی لسانیات اس مشترک ساخت کی تحقیق بھی کرے گی جو فرد کی نفسی کیفیت اور سماج کی تہذیبی حالت کو یکساں طور پر متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

حواشی:
۱۔ ان کا اصل اقتباس یہ ہے:
"The linguist studies the language of all persons alike, the individual features in which a great writer differs from the ordinary speech of his time and place interest the linginst no more than the individual features of any other person and speech, and much less than the features that are common to all speakers."
(Language, London, 1935, Ailen and Unwin. P 21-2)
۲۔ رے منڈ چیپ مین کے لفظوں میں سٹائل کی خصوصیت یہ ہے:
"The basis... is the choice of certain liagnistic features in place of others."
(Raymond Chapman, Language and Literature. London: Edward Arnold (Publishers) Ltd. 1984, p 10)
۳۔ ڈاکٹر سید حامد حسین: لفظوں کی انجمن میں؛مکتبہ جامعہ، نئی دہلی،؛۱۹۹۶ء، ص ۱۴
۴۔ اس ضمن میں سوسیئر کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
"133 The language user is unaware of their succession in time: he is dealing with a state. Hence the linguist who wishes to understand this state, must rule out of consideration everything which brought that state about, and pay no attention to diachrony. The intervention of history can only distort his judgment."
(Course in General Linguistics, Open Court, La salle, Illinois 1992, P 81).
5- "The aim of general synchronic linguistics is to establish the fundamental principles of any idiosynchronic system, the facts which constitute any linguistic state."(IBID P 99)
6- "(Levi Strauss) believes that this linguistic model will uncover the basic structure of human mind - the structure which governs the way human beings, shape all their institutions, artifacts and forms of knowledge."
(Raman Solden, Peter Widdowson: Contemporary Literary Theory; The University Press of Kentuckey, 1993, PIII)
۷۔ افلاطون نے یہ بحث Cratylas میں اٹھائی ہے۔ بالعموم یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ زبان اور دنیا کے رشتے پر غور کرنے والا پہلا آدمی افلاطون ہے، جو درست نہیں ہے۔ افلاطون سے کہیں پہلے بھرتری ہری یہ بحث پیش کر چکا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ بھرتری ہری اور افلاطون دونوں زبان اور دنیا کے رشتے کو حقیقی اور فطری قرار دیتے ہیں۔ افلاطون کہتا ہے کہ اشیا کا نام جان لینے سے اشیا کا علم حاصل ہو جاتا ہے۔
مزید جاننے کے لیے دیکھیے:
* Donald G. Ellis
* From Language and Communication; London, Lawerence Erlbaum Association Publishers. 1992.
* Sibajiban Bhattacharyya, Bhartri Hari and Withengstein, Dehli, Sahitya Akademi, 2004.
۸۔ سوسیئر کے تصور نشان کی وضاحت کے لیے کورس کے صفحات ۶۵ تا ۷۰ ملاحظہ کیجیے۔
۹۔ رومن جیکب نے مقالہ ’’لسانیات اور شعریات‘‘ کے عنوان سے ۱۹۵۶ء میں انڈیانا یونی ورسٹی میں پیش کیا تھا۔ ان کے پیش نظر بنیادی سوال یہ تھا کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو ایک لسانی عملی کو آرٹ کا نمونہ بناتی ہے ؟ اس سوال کا جواب انھوں نے لسانیات میں ہی تلاش کیا۔ مزید بحث کے لیے ملاحظہ کیجیے۔
David Lodge (ed): Modern criticism and Theory; Dehli, Pearson, 2003
P 31-56.
10- "... There is nothing outside the text."
"... The writing has no context external to itself which would coerce its movement."
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے۔
Frank Lentricchia: After the New criticism; London: Methuem,P 160-73





Back to Conversion Tool


Back to Home Page

Fiction's Critique : Old and New Theories

فکشن کی تنقید: پرانے اور نئے نظری مباحث


فکشن کی تنقید نے (جو بیش تر مغربی ذہن کی پیداوار ہے)مجموعی طور پر دو بڑے سوال قائم کیے اور ان کے جوابات کی تلاش میں سرگرمی دکھائی ہے۔ پہلا سوال ہے: فکشن کا زندگی سے کیا رشتہ ہے؟جب کہ دوسرا سوال یہ ہے: فکشن کی اپنی آزادانہ حیثیت اور شعریات کیا ہے؟ افسانوی تنقید کو یہ دو سوال تشکیل دینے میں صدیاں لگی ہیں۔ تخلیقی بیانیوں کو سمجھنے میں انسانی فکر نے کس قدر سست روی کا مظاہرہ کیاہے!
تاریخی طور پر دیکھا جائے توبیسویں صدی کے ربعِ اوّل سے قبل (روسی ہیت پسندی کے آغازسے پہلے)افسانوی تنقیدنے بالعموم پہلے سوال کو اپنا محور بنایا اور بعد ازاں فکشن کی تنقید نے جو رخ اختیار کیا اور جس دائرے کوتشکیل دیا، وہ دوسرے سوال کا مرہون ہے، تاہم فکشن کی تنقیدی روایت میں (جسے اب کر کشن Criction بھی کہا جانے لگا ہے)، ان دونو ں سوالوں کی موجودگی کا احساس برابر رہا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ پہلے فکشن اور زندگی کے رشتے سے متعلق سوال کو اہمیت ملی اور پھرایک وقت آیا، جب یہ سوال پس منظر میں چلا گیا اور فکشن کی اپنی شعریا ت کو سمجھنے یا طے کرنے کے مساعی ہوئیں۔
ایک سوال کی جگہ دوسرے سوال کو اہمیت ملنے کی ایک وجہ تو پہلے سوال کی ’’فکری اور اطلاقی توانائی ‘‘ کا صَر ف ہو جانا ہے اور دوسری وجہ بعض تاریخی واقعات وعوامل ہیں ،جو سوالوں کی اہمیت و معنویت پر اثر انداز ہوتے ہیں اور تیسری وجہ ،وہ روحِ عصریاEpistemeہے جو بعض چیزوں اور سوالوں کو اہم اور بعض کو غیر اہم بنا دیتی ہے ۔چوں کہ ادبی تنقید، معاصر فلسفیانہ و سائنسی فکر سے منسلک و متاثر رہی ہے اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ ادبی تنقید نے اپنے عہد کے غالب فکری رجحانات کی روشنی میں اپنے سوالات قائم کیے ہیں،اس لیے معاصر فکر بدلتی ہے تو تنقیدی سوالات بھی بدلنے لگتے ہیں۔ تنقیدی سوالات کی تبدیلی کے پس منظر میں یہ وجہیں،بہ یک وقت یا الگ الگ موجود ہوتی ہیں۔
فکشن کی تنقید کے ابتدائی نقوش یونانی تنقید میں ملتے ہیں۔ افلاطون نے ’جمہوریہ ‘‘میں نقل نگاری (Mimesis)اور واقعہ نگاری(Digesis)کی اصطلاحات برتی ہیں۔ افلاطون نقل سے مراد ایسا بیانیہ لیتا ہے جو کسی واقعے کی ٹھیک ٹھیک نمایندگی یا نقل کرے(واضح رہے کہ اس کے پیش نظر المیے، طربیے اور رزمیے پر مبنی شعری فکشن ہے)۔ ’’نقل‘‘پڑھتے ہوئے ہمار ادھیان نہ صرف واقعے پر(جس کی نقل کی جاری ہے) برابر مرکوز رہے بلکہ اس کے حقیقی ہونے کا تاثر بھی ملے۔ دوسرے لفظوں میں ’’نقل‘‘ ایک قسم کی حقیقت نگاری ہے، جب کہ ’’واقعہ نگاری‘‘ ایک ایسے بیانیہ کا مفہوم لیے ہوئے ہے جو اپنے تخیلی اور تشکیلی ہونے کا تاثر دے اور اسے پڑھتے ہوئے قاری کی توجہ بیانیے کی اپنی جداگانہ کائنات پر مرتکز رہے۔ ہم کَہ سکتے ہیں کہ ’’نقل‘‘فکشن /بیانیے کو زندگی کے خارجی ،مانوس اور روز مرہ تجربات سے مربوط کرتی ہے اور واقعہ نگاری بیانئے کے خود مختار ، خود کفیل اور خود اپنے شعریاتی ضوابط کے تابع ہونے کا مفہوم لیے ہوئے ہیں۔ نقل ،واقعہ ہے اور واقعہ نگاری، بیان واقعہ۔ نیز یہ دو اصطلاحیں دو زاویہ ہائے نظر بھی ہیں جو فکشن کو زندگی کی نظر سے اور فکشن کو خود فکشن کی نظر سے دیکھنے سے عبارت ہیں۔ ایک فکشن کے اصول فکشن سے باہر زندگی میں تلاش کرتا ہے اور دوسرا زاویہ نگاہ فکشن کے اصولوں کو خود فکشن کے اندر دریافت کرتا ہے۔ چناں چہ ایک فکشن کو کسی اور حقیقت یا تجربے پر منحصر خیال کرتا ہے اور دوسرا فکشن کو اپنے آپ میں مکمل اور خودکفیل متصور کرتا ہے۔ پہلی صورت میں فکشن کی قدر کا تعین باہر کی حقیقت (اور اس کی کامیابی عکاسی) کی ر’و سے کیا جاتاہے اور دوسری صورت میں قدر کا پیمانہ خود فکشن ہوتا ہے۔
یہ ایک جائز سوال ہے کہ اگر کوئی بیانیہ مانوس تجربے ،واقعے کو پیش کرتا ہے تو اسے فکشن کیوں کہا جاے؟فکشن کی لازمی شرط ،اس کا اختراعی اور تشکیلی ہوناہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ’نقل پر مبنی فکشن‘میں یہ شرط کیوں کر پوری ہوتی ہے۔قصہ یہ ہے کہ فکشن میں واقعے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے:راوی،پلاٹ،سامع،تھیم، آئیڈیالوجی وغیرہ۔واقعات اگر مانوس ہیں تو انھیں کسی خاص راوی کے ذریعے بیان کرنا اور پلاٹ میں مربوط کرنا ،اختراعی اور تشکیلی عمل ہے۔واقعات کو پلاٹ میں منظم کرنے والی قوت،بیانیے کا تھیم یا آئیڈیالوجی ہے۔انھیں باہرکی دنیا سے اخذ بھی کیا جاسکتا ہے اور خود تشکیل بھی دیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا مناسب ہے کہ دونوں قسم کے فکشن میں اصل فرق ،فکشن کے عناصر میں سے ایک یا زیادہ کا دوسرے عناصر پر حاوی ہونا ہے۔
اب اگر غور کریں تو مقالے کے آغاز میں جن دو سوالات کا ذکر ہوا ہے۔ ان میں سے پہلا سوال(فکشن کا زندگی سے رشتہ) نقل یا مائی می سس سے متعلق ہے اور دوسرے سوال (فکشن کی شعریات) کا تعلق واقعہ نگاری یا ڈائی جی سس سے ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ ایک طویل عرصے تک فکشن میں مائی می سس کا زاویہ نظر حاوی رہا اور فکشن کو زندگی اور اس کے تجربات و مسائل کی ترجمانی کے حوالے سے سمجھنے اور جانچنے کا میلان غالب رہا اور اب ڈائی جی سس کے زوایہ نظر نے اپنی موزونیت کو باور کرایا ہے اور فکشن کی شعریات اور اس کی رسمیات و ضوابط کودریافت اور طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
روسی ہیئت پسندی اور ساختیات سے قبل فکشن کی تنقید میں یہ بات عقیدے کا درجہ رکھتی تھی کہ فکشن (بالخصوص ناول اور افسانے)کا زندگی سے گہرا ،اٹوٹ رشتہ ہے اور فکشن کا زندگی کے بغیر اور زندگی سے الگ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً اٹھارویں کے کلاراریو(Clara Reeve)نے اپنی کتاب "Progress of Romance"(۱۷۸۵ء) میں لکھا:
"The novel is a picture of real life and manners, and of time in which it is written."
اور اس سے ایک صدی بعد ہنری جیمز نے ۱۸۸۴ء میں اپنے مشہور مقالے ’’فکشن کافن‘‘ میں یہ رائے دی:
’’ناول کی وسیع ترین تعریف یہ ہے کہ وہ زندگی کا ذاتی اور براہ راست تاثر پیش کرتا ہے۔ یہی بات اس کی قدر وقیمت مقرر کرتی ہے۔ اگریہ تاثر پوری شدت سے بیان ہو گیاتو ناول کام یاب ہے اور اگر کمزور رہا تو اسی اعتبار سے ناول کم زور اور ناکامیاب ہو گا!‘‘(ترجمہ جمیل جالبی)
اور بیسویں صدی میں ڈی ایچ لارنس نے بھی اسی سے ملتی جلتی رائے دی:
’’فن (فکشن)کا فریضہ یہ ہے کہ انسان اور اس کے گردو پیش میں پائی جانے والی کائنات کے مابین جو ربط موجود ہے، اس کا ایک زندہ لمحے میں انکشاف کرے۔ ‘‘(ترجمہ مظفر علی سید)
فکشن کے دیگر مغربی نقادوں لباک، ای ایم فاسٹر، ہیری لیون، فرینک کرموڈ، آرسٹیگ آئن واٹ اور رینے ویلک وغیرہ نے بھی اسی قسم کی آرا دی ہیں۔ ان سب کے افکار کا خلاصہ یہ ہے کہ فکشن ہماری حقیقی زندگی کا ترجمان ہوتاہے۔ جو تجربات، سانحات اور واقعات ہمیں روز مرہ زندگی میں پیش آتے ہیں، فکشن انھی کو لکھتا ہے۔ یوں ہم فکشن کے ذریعے اپنی گزری اور گزررہی زندگی کی باز آفرینی کرتے ہیں۔ فکشن ہمارے ماضی اور حال کا آئنہ ہوتا ہے۔ افسانوی تنقید نے بیسویں صدی کے اوائل تک اگر یہ موقف اختیار کیے رکھا ہے (اور فکشن اور زندگی کے رشتے سے متعلق سوال ہی کو پیش نظر رکھا ہے)تو اس کی ایک تاریخی وجہ بھی ہے۔ اٹھارویں صدی میں مغرب میں جب ناول وجود میں آیا تو اسے ’’رومانس‘‘سے ممیز کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی(جیسے ہمارے یہاں ناول اور داستاں میں امتیاز کی ضرورت محسوس کی گئی)۔ رومانس کہانی کی وہ قسم تھی جو عہد وسطیٰ میں رائج اور مقبول تھی اور جس میں عشق اور مہم جوئی کے فرضی قصے بیان کیے جاتے تھے۔ ا س کے مقابلے میں ناول کا لفظ کہانی کی اس نوع کے لیے برتا گیا جس میں حقیقی زندگی کے واقعات کو بیان کیا گیا ہو۔ رینے ویلک نے واضح کیا ہے کہ ناول کا جنم غیر افسانوی بیانیوں(جیسے خطوط، جرنل، یاداشتیں، آپ بیتیاں اور توزک وغیرہ)سے ہوا ہے۔ گویا رومانس فرضی، تخیلی اور شاعرانہ ہے اور ناول حقیقی، سوانحی اور تاریخی ہے۔ رومانس میں انسانی تخیل آزاد ہوتا ہے اور نئے اور انوکھے قصے گھڑ سکتا ہے، جب کہ ناول میں تخیل خارجی واقعات و حقائق کی لسانی تشکیل کا پابند ہے۔ برسبیل تذکرہ اُردو میں داستان اور ناول میں جو امتیاز کیا گیا، وہ کم وبیش اسی بنیاد پر تھا۔
عام طورپر یہ کہا گیا ہے کہ داستان (یارومانس) سے ناول کی طرف سفر دراصل ہمارے تصورِ کائنات میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ داستان اس تصورِ کائنات کی پیداوار ہے جو کائنات کی حرکت کو دائروی اور اسے تقدیر کا پابند قرار دیتا ہے۔اس تصور کے مطابق کائنات میں ہونے والے واقعات دہراے جاتے ہیں۔لہٰذا کائنات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ہوتی ؛ہر شے اپنی مقررہ حالت پہ قایم رہتی ہے؛جب اس کی جگہ دوسری شے لیتی ہے تو وہ پہلی شے کی نقل کرتی ہے۔نیز کائناتی عناصر، کائنات کی اس دائروی حرکت میں دخل انداز نہیں ہوتے۔دوسرے لفظوں میں یہ عناصر قوتِ ارادی سے محروم ہوتے ہیں۔ وہ دی گئی لکیر پر چلنا جانتے ہیں،لکیر کو توڑنے اورکوئی دوسری لکیرکھینچنے پر قادر نہیں ہوتے۔ چناں چہ آپ دیکھیے کہ داستانوں کے کرداروں کے اوصاف مستقل اور غیر متغیر ہوتے ہیں ۔ان میں شروع سے آخر تک کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔تبدیلی کے لیے قوتِ ارادی یا باہر کے واقعات سے فعال طور پر اثرپذیر ہونا ضروری ہے۔یہ دونوں باتیں باغ و بہار کے چاروں درویشوں اورطلسم ہوش ربا کے میں پائی جاتی ہیں۔ اسی بنا پر داستانی کردار فنّی سطح پر جامد ہوتے ہیں۔تاہم واضح رہے کہ داستانی کرداروں کا جامد ہونا ،داستان کی شعریات کی ر’و سے نقص نہیں،ان کا خاصہ اور پہچان ہے۔اسی طرح داستانوں کے واقعات، اتفاقات کی پیداوار ہوتے ہیں۔ داستانوں میں حیرت و طلسم بڑی حد تک ’’اتفاقات کی منطق‘‘ کانتیجہ ہوتے ہیں(بالکل ویسے ہی جیسے تقدیر کا عمل ہوتا ہے۔) اور یہ منطق داستان کے پلاٹ کو منظم اور علت و معلول کے رشتے کا پابند نہیں ہونے دیتی ۔یہ بھی نشانِ خاطر رہے کہ داستانی پلاٹ کی ’علت و معلول ‘ سے علاحدگی ،داستان کا فنی نقص نہیں ،اس کی شعریات کا اصول ہے۔
داستان کے مقابلے میں ناول ایک دوسرے تصورِ کائنات کا ثمرہ ہے۔ اس تصورِ کائنات کے مطابق کائنات کی حرکت مستقیمی ہے۔ یہ انسانی شعور کے لیے قابل فہم ہے اور اسی بناپر انسانی ارادہ اسے بدلنے کی قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا کائنات میں تبدیلی اور ارتقا کا عمل جاری رہتا ہے اور اس عمل کی رفتار اور جہت پر انسانی مقاصد اور ارادوں کے اثرات واضح ہوتے ہیں۔اسی تصورِ کائنات سے ماخوذ ہونے کا نتیجہ ہے کہ ناول کے کردار ارتقا پذیر ہوتے ہیں:امراؤ جان ادا ایک عام لڑکی سے طوائف بن جاتی اور طوائف کے طور پر باقاعدہ شخصیت رکھتی ہے یعنی اپنے ارادے سے عمل کرتی اور دوسروں کے اردوں کے مقابلے میں اپنے ارداے کا حصار تعمیر کر لیتی ہے۔اس طرح کردار کا ارتقا ناول (اور افسانے)کی شعریات کا اہم اصول ہے ۔اگر کہیں یہ ارتقا موجود نہیں(جیسے نذیر احمد کے ناولوں میں ) تو ایک فنی نقص ہے۔مدوّر اور چپٹے کردار عمدہ افسانوی کردار ہیں ؛جامد اور سٹیریو ٹائپ کردار ناقص افسانوی کردار ہیں۔مذکورہ تصورِ کائنات سے اثر پذیری کے باعث ہی ناول کے واقعات میں علت و معلول کا رشتہ ہوتا ہے اور نتیجتاً ناول کا پلاٹ گٹھا ہوا اور منظم ہوتا ہے۔ ناول میں اگر کہیں یہ رشتہ کم زور ہے تو اسے بھی ناول کی فنی خامی شمار کرنا چاہیے۔داستان سے ناول کی طرف مکمل پیرا ڈایم شفٹ ہے!
بر سبیلِ تذکرہ ،ناول اور افسانے کے کرداروں کی ارتقائی نوعیت اور پلاٹ میں کارفرما علت و معلول کی کیفیت کو معاصر تصورِ کائنات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔امراؤ جان کے ارتقا اور گوتم نیلمبر کے ارتقااور (میرا گاؤں کے)بھا اسلم کے ارتقا کی نوعیت کا مطالعہ ،حرکت و تغیر کے معاصرتصورات کے تناظر میں کیا جانا چاہیے۔
اس طور داستان اور ناول میں جو فرق کیا گیاہے ، وہ دراصل مثالیت و تخیل اور حقیقت و عقلیت کا فرق تھا۔ مرزا ہادی رسوا سے لے کر شمس الرحمن فاروقی تک اردو نقادوں نے ناول کاامتیازی وصف حقیقت نگاری ہی قرار دیا ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، فکشن (بالخصوص ناول) نے ابتدا ہی سے حقیقت کی ترجمانی کو اپنا فریضہ خیال کیا۔ فکشن کی اس بنیاد ی تخلیقی جہت کو نظر ی بنیاد حقیقت نگاری کے نظریے(اور تحریک)نے مہیا کی۔ حقیقت نگاری کا نظریہ انیسویں صدی میں فروغ پذیر ہوا(دیگر جدید ادبی تحریکوں اور نظریات کی طرح اس کی ابتدا بھی فرانس میں ہوئی)۔ حقیقت نگاری کا بنیادی مفروضہ یہ تھا کہ فکشن معاصر زندگی کی سچائیوں کو پیش کرتا ہے اورزندگی کی سچائیوں میں اس عہد کی سماجی، سیاسی، معاشرتی صداقتیں شامل ہوتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں فکشن کا کام ’’چاہیے‘‘کے بجائے’’ہے‘ ‘کو پیش کرنا ہے۔ یوں حقیقت نگاری، زندگی سے متعلق آرزومندانہ تصورات کے بجائے حقیقی زندگی کے تجربات و مشاہدات کو پیش کرتی ہے اور اصولی طور پر انسان کی تخیلی زندگی سے زیادہ اس کے خارجی احوال قلم بند کرنے پر زور دیتی ہے اورفکشن کو ذات کا اظہار نہیں، حیات کا بیانیہ قرار دیتی ہے۔
اس ضمن میں اہم سوال یہ ہے کہ فکشن ،حقیقت کی صاف سچی اور مستندترجمانی میں کام یاب کیسے ہوتا ہے؟حقیقت شے تو نہیں کہ اسے فکشن نگار سماجی زندگی سے اچک کر، ناول یا افسانے کی پلیٹ میں سجا کر پیش کردے۔نیز کیا حقیقت جیسی ’’باہر ‘‘ہے، اسے ویسا ہی فکشن کے بیانیے میں پیش کرنا اور قابل محسوس بنانا ممکن ہے اور ہے تو کیوں کر؟عام طور پر حقیقت نگاری کے نظری مباحث میں اسی سوال کو نظر انداز کیا گیا اور اسے ایک طے شدہ امربلکہ فنی عقیدہ خیال کیا گیا کہ فکشن معاصر صداقتوں کو پورے اعتماد اور استناد کے ساتھ پیش کرنے پر قادر ہے۔ لہٰذا کسی ناول کے اچھے یا برے ہونے کا معیار یہ سمجھا گیاکہ وہ کس حد تک ہم عصر زندگی کا بیانیہ ہے اور یہ سوچنے کی زحمت کم ہی کی گئی کہ فکشن کو زندگی کا بیانیہ بننے کے لیے ’’اولاً و آخراً‘‘زبان پر ہی انحصار کرنا ہوتا ہے۔ خارجی واقعہ یا صورتِ حال فکشن میں دراصل لسانی تشکیل ہی ہوتا ہے۔ حقیقت نگاری کو جب یہ ادراک ہوتا ہے کہ حقیقت اور فکشن کے درمیان زبان موجو دہے تو اسے زبان، فکشن اور حقیقت کے تعلق سے ایک خاص موقف اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اولاً یہ دیکھا جاتا ہے، آیا زبان کسی مشاہدے، تجربے یا واقعے کی ٹھیک ٹھیک ترجمانی کر بھی سکتی ہے یا نہیں، یعنی کیا زبان شفاف میڈیم ہے یا نہیں؟حقیقت نگاری فطری طور پر زبان کو شفاف میڈیم تسلیم کرنے پر مجبور ہوتی ہے اوریہ موقف اختیار کرتی ہے کہ جب کوئی خارجی حقیقت زبان میں پیش ہوتی ہے تو وہ بدلتی نہیں۔ زبان ترجمانی کے عمل میں غیر جانب دار رہتی ہے۔ مگر کیا واقعی؟حقیقت نگاری اس سوال کا مبہم سا احساس تو رکھتی ہے ،مگر اس سے آنکھیں چار کرنے سے گریز کرتی ہے ۔اسی مبہم احساس کا نتیجہ ہی ہے کہ حقیقت نگاری ان ’’تدبیروں‘‘کی تلاش کرتی اور بروئے کار لاتی ہے، جن کی مدد سے فکشن میں حقیقت کی بے کم و کاست ترجمانی کی جا سکے۔ ایک اہم تدبیر اس ضمن میں یہ ہے کہ فکشن کا قاری یہ بھول جائے کہ وہ کسی واقعے یا صورتِ حال کا بیان پڑھ رہا ہے؛ وہ یہ محسوس کرے کہ واقعے کابیان درمیان میں موجود ہی نہیں؛اس کے حواس براہ راست واقعے سے دو چار بلکہ ہم کنار ہیں۔ ’’متن فراموشی‘‘کا یہ عمل ایک حد تک قاری کے فعال متخلیہ کا مرہون ہے اور بڑی حد تک حقیقت نگار مصنف کی لسانی و اسلوبی تدبیروں اور افسانوی تکنیکیوں پر منحصر ہے اور اس ضمن میں واحد متکلم اور ہمہ بیں ناظرکے ’’پوائنٹ آف ویو‘‘ سے بطور خاص کام لیا جاتا ہے۔ واحد متکلم کے صیغے میں لکھی گئی کہانی قاری کو اس گمان میں جلد مبتلا کر دیتی ہے کہ وہ فاصلے پر بیٹھا ہوا تماشائی نہیں، خود کہانی کے عمل میں شامل ہے۔ کہانی میں ’’میں‘‘کی برابر موجودگی کا احساس قاری کو یہ بات بھلانے کی زبردست ترغیب دیتا ہے کہ کہانی کے ’’میں‘‘سے قاری کی الگ کوئی شخصیت یاانا ہے۔ چناں چہ واحد متکلم میں لکھی گئی کہانی حقیقت کاتاثر ابھارنے میں خاصی کام یاب ہوتی ہے۔ اسی طرح’’ہمہ بیں ناظر‘‘(Omniscient Narrator)کے ’’پوائنٹ آف ویو‘‘ سے لکھی گئی کہانی بھی حقیقت سے قاری کی حسی اور شش جہات قربت کا احساس پیدا کرتی ہے۔ کہانی میں جب داخلی اور خارجی، سماجی اورنجی، واقعاتی اور نفسیاتی زندگی کا ہر پہلو قاری کی گرفت میں آجاتا ہے تو وہ ’’بیانِ واقعہ‘‘ کو بھول کر ’’واقعے‘‘میں کھو جاتا ہے۔
بیانِ واقعہ کو بھلانے اور واقعے کو برابر یاد دلاے رکھنے میں قاری کا یہ ایقان بھی اہم کردار ادا کرتا ہے کہ بیان اور واقعے میں فاصلہ موجود نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ ایقانکیوں کر پیدا ہوتا ہے؟اس کے لیے ایک طرف اسعمومی راے کی وسیع پیمانے پر اشاعت کی جاتی ہے کہ فکشن اور زندگی میں سرے سے کوئی فاصلہ موجود نہیں اور دوسری طرف فکشن میں ان بیان کنندوں اور بیانیہ لہجوں اور ان اسالیب کو کام میں لایا جاتا ہے جو بے حد مانوس ہوتے ہیں:یا تو ارد گرد کی زندگی سے یا افسانوی روایت سے۔اس ایقان پر ضرب اس وقت لگتی ہے جب فکشن میں کسی طرح بیانیہ عمل کو پیش منظر میں لا کر اسے واقعے کے متوازی لا کھڑا کیا جاتا ہے۔
حقیقت نگاری نے مجموعی طور پر فکشن میں بیانیے(narration)کے عمل اور زبان کی موجودگی و کارکردگی کے سوال کو دبایا(repress)ہے اور جہاں کہیں بیانیے کے لسانی عمل ہونے کا ادراک کیا ہے، وہاں بھی حقیقت اور زبان کے رشتے کے پے چیدہ سوال پر غور کرنے سے گریز کیا ہے اور اس بات کو ایک سادہ سچائی کے طور پر قبول کیا ہے کہ زبان خارجی حقیقت کی ترجمانی کا موثر وسیلہ ہے اور (جیسا کہ پہلے ذکرہوا) ان لسانی و بیانیہ تدبیروں کو تلاش کرنے اور انھیں برتنے کی کوشش کی ہے جو حقیقت کی ترجمانی ٹھیک ٹھیک طور پر کر سکیں اور بیانیے کے عمل کو حقیقت کے مساوی اور متبادل بنا سکیں۔
روسی ہیئت پسندوں نے پہلی دفعہ فکشن کو زندگی (اور خارجی حقیقت)سے الگ کر کے دیکھا اور اس امر کو باور کرانے کی سعی کی کہ فکشن کی ایک اپنی حقیقت ہے اور وہ کسی دوسری اور خارجی حقیقت پر منحصر نہیں۔ مثلاً شکلووسکی نے قطعیت کے ساتھ کہا:
"Art was always free of life and its colour never reflected the colour of the flag which waved over the fortress of the city."
آرٹ (فکشن)کی زندگی سے علاحدگی کا مفہوم یہ لیا گیا ہے کہ اس کے اپنے مخصوص ضابطے، قوانین (اور ہیئت) ہیں، جو آرٹ کوبہ طور آرٹ قائم کرتے اور اسے جداگانہ شناخت دیتے ہیں۔ آرٹ یا فکشن اپنی شناخت اور قیام کے لیے زندگی کا نہیں، خود اپنے ہیئتی ضابطوں اور رسمیات کا دست نگر ہے۔ دوسرے لفظوں میں معاصر زندگی کی سچائیوں کے علاوہ، تخیلی اور اختراعی وقوعوں کا بیان، فکشن ہو سکتا ہے اگر ان وقوعوں کو فکشن کی مخصوص شعریات کے تحت پیش کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی کا حقیقی واقعہ یا کوئی صداقت فکشن کا حصہ نہیں بن سکتی، بالکل بن سکتی ہے؛ فکشن کے شعریاتی قوانین کی پابندی سے ۔گویا اولیت حقیقت یا حقیقتِ واقعہ کو نہیں، ہیئت کو ہے۔اگر یہ ہیئت موجود نہیں اور باقی سب کچھ ہے تو فکشن قایم نہیں ہو سکتا۔ اس زاویے سے دیکھیں تو فکشن (اور ادب) کا مواد دراصل ہیئت کا حصہ اور ہیئت پر منحصر ہو جاتا ہے۔ ٹیرنس ہاکس نے روسی ہیئت پسندی کی اس جہت کے متعلق لکھا ہے:
"Content is a function of literary form, not somthing separable from it, parceptible beyond it or through it."
گویا جو کچھ ہے، وہ ہیئت ہے۔ ادب کے تمام اجزا و عناصر ہئیت کی وجہ سے، ہئیت کی رو سے اور ہیئت کے تحت وجود رکھتے ہیں۔ اسی بات کو وکٹر شکلووسکی نے اس طور بیان کیا کہ آرٹ کی بنیادی خصوصیت’اجنبیانا‘(Defamiliarization)ہے۔ آرٹ سے باہر زندگی اور اس کی حقیقتیں، زبان، اظہار کے اسالیب وغیرہ اپنی مخصوص پہچان رکھتے ہیں،مگر جب وہ آرٹ کے منطقے میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے مخصوص ہیئتی حربے اور قوانین انھیں اجنبی بنا دیتے ہیں؛ بدل دیتے ہیں اور انھیں نئی صورت دے دیتے ہیں اور یہ صورت آرٹ سے باہر پرورش پانے والے شعور کے لیے نامانوس ہوتی ہے۔ (اسی لیے ادب کے قاری کو اپنے عقائد، تعصبات، تصورات، نظریات کو معطل کرنا پڑتا ہے)۔ ایک زاویے سے اجنبیانے کاعمل حقیقت کو مسخ کرنے کا عمل بھی ہے کہ یہ حقیقت کو اس کی اصل شکل میں پیش کرنے کی بجائے اسے نامانوس اور مختلف صور ت میں پیش کرتا ہے۔ ہئیت پسندوں سے حقیقت نگاروں اور ترقی پسندوں کے اختلافات کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی،مگر ہیئت پسندوں کا موقف تھا کہ اگر ادب کو سائنسی طریقوں سے واضح کرنا ہے؛اس کی حقیقت کا ’مستند‘ علم حاصل کرنا ہے؛اس کی روح تک غیر مشتبہ انداز میں رسائی حاصل کرنی ہے تو پھر اسے قبول کیے بنا چارہ نہیں کہ ادب اصلاً ایک ہیئت ہے اور ہیئت اسلوبی و لسانی حربوں اور مخصوص ضابطوں اور قوانین سے عبارت ہے۔
ہیئت پسندی کی روایت میں فکشن کی شعریات پر سب سے اہم کام ولادی میر پراپ کا ہے۔ اس نے اپنی کتاب ’’مارفالوجی آف فیری ٹیلز‘‘ میں فکشن /بیانیے کی اس ساخت /ہیئت کو مرتب صورت میں پیش کیاہے جو تمام بیانیوں میں کارفرما ہوتی ہے؛جو انھیں بیانئے کے طور پر قائم کرتی ہے اور جس کی وجہ سے بیانیہ اپنی منفرد شناخت بنانے میں کام یاب ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں بیانیوں کی کثرت ہے؛دنیا میں متعدد کہانیاں موجود ہیں مگر’’کچھ ایسا‘‘ بھی موجود ہے جو کثرت اور تعدّد کو وحدت کے رشتے میں پروتا ہے۔ اس’ وحدت کی وجہ سے ہی انھیں بیانیہ قرار دیا جاتا ہے۔ ‘یہ ’’کچھ ایسا‘‘ دراصل بیانیے کی ساخت یا ہیئت یا شعریات ہے۔ لہٰذا اگر شعریات مرتب ہو جائے تو اس اصل الاصول کو گرفت میں لیا جا سکتا ہے، جو بیانئے اور غیر بیانیے، ادب اور غیر ادب، فکشن اورنان فکشن میں حد فاصل قایم کرتا ہے۔ پراپ نے اسی اصل الاصول کو فیری ٹیلز سے دریافت و مرتب کیا ہے اور ان کہانیوں کو اس لیے منتخب کیا ہے کہ یہ کہانیاں اس کے نزدیک تمام قسم کے بیانیوں کا پروٹو ٹائپ ہیں۔انھی کی ’’روح‘‘تمام بیانیوں میں موجود ہے۔ پراپ چوں کہ بیانیے کے اصل الاصول تک پہنچنا چاہتا ہے، اس لیے وہ کرداروں اور واقعات اور ان کے روابط تک محدود نہیں رہتا، وہ ان قوانین تک رسائی کی کوشش کرتا ہے جو کرداروں اور واقعات کو کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں۔ انھیں وہ فنکشن (Function)کا نام دیتا ہے اور فنکشن کی تعریف یوں کرتا ہے:
"An act of character defined from the point of veiw of its significance for the course of action."
یعنی فنکشن یا وظیفہ کردار کا وہ عمل ہے جسے کہانی کے واقعاتی سلسلے میں اس کی اہمیت(اور ضرورت) کے نقطہ نظر سے واضح کیاجائے۔ سادہ لفظوں میں کہانی واقعاتی سلسلہ ہے، اسے کردار اپنے عمل سے آگے بڑھاتے یا کسی خاص رخ میں لے جاتے ہیں۔ لہٰذاکردار نہیں، اس کا عمل زیادہ اہم ہے اور عمل کی معنویت اپنے طور پر نہیں، کہانی کے واقعاتی سلسلے کو متاثر کرنے کی صلاحیت سے قایم ہوتی ہے۔ اس طور پراپ نے کہانی کی ساخت میں فنکشن کو بنیادی اہمیت دی(یوں بھی ہیئت پسندی کہانی کے سارے مواد کو جس میں کردار، واقعات سب شامل ہیں، ہیئت کا فنکشن قرار دیتی ہے)۔ اس نے کہانی کے اکتیس فنکشنز(جن کی تفصیل کا یہ محل نہیں)اور ان کے سات دائرہ ہائے عمل بتائے ؛وہ یہ ہیں:
"The villain, the doner (producer), the helper, the princess and her father, the dispatcher, the hero, the false hero."
پراپ کا خیال ہے کہ ہر کہانی ،عمل کے انھی دائروں (Sphere of action)سے عبارت ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ولن، ہیرو، شہزادی یا مددگار کوکردار کے بجائے فنکشن کا نام دیتا ہے۔ شاید اس لیے کہ روایتی طور پر کردار انفرادیت کا نام ہے؛ہر کردار کی ایک اپنی شخصیت ہوتی ہے مگر کہانی کے عمل میں کردار کی شخصیت سے زیادہ اس کا عمل اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مثلاً’’ہیرو‘‘ ایک فنکشن ہے جو ’’ایڈی پس ریکس‘‘ میں ایڈی پس ’’ہیملٹ‘‘میں ہیملٹ اور’’راجہ گدھ‘‘ میں قیوم کی شخصیت کو کنٹرول کیے ہوئے ہے۔ یہ تینوں اپنی جداجدا شخصیت کے مالک ہیں۔ ایڈی پس، باپ کے قتل اور ماں سے شادی کا ’’گناہ‘‘ نادانستگی میں کرنے والا شخص ہے، ہیملٹ اپنے باپ کے قتل سے دکھی، ماں کے رویے سے غم زدہ اور انتقامی جذبے سے تڑپنے والا ’’فرد‘‘ ہے۔ جب کہ قیوم جدید عہد کی زندگی، انسانی رشتوں اور خواہشات سے پیدا ہونے والی بے معنویت سے آگاہ اور دکھی آدمی ہے،مگر مذکورہ تینوں بیانیوں میں ان کی انفرادی شخصتیں نہیں، بہ طور ہیرو ان کا عمل اہم ہے۔ یعنی یہ ان کی انفرادی شخصتیں نہیں جو بیانیے کے عمل کو آگے بڑھاتی ہیں، یہ کہانی کی مجموعی صورتِ حال میں ان کا دائرہ عمل یعنی’’ہیرو ‘‘ہے جو کہانی کو کہانی کے طور پر قائم رکھتا اور اسے آگے بڑھاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کہانیوں میں دائرہ عمل تو متعین رہتا ہے، مگر اس میں داخل ہونے والی شخصیتیں بدلتی رہتی ہیں۔ پراپ کے خیال میں ایک کردار کئی دائروں میں اور کئی کردار ایک دائرے میں متحرک ہو سکتے ہیں۔ کہانیوں میں دائرہ ہائے عمل تو محدود اور مقرر ہیں مگر کردار اور شخصیتیں بے حساب ہیں۔ دوسرے لفظوں میں فنکشنر مستقل اور Stableہیں اور وہ اس امر سے آزاد ہیں کہ انھیں کون کس طرح ادا کرتا ہے۔ حتّا کہ ہیرو کے فنکشن کے لیے آدمی کا ہونا بھی ضروری نہیں۔ ہندی افسانہ نگار امرت رائے کی کہانی ’’اندھی لالٹین‘‘ میں اندھی لالٹین’’ہیرو‘‘ ہے۔ کہانی میں اس کا مرکزی کردار ہے؛وہ ایک گلی کے نکڑ پر کھڑی تماشائے حیات دیکھتی ہے اور قاری کو اپنے تجربے میں شریک کرتی ہے۔ رفیق حسین کے افسانوں کے ’ہیرو‘ آدمی نہیں، جانور ہیں۔
کہانیوں کو فنکشن سے عبارت قرار دینے کا مطلب یہ تھا کہ ایسا تجریدی سسٹم یا ساخت موجود ہے جو تمام کہانیوں میں شامل ہے۔ ایک سطح پر یہ ساخت کہانیوں سے الگ اور آزاد ہے، مگر دوسری سطح پر یہ تمام کہانیوں میں رواں دواں بھی ہے۔ اسے کسی ایک کہانی سے مخصوص نہیں کیا جا سکتا(انھی معنوں میں یہ الگ اور آزاد ہے) مگر کسی مخصوص کہانی کو اس کے بغیر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقتاً یہ وہی تھیوری ہے جو سوئیر نے اپنی لسانی تحقیقات میں لانگ اور پارول کے نام سے پیش کی تھی۔ لانگ تجریدی نظام ہے اور پارول اس نظام کا تجسیمی مظہر۔ ہیئت پسندوں نے دراصل کہانیوں کی لانگ یا گرامر کی جست جوکی اور سمجھا کہ جو رشتہ لانگ کا پارول سے ہے، وہی رشتہ کہانی کی شعریات کا تمام کہانیوں سے ہے۔ (اس حوالے سے اہم ترین کام آگے چل کر فرانسیسی ساختیات پسندوں نے کیا۔)
ہیئت پسندوں(بالخصوص پراپ)کی دوسری اہم یافت’’کہانی(Fabula)اور پلاٹ‘‘(Sjuzhet)کا امتیاز ہے۔ ’’کہانی‘‘سے مراد، واقعات کا مجموعہ ہے جو فکشن میں بیان ہوتا ہے جب کہ ’’پلاٹ ‘‘ ان واقعات کا منظم و مربو ط بیان ہے۔ یعنی ’’کہانی‘‘Events of the narrative اور ’’پلاٹ‘‘manner of their representationہے۔ بیانیے میں دوئی کا احساس ای ایم فاسٹر کوبھی تھا؛ اس نے کہانی اور پلاٹ کے فرق پر لکھا تھا۔ اس نے ناول کی بنیاد کہانی کو قرار دیا اور لکھا:
"The basis of a novel is a story and a story is a narrative of events arranged in time-sequence."
اور پلاٹ کے متعلق یہ رائے دی:
"A plot is also a narrative of events, the emphasis falling on causality."
گویا اس کے نزدیک کہانی، زمانی تسلسل میں بیان کیے گئے واقعات کا نام ہے اور پلاٹ ان واقعات کو زمانی تسلسل کے ساتھ ساتھ علت کے رشتے میں پرونے سے عبارت ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ : ’’بادشاہ مرا پھر ملکہ بھی مر گئی‘‘کہانی ہے اوریہ بیان کہ : ’’بادشاہ مرا تو اس کے غم میں گھل گھل کر ملکہ بھی مر گئی‘‘پلاٹ ہے۔ پہلی صورت میں فقط زمانی ترتیب ہے جب کہ دوسرے بیان میں واقعات کی زمانی ترتیب علت کی بھی پابند ہو گئی ہے۔ فاسٹر نے ہر چند پلاٹ اور کہانی میں فرق تو کیا مگر یہ فرق دراصل ناول اور غیر ناول کا فرق ہے۔ ناول میں پلاٹ کا ہونا ضروری ہے؛ واقعات کا زمانی و علتی نظم میں پیش کیا جانا لازمی ہے۔ اگریہ نظم موجود نہ ہو تو کہانی تو ہوگی (جیسے قدیم حکایات یا داستانی کہانیاں ہوتی ہیں) مگر وہ ناول (اور افسانہ بھی)نہ بن سکے گی جب کہ ہیئت پسندوں نے کہانی اور پلاٹ میں جو فرق کیا، اس کا اصلاً پس منظر سوسئیر کا تصورِ نشان ہے۔ سوسئیر نے لسانی نشان کو (Signifier)اور مدلول (Signified)میں منقسم دکھایا تھا۔ دال، نشانی کا صوتی اور ملفوظی پہلو ہے اور مدلول نشان کا ذہنی وتصوّری رخ ہے۔ دال ظاہر و مجسم ہے اور مدلول نہاں اور تجرید ہے۔ دال کسی شے کی ’’لسانی علامت‘‘ ہے اور مدلول اسی شے کا تصور(notion) ہے۔ اس تقسیم کا اطلاق بیانیے پر کیا جائے تو پلاٹ دال کے مترادف ہے اور کہانی مدلول کے مساوی۔ جس طرح دال، مدلول کی ایک طرح سے تجسیم اور نمایندگی کرتا ہے، اسی طرح پلاٹ، کہانی کی تجسیم اور نمایندگی کرتاہے۔ لہٰذا کہانی وہ بنیادی مواد ہے جسے بیانیہ، تصرف میں لاتا اور پلاٹ کی تشکیل کرتا ہے۔ فاسٹر نے کہانی اور پلاٹ میں اصل فرق علتیت(causality)کو قرار دیا تھا مگر ہیئت پسندوں نے پلاٹ کا اس سے کہیں بہتر تصور پیش کیا اور اس میں بیانیے کی تکنیک، طرز واسلوب، سب شامل کیا۔ نیز اس بات پر زور دیا کہ ناول اور افسانہ بیک وقت کہانی اور پلاٹ رکھتا ہے۔
یہ اعتراف ضروری ہے کہ کہانی اور پلاٹ کے امتیاز کے ضمن میں تفصیلی کام فرانسیسی ساختیات پسندوں نے کیا۔ یہ ضرور ہے کہ انھوں نے روسی ہیئت پسندوں کے وضع کردہ ’’بیانیہ ماڈل‘‘ ہی کو بنیاد بنایا۔ فرانسیسی ساختیات میں ہیئت پسندی کے علاوہ سوسئیر کے لسانی ماڈل کو بھی برابر پیش نظر رکھا گیا اور فکشن کی شعریات کی تدوین کو ایک نئے ’’ڈسپلن‘‘ کا درجہ دینے کی کوشش کی گئی، جس کا نام بیانیات یعنی Narratologyرکھا گیا۔ یہ نام سب سے پہلے تودوروف(Tzvetan Todorov)نے ۱۹۶۹ء میں اپنی کتاب (Grammaire du Decameronمیں استعمال کیا اور اس سے مراد ’’بیانیہ /فکشن کی سائنس‘‘(Science of Narrative)لیا۔ تاہم تو دو روف سے پہلے لیوی سٹراس اور اے جے گریماس، بیانیے کی سائنس کے حوالے سے اپنے کام میں مصروف تھے۔ لیوی سٹراس نے اساطیرِ عالم کے عقب میں بنیادی اسطور کی تدوین کی طرف توجہ دی، پر اپ کی پیروی کرتے ہوئے جس نے پریوں کی کہانیوں کے بطون سے بنیادی کہانی دریافت کرنے کی کوشش کی تھی۔ گریماس نے توپر اپ کے کام ہی کو آگے بڑھایا اور بیانیے کا Actantial Modelکے نام سے جو ماڈل پیش کیا، وہ دراصل پراپ کے فنکشن کے نظریے ہی سے ماخوذ تھا۔
گریماس نے بیانیے کی اس گرامر کو مرتب کرنا چاہا، جو تمام بیانیوں کی روح رواں ہے۔ گرامر کا لفظ استعاراتی مفہوم میں اور اتفاقاً استعمال نہیں ہوا۔ گریماس اور ان کے بعد رولاں بارت، تھامس پاول، جیرالڈپرنس اور سب سے بڑھ کر ژرار ژینث نیز وولف گینگ قیصر، فرانز سٹاترل، وولف سمڈ اور مائیک بال نے فکشن یا بیانیے کا مطالعہ بہ طور ’’زبان ‘‘ کے کیا ہے۔ جس طرح ساختیاتی لسانیات کا ماہر زبان کی گہری ساخت/گرامر تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح ان لوگوں نے بھی بیانیے کی گہری ساخت کو دریافت اور مرتب کرنے پر توجہ دی۔ گویا بیانیے کو زبان کے مماثل سمجھا۔ ایک تو اس لیے کہ بیانیہ ہے ہی زبان یعنی کسی نہ کسی زبان میں لکھا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ سمجھا گیا کہ زبان کی ساخت اور زبان کا تفاعل از خود بیانیے میں در آتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ زبان ایک نشا نیاتی نظام(System of Signification)ہے اور بیانیوں میں بھی معنی خیزی کا تہ نشیں نظام موجود ہوتا ہے۔ سوسئیر اور رومن جیکب سن نے زبان میں اضدادی جوڑوں(Binary Opposites)کی نشان دہی کی تھی۔ گریماس نے اسے بالخصوص اہمیت دی اور واضح کیا کہ زبان معنی کی ترسیل میں اس لیے کام یاب ہوتی ہے کہ اس میں ’’ضد‘‘اور ’’فرق‘‘موجود ہیں۔ سوسئیر نے کہا تھا کہ زبان میں افتراقات (differences) کے سوا کچھ نہیں۔ ہر لسانی نشان اس لیے کسی معنی کی ترسیل کرتا ہے کہ وہ صوتی و تکلمی سطح پر دوسرے نشانات سے مختلف ہے۔ گریماس نے بھی یہی بات کہی کہ ہم ہر شے کو اس کی ضد سے شناخت کرتے ہیں؛ رات کو دن، عورت کو مرد اورانسان کو جانور کی ضد سے پہنچانتے ہیں۔ اس نے کہا کہ یہPerception of Oppositionہر بیانیے کی تہ نشین ساخت میں بھی موجود ہے۔ وہ دیگر ساختیاتی مفکرین کی طرح اس بات کا قائل تھا کہ یہ تخالف مواد کا نہیں، ہیئت کا ہے یعنی تخالف و تضاد کا تعلق ان اشیا سے نہیں جن کا ہم ادراک کرتے ہیں؛خود ہمارے لسانی طریقِ ادراک میں تخالف موجود ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ جانور ہی اپنی جملہ صفات کے اعتبار سے انسان کی کامل ضد ہو، یا عورت اپنے جملہ اوصاف کے لحاظ سے مرد سے مختلف ہومگر ہمارا لسانی اور معنیاتی نظام دونوں کی الگ الگ شناخت کے لیے دونوں کو ایک دوسرے کی ضد بنا کر پیش کرتا ہے اور ہر ضد میں فریق مخالف کی نفی بھی موجود ہوتی ہے۔ گریماس نے بیانیوں میں بھی اضدادی جوڑوں کو کارفرما دیکھا اور یہ جوڑے بیانیوں کے مواد میں نہیں ہیئت میں دکھائے گئے ،یعنی ’کہانی‘ میں نہیں’’پلاٹ‘‘ میں یابیانیے کی ساخت میں!گویا فکشن کی ہیئت زبان کی طرح اور اس کا مواد دنیا کی طرح ہے اور فکشن اپنے موادکا’ادراک‘اسی طرح اضدادی جوڑوں میں کرتا ہے،جس طرح ہم زبان کے ذریعے دنیا کا ادراک اضدادی جوڑوں میں کرتے ہیں۔ گریماس نے پراپ کے فنکشن کے سات دائرہ ہائے عمل کو تین اضدادی جوڑوں میں سمیٹ کر پیش کیا، جو یہ ہیں:
۱۔ موضوع بہ مقابلہ معروض(Subject versus Object)
۲۔ مرسل بہ مقابلہ وصول کنندہ (Sender versus Receiver)
۳۔ حامی بہ مقابلہ مخالف(Helper versus Opponent)
گریماس نے انھی کو ’’عامل‘‘(Actants)کا نام دیا تھا۔ گویا گریماس بھی ’’عامل‘‘سے مراد کردار نہیں، وہ تفاعل یا وظیفہ لیتا ہے جو ایک یا زاید کرداروں کو کنٹرول کرتا ہے۔ بیانیوں میں بھی کئی کردار اور اشخاص ہوتے ہیں ۔وہ کچھ اعمال سر انجام دیتے ہیں؛ یہ اعمال جن حدود میں انجام پاتے ہیں، ان کا تعین یہی ’’عامل‘‘ کرتے ہیں اور ہر ’’عامل‘‘ کی ایک ضد ہے:موضوع یا ہیرو کا ایک ہدف ہے، اس ہدف کی تلاش، ہیرو کو متحرک رکھتی ہے۔ یوں ہیرو کے تمام افعال (اور پھر کہانی کے واقعات)ہدف تک پہنچنے کے مساعی کانتیجہ ہوتے ہیں۔ ہدف کے ساتھ تخالف کا رشتہ ہیرو کی ساری فعالیت کا ذمے دار ہوتا ہے۔ مثلاً بیش تر داستانوں میں شہزادے کسی پری جمال کی جست جویا آبِ حیات کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’باغ و بہار‘‘ میں فارس کا شہزادہ، سخاوت میں یکتا، بصرے کی شہزادی کی تلاش میں ہوتا ہے۔اس قصے کا تمام واقعاتی عمل اور شہزادے کو پیش آمدہ صورتِ حال، اسی ایک ہدف(بصرے کی شہزادی)سے کنٹرول ہوتی ہے۔ جدید ناولوں میں یہ تلاش روحانی مفہوم رکھتی ہے، جیسے ہر مین ہیسے کے ناول ’’سدھارتھ‘‘اور پاؤلوکوہلو کے ’’الکمیسٹ‘‘ میں۔
جیسا کہ گذشتہ سطور میں بیان ہوا، فکشن کی نئی تنقید میں (جسے ’’ بیانیات‘‘ کا نام ملا ہے)اہم ترین نکتہ’’کہانی اور پلاٹ کا فرق ‘‘ہے۔ بیانیات کے فرانسیسی ماہروں نے پلاٹ کی جگہ کلامیہ (Discourse)کی اصطلاح برتی ہے اور یہ اصطلاح اس اعتبار سے زیادہ موزوں محسوس ہوتی ہے کہ یہ فکشن کے پورے بیانیہ عمل کا احاطہ کرتی ہے جب کہ پلاٹ بالعموم واقعاتی تنظیم کا مفہوم ادا کرتا ہے۔
کہانی اور کلامیے کے سلسلے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں رشتہ کیا ہے ؟کیا کہانی، مواد اور کلامیہ، ہیئت ہے؟ یعنی کیا کہانی پہلے سے، باہر اور آزاد حالت میں موجود ہوتی ہے جسے تخلیقی تصرف میں لا کر مصنف کلامیے کی تشکیل کرتا ہے، یا کہانی کلامیے کے ساتھ ہی وجود میں آتی ہے؟ اس ضمن میں ایک سامنے کی بات تو یہ ہے کہ ہم فکشن کے مطالعے کے دوران میں ہی کہانی اور کلامیے اور ان کے درمیان موجود فرق کا ادراک کرتے ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کہانی اور کلامیہ دونوں ایک ’’تیسری چیز‘‘ یعنی ناول، افسانے، ڈرامے وغیرہ پر منحصر ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان میں سے کوئی ایک فی نفسہٖ مکمل اور خود مختار نہیں، یہ اجزاہیں ایک کل کے، جسے بیانیہ (یا اس کی کوئی صنف ناول، افسانہ وغیرہ)کہتے ہیں۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ بیانیہ کہانی اور کلامیے کا مجموعہ ہے۔ اس بات کو ماننے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ کہانی اور کلامیہ ساتھ ساتھ وجود میں آتے ہیں، مگر اسے قبول کرنے میں دقت یہ ہے کہ ہم دو ایسی چیزوں کا ادراک ایک ساتھ کیسے کر سکتے ہیں جن میں فرق بھی موجود ہو!ہمیں ان کے درمیان تخالف، تضاد یا علت و معلول کا، کوئی نہ کوئی رشتہ قائم کرنا ہوگا؛ ایک کو دوسرے کا نقیض یا ایک کو سبب اور دوسرے کو نتیجہ قرار دینا ہوگا۔ تخالف و تضاد کا رشتہ اس بنا پر ناموزوں ہے کہ پھر اس طور کہانی، کلامیے کو یا کلامیہ کہانی کو بے دخل کرتا محسوس ہو گا جب کہ بیانیے کی کلیت کا تقاضا ہے کہ دونوں بہ یک وقت موجود ہوں۔ لہٰذا ایک کو علت اور دوسرے کو معلول قرار دینا مناسب ہے۔ اب اگلا سوال(بلکہ مسئلہ)یہ ہے کہ کسے علت اور کسے معلول سمجھا جائے؟یہ طے کرنا آسان نہیں، اس لیے کہ ہم ان دونوں سے، بیانیے قرات کے دوران میں دو چار ہوتے ہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ ہم کلامیے کو ناول یا افسانے کے اندر اور کہانی کو ان سے باہر دیکھتے ہوں۔ اگرچہ عمومی طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ کہانی(واقعات کا سلسلہ)باہر موجود ہوتی ہے، جسے لکھا جاتا ہے مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ جس کہانی کو ہم نے باہر فرض کیا ہے، اس سے ہم اولاً آشنا تو بیانیے کے متن ہی سے ہوتے ہیں۔ لہٰذا کہانی، لکھے جانے سے پہلے، باہر موجود ہو یا مصنف کے متخیلہ میں وجود رکھتی ہو،ہمیں اس کی موجودگی کی خبربیانیہ متن ہی دیتا ہے۔ یوں اصولی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کہانی، متن کے ذریعے ہی وجود رکھتی ہے۔ بیانیہ متن نہ ہو تو کہانی بھی نہیں۔
کہانی اور کلامیے کے رشتے کے ضمن میں جوناتھن کلر کا خیال ہے کہ کبھی کہانی ،کلامیے کی علت ہوتی ہے اور کبھی کلامیہ ،کہانی کی علت ہوتا ہے۔ کبھی کہانی کا واقعاتی عمل ایک مخصوص ’’بیانیہ کلام‘‘ کو جنم دیتا ہے اور کبھی کوئی خاص ’’بیانیہ کلام‘‘ مخصوص واقعاتی عمل کا سبب بنتا ہے۔ اس امر کی تو متعدد مثالیں ہیں کہ کس طرح ایک بیانیہ ایک مخصوص کہانی یعنی واقعات کے مجموعے کو خام مواد کے طور پر استعمال میں لا کر، وجود میں آیا ہے۔ پرانی داستانیں ہوں یا نئے افسانے اور ناول ہوں، وہ کچھ کرداروں کو پیش آمدہ واقعات اور ان کیباہمی ربطپر استوارہوتے ہیں۔ ان کی مخصوص بیانیہ تکنیک، اسلوب، فضا نگاری، کرداروں کی نفسی کیفیت کا احوال، کرداروں کی باہمی کش مکش کی صورتِ حال، مخصوص مکالمے، یہ سب کہانی سے کنٹرول ہو رہا ہوتا ہے اور اگر کچھ کہانی کے کنٹرول سے باہر ہے تو بیانیہ متن میں وہ ’’فاضل مواد‘‘ ہو گا ،جب کہ کچھ بیانیہ متون ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں کہانی کے بجائے’’بیانیہ کلام‘‘ کنٹرولنگ اتھارٹی ہوتا ہے، بالخصوص جدید بیانیوں میں۔ مغرب میں جیمز جوائس اور کافکااور ہمارے یہاں رشید امجد اورمظہرالاسلام کے افسانے بطورخاص اس کی مثال ہیں۔
ژرارژنیث(Gerard Genette)کا نام بیانیات کے نظریہ سازوں میں بے حد اہم ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب ’’بیانیہ کلام‘‘(Narrative Discourse) میں مارسل پروست کے ناول"Remembrance of Things Past"کو سامنے رکھ کر بیانیے کی تھیوری پیش کی ہے۔ (برسبیل تذکرہ شمس الرحمن فاروقی نے اپنی کتاب ’’ساحری، شاہی، صاحب قرآنی، داستان امیر حمزہ کا مطالعہ، جلد اوّل نظری مباحث میں ژنیث کی اس کتاب کو ماڈل بنایا ہے)۔ بیانیات میں ژنیث کی عطایہ ہے کہ اس نے بیانیے میں کہانی اور کلامیے کے علاوہ ایک تیسرے عامل کی نشان دہی کی ہے، جسے اس نے عملِ بیان یا Narrative Actکہا ہے اور اس کی اہمیت کو ان لفظوں میں باور کرایا ہے:
"Without a narrative act, therefore, there is no statement, and somtimes even no narrative content."
ان کا خیال ہے کہ بیانیہ: کہانی، کلامیے اور عملِ بیان کے آپسی رشتوں سے عبارت ہوتا ہے۔ ان کے اس خیال کے پیچھے وہی ساختیاتی بصیرت کام کر رہی ہے جس کے مطابق زبان اور دیگر ثقافتی اعمال، رشتوں کے نظام ہوتے ہیں۔ وہ دیگر علمائے بیانیات کی طرح کہانی کو مدلول اور کلامیے کو دال قرار دیتا ہے: دال جو مدلول کی نماٰٰیندگی کرتا ہے۔ کہانی کی نمایندگی کلامیہ کرتا ہے، مگر ژنیث کے نزدیک کہانی اور کلامیہ ایک دوسرے پر منحصر ہونے کے باوجود ایک تیسرے بیانیہ عامل، یعنی عملِ بیان کے محتاج ہیں۔ اگر عملِ بیان نہ ہو تو کہانی اور کلامیے، دونوں کا وجود خطرے میں پڑجاتا ہے۔ کہانی اور کلامیے میں فرق تو باآسانی ہو جاتا ہے؛واقعے کو بیانِ واقعہ سے ممیز کرنا آسان ہے، مگر عملِ بیان کو گرفت میں لینا اور اسے بیانِ واقعہ سے الگ متصور کرنا آسان نہیں۔ بیانیے میں عملِ بیان کیوں کر ظہور کرتا اور کارفرما ہوتا ہے، اس کی وضاحت ژنیث نے یوں کی ہے:
"The activity of writing leaves in it traces, signs or indices that we can pick up and interpret ____ traces such as the presence of a first person pronoun to mark the oneness of character and narrator, or a verb in the past tense to indicate that a recounted action occured prior to the narrating action."
یعنی کلامیہ تو واقعے کا بیان یا واقعے کی لسانی پیشکش ہے جب کہ ’’عملِ بیان‘‘ وہ نشانات، علامات اور نقوش ہیں جو واقعے کے بیان کے دوران میں ابھرتے چلے جاتے ہیں اور جنھیں بیانیے کی قرات کے دوران میں گرفت میں لیا جا سکتا ہے اور ان کی تعبیر کی جا سکتی ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ جب بیانیہ تخلیق ہوتا ہے یا ’’عملِ بیان‘وقوع پذیر ہوتا ہے تو کہانی کھلتی چلی جاتی اور کلامیہ متشکل ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان تینوں کی موجودگی اور ان کے مابین باہم کی خبر فقط بیانیے کے تجزییہی سے ہوتی ہے۔ مثلاً یہ مختصر بیانیہ دیکھیے:
’’میں یونیورسٹی ہاسٹل کی کینٹین پر بیٹھا تھا۔ میرے ہاتھ میں چائے کی پیالی اور میری نگاہ سامنے اس بڑے درخت پر تھی جو شام کے ملگجے میں پراسرار لگ رہا تھا، اس کی شاخوں اورپتوں کے درمیانی خلاؤں میں گھستی تاریکی کے آس پاس کہیں پرندوں کی چچراتی آوازیں اسے مزید پراسرار بنا رہی تھیں۔ میں وقفے وقفے سے چائے کا گھونٹ بھرتا اور سوچتا کہ شام اترتے ہی درخت کچھ سوگوار، کچھ متفکر اور بڑی حد تک پراسرار کیوں لگنے لگتے ہیں۔۔۔ ایسا شام کی وجہ سے ہوتا ہے یا ہماری وجہ سے؟ کیا واقعی درختوں پر یہ کیفیت طاری ہوتی ہے یا محض ہماری اندرونی سوگواری، تفکر کا پروجیکشن ہوتا ہے؟‘‘
اس بیانیہ ٹکڑے میں کہانی، کلامیہ اور عملِ بیان یہ ہوں گے:

کہانی: ایک آدمی یونیورسٹی کینٹین پر شام کی چائے پینے آیا ہے۔ اسے کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا، ا س پر ایک موضوعی کیفیت طاری ہوئی ہے۔
کلامیہ: کردار کا چائے پینے آنا، شام کے وقت درخت کو غور سے دیکھنا اور سوچنا۔ اس بات کی پوری تفصیل اور جزئیات کلامیہ ہیں۔
عملِ بیان: وہ ’’علامتیں‘‘اور نقوش(traces)جو کلامیے کے ساتھ ساتھ ابھرے اور جن کی تعبیر ہم کر سکتے ہیں۔ مثلاً:
(الف)’’میں‘‘کون ہے؟کیا ہاسٹل میں رہنے والا طالب علم ہے؟ کوئی استاد ہے یا مہمان ہے؟ نیز کیا’’میں‘‘مصنف ہے یا کہانی کا محض متکلم ہے؟
(ب)کیا وہ روز شام کے وقت کینٹین پر آبیٹھتا ہے یا پہلی بار آیا ہے؟
(ج)اسے درخت ہی جاذبِ توجہ کیوں لگا؟ کینٹین پر بیٹھے دوسرے لوگ کیوں نہیں؟اس سے کردار کی نفسی حالت کے بارے میں بھی آگاہی ہوتی ہے کہ وہ تنہائی پسند، حساس اور غوروفکر کا عادی ہے، اسے لوگوں سے زیادہ فطرت کی معیت پسند ہے۔
(د)’’بڑا درخت‘‘ سے کیا مراد ہے؟کیا برگد کا درخت ہے؟ اگر برگد کا ہے تو اس کا امکان ہے کہ متکلم کو برگد سے وابستہ عرفان کی اساطیری کہانی یاد آگئی ہو۔ پراسراریت کا ذکر بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔
(ر)’’گھستی تاریکی‘‘، چچراتی آوازیں، یہ ’’علامتیں‘‘ متکلم کی درخت کے ساتھ ہم دردی کو ظاہر کرتی ہیں۔ وہ تاریکی اور پرندوں کی آوازوں کی تنہائی میں مداخلت کوبے جا خیال کرتا ہے۔
اس اعتبار سے دیکھیں تو ’’عملِ بیان‘‘ ہی بیانیے پر باقاعدہ تنقید (تعبیر و وضاحت) کو ممکن بناتا ہے، مگر ظاہر ہے عمل کا بیان، کلامیے کی وجہ سے ہے اور اس کے ساتھ ہے۔
آگے چل کر ژنیت ان تینوں کے باہمی رشتے پر تفصیلی اور حد درجہ عالمانہ گفت گوکرتا ہے۔ وہ کہانی اور کلامیے اور کلامیے اور عملِ بیان کے درمیان رشتوں کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس طرح وہ کلامیے کو کہانی اور عملِ بیان کے درمیان رکھتا ہے۔ سادہ لفظوں میں کسی ناول یا افسانے کے عقب میں ان کی کہانی موجود ہے۔ ناول، افسانہ خود کلامیہ ہے اور اس میں جا بجا علامتیں اور نقوش بکھرے ہوئے ہیں، جن کا تعلق کہانی سے نہیں، کلامیے سے ہے۔ ژنیث اپنے تجزیاتی عمل میں تین زمرے بناتا ہے۔
پہلا زمرہ وہ ہے جو کہانی اور بیانیے کے درمیان زمانی رشتوں سے متعلق ہے، اسے وہ ’’فعل‘‘(Tense) کا نام دیتا ہے۔ دوسرا زمرہ وہ ہے جو کلامیے کے ’طور‘(modalities)سے متعلق ہے، اسے وہ بیانیے کا لہجہ (mood)کہتاہے۔ تیسر ا زمرہ بیانیہ عمل سے متعلق ہے، یعنی کہانی کا بیان کنندہ کون ہے؛سامع (حقیقی یا مرادی) کون ہے؟ اسے وہ بیانیے کی آواز(Voice)قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق کہانی اور کلامیے کے درمیان رشتے کا تجزیہ کرتے ہوئے دو زمروں (فعل اورmood)کو پیش نظر رکھا جائے اور کلامیے اور عمل بیان کے درمیان رشتے کے تجزیے میں تیسرے زمرے یعنی لہجے کا لحاظ کیا جائے۔
ہر بیانیہ متن میں کچھ ’’کہا‘‘جاتا اور کچھ ’’دکھایا‘‘ جاتا ہے۔ چناں چہ بیانیوں میں ’’کہنے‘‘ اور ’’دکھانے‘‘ کے ساتھ ساتھ کوئی کہنے اور کوئی دکھانے والا بھی ہوتا ہے۔ کہنے والا، بیان کنندہ(Narrator)ہے اور دکھانے والا Focalizerہے۔ژنیث کی اصطلاح لہجے(mood) کا تعلقFocalization سے ہے او ر آواز( Voice)کا تعلقNarrationسے۔ بیان کنندہ اور Focalizer،بیانیے کے واقعات، واقعات کے تسلسل و عدم تسلسل، واقعات سے وابستہ زمان و مکاں اور بیانیے کے مفہوم و مقصد کا تعین مل کر کرتے ہیں۔ ہر بیانیے کا کوئی نہ کوئی کہنے یا بیان کرنے والا ہوتا ہے، اسی کوژنیث’’بیانیہ کلام‘‘ کی آوازVoiceکہتا ہے۔ یہ نہ صرف بیانیے کے قاری /سامع کے ساتھ ’’ترسیلی ربط‘‘ قائم کرتا ہے بلکہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ قاری تک کیا بات پہنچائی جائے اور کیا چھوڑی دی جائے اور کون سا طریقِ بیان(Point of View)اختیار کیا جائے۔ واحد متکلم میں کہانی کہی جائے؛ہمہ بیں ناظر کے ذریعے کہانی بیان کی جائے یا کسی اور طریق سے کہانی قاری تک پہنچائی جائے۔ کہانی بیان کرنے کے کسی مخصوص طریق کا انتخاب کہانی کی ساخت پر لازماً اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً واحد متکلم میں کہی جانے والی کہانی میں بیان کنندہ راوی کے ساتھ ساتھ اگر کہانی کا کردار بھی ہو تو ایک طرف وہ قاری کو اپنے تجربے میں شریک کرنے کی پیہم کوشش میں ہوگا اور حقیقت کا تاثر ابھارنے میں کام یاب ہو گا تو دوسری طرف وہ کہانی کے دوسرے کرداروں کی فقط خارجی صورتِ حال بیان کر پائے گا۔ وہ ہمہ بیں ناظر کی طرح دوسرے کرداروں کی باطنی کیفیات سے آ گاہی مہیا نہیں
کر سکے گا۔
بیان کنندہ کا تعلق بیان کے طریقے سے رہتا ہے جب کہ Focalizerایک ایسا ’’ایجنٹ‘‘ یا ’’کردار‘‘ ہے جو بیانیے کے مفہوم و مقصد اور جہت کا تعین کرتا ہے۔ ہر بیانیہ متن کسی نہ کسی علم، آئیڈیالوجی یا ثقافتی پس منظر کے حصار میں ہوتا ہے۔ وہ کسی نفسیاتی نکتے، انسانی فطرت کی کسی کم زوری، کسی سیاسی نظریے، کسی ثقافتی رسم یاکسی تہذیبی صورتِ حال پر بطور خاص ’’اِصرار‘‘ کرتا ہے۔ بس یہی بیانیے کی Focalizationہے۔
گذشتہ صفحات میں دیے گئے بیانیہ ٹکڑے کا بیان کنندہ ’میں ‘ ہے؛اس کی شناخت متعین ہے،نہ اس کے بیان کا مقصد و مدعا طے ہے : یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ وہ کون ہے اور کس کو مخاطب کر کے یہ ساری باتیں کیوں کَہ رہا ہے؟تاہم اس کے لہجے پر غور کریں؛اس کی آواز کا زیروبم پہچانیں،اس کے اداکردہ جملوں میں اصراراور سادہ و سپاٹ بیانیہ کیفیتوں کے حال سے آگاہ ہوں تو ’میں‘کی شناخت متعین ہو جاتی ہے۔یہ شناخت ،اس بیاینے کے Focalizer سے ہمیں آشنا کردیتی ہے۔ ہم کَہ سکتے ہیں کہ یہ ’’ایک ایسا شخص ہے ، جسے غوروفکر کی عادت ہے، جو معمولی باتوں پر غور سے ،انسانی زندگی کے بنیادی سوالات اور مسایل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔لہٰذا اس کا مدعا عام،روزمرہ اور دست یاب صورتِ حال سے خاص اور حقیقی انسانی صورتِ حال تک رسائی ہے۔‘‘ یہ تجزیہ دراصل بیانیے کے نقطہِ ارتکاز یا Focalizationتک پہنچنے کی خاطر ہے۔تاہم واضح رہے کہ یہ تجزیہ اپنی اصل میں تعبیر ہے ۔اور ہر تعبیر ،ایک دوسری ،نئی اور متبادل تعبیر کا امکان رکھتی ہے۔دوسرے لفظوں میں کسی بیانیے کے نقطہِ ارتکازکی شناخت حتمی نہیں ہوتی۔ایک ہی بیانیے کے مقصدو مدعا پر اختلاف کی گنجایش رہتی ہے۔
اب اگر فکشن کے پرانے اور نئے نظری مباحث پر نگاہ ڈالیں تو دل چسپ صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ پرانے مباحث کے سروکار زندگی، افراد، ماحول، واقعات ہیں جب کہ نئے مباحث اصولوں، ضابطوں، ساختوں سے متعلق ہیں۔ پہلے فکشن میں باہر اور سماج کو اور اس کے مسائل و موضوعات کو ڈھونڈا جاتا تھا، مگر اب ان اصولوں کو تلاش کیا جاتا ہے جو فکشن کے تمام اجزا کو کنٹرول کرتے ہیں۔ پہلے فکشن کو (زندگی کا)آئنہمگر اب اسے ایک ہیئت /ساخت خیال کیا گیا ہے۔ پہلے مطالعے کی نہج عمرانی(اور نفسیاتی)تھی اور اب سائنسی ہے۔ عمرانی نہج میں فکشن کے ہیئتی پہلو پر توجہ کم اور عمرانی و سماجی مسائل پر زیادہ تھی اور یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ فکشن معاصر زندگی کی ترجمانی میں کس درجہ کا م یاب ہے۔نیز کیا فکشن سماجی صورتِ حال سے آگاہی کے ساتھ اسے بدلنے کا کوئی امکانی حل بھی پیش کرتا ہے یا نہیں؟فکشن کی جمالیاتی قدر کا پیمانہ بھی بڑی حد تک معاصر زندگی کی کامل نمایندگی تھا۔ یعنی فکشن کی تکنیک اور اسلوب کے انتخاب کا معاملہ عصری صورتِ حال سے ان کی مناسبت پر منحصر تھا۔ آزاد تلازمات، شعور کی رو، اساطیری و داستانی اسلوب، ان سب کا جواز معاصر زندگی کی صورتِ حال میں تلاش کیا جاتا تھا، لیکن فکشن کے مطالعے کی سائنسی نہج نے فکشن میں عمرانی و سماجی مسائل کی نمایندگی کے سوال کو پس پشت ڈال دیا ہے: اس لیے نہیں کہ ان مسائل کی کوئی اہمیت نہیں یا فکشن میں یہ پیش نہیں ہوتے،بلکہ اس لیے کہ فکشن کے تمام موضوعات بیانئے کی مخصوص ساخت یا گرامر کے تابع ہوتے ہیں۔ اگر اس ’’گرامر‘‘کو مرتب کر لیا جائے تو یہ جانا جا سکتا ہے کہ مختلف و متنوع موضوعات بیانیے میں کس طور شامل اور پیش ہوتے ہیں۔
دراصل فکشن کی نئی تنقید یعنی بیانیات (Narratology)بڑی حد تک جدید لسانیات کی طرح ہے۔ جس طرح ماہرلسانیات لفظوں کے معانی نہیں بتاتا؛یہ اس کی ذمے داری ہی نہیں ہے؛اس کے منصب کا تقاضا یہ واضح کرنا ہے کہ معانی وجود میں کیسے آتے ہیں یا لفظ و معنی کے رشتے کی نوعیت کیا ہے، اسی طرح بیانیات کسی بیانیے کے موضوع کی شرح کرنے کے بجائے اس کی زیریں ساخت کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتی ہے جو دراصل کہانی، کلامیے اور عملِ بیان سے عبارت ہوتی ہے۔ ظاہر ہے، اس طور پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ فکشن کے لیے کون سا موضوع اہم ہے اور عصری یا آفاقی تناظر میں کس موضوع کی کیا اہمیت ہے!نیز فکشن، قاری کو داخلی سطح پر کس قدر متاثر کرتا اور اسے ایک نئی تخیلی دنیا سے متعارف کروا کر اس کے تصورِ کائنات کو بدلنے کی سعی کرتا ہے!یہ سوال بھی سائنسی مطالعاتی نہج نہیں اٹھاتی۔ اب سوال یہ ہے، کیا یہ سوالات فکشن کے لیے غیر متعلقہ ہو گئے ہیں یا بیانیات اپنی مطالعاتی نہج کے منطقی حدود کی پابند ہونے کی وجہ سے ان سوالات پر غور کرنے سے قاصر ہے، یا انھیں معرضِ اعتنا میں لانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتی؟
اس ضمن میں ایک بات تو یہ ہے کہبیانیات کسی بھی دوسری تنقیدی تھیوری کی طرح اپنا ایک تعقلاتی فریم ورک رکھتی ہے اور اسی وجہ سے یہ اپنے مخصوص دائرہ عمل میں موثر ہے۔ ہمیں اصولی طور پر اس سے وہ تقاضے(خواہ وہ سوالات کی صورت ہوں یا توقعات کی صورت) کرنا ہی نہیں چاہئیں جو اس کے تعقلاتی فریم ورک سے باہر وجود رکھتے ہوں، خواہ وہ باہرکتنے ہی اہم ہوں۔ اس طرح کا تقاضا گویا سرکنڈے سے شکر حاصل کرنے کی خواہش کرنا ہے۔ تاہم بیانیات کے فریم ورک کے اندر کیے گئے دعووں کو چیلنج کرنے اور ان کے امکانات پر غور کرنے میں حرج نہیں ہونا چاہیے۔
بیانیات کا بنیادی دعویٰ وہی ہے جو ساختیات(اور ہیئت پسندی)کا ہے:معنی ہیئت ہے؛ معنی الگ اور آزاد وجود نہیں رکھتا؛وہ ہیئت کی وجہ سے ہے اور ہیئت کے اندر ہے اور بیانیات کی اصطلاحوں میں تھیم کلامیے کی وجہ سے ہے اور کلامیے کے اندر ہے۔ گویا کسی بیانیے میں جو موضوع، مسئلہ یا سروکار پیش ہوتا ہے وہ الگ اور آزاد وجود نہیں رکھتا، کلامیے /ہیئت کے تابع ہوتا وار اس کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ موضوع کا اہم یا غیر اہم ہونا، مسئلے کا عصری یا آفاقی ہونا اور سروکار کا مقامی یا عالمی ہونا آئیڈیالوجیکل معاملہ ہے اور بادی النظر میں بیانیات کے بنیادی دعوے سے باہر کی چیز ہے اور اپنی جگہ اہم ہے۔ بیانیات ،اپنی سادہ صورت میں،چھوٹے اور بڑے کم تر اور برتر کے اخلاقی اور اقداری فیصلے نہیں دیتی، تاہم وہ یہ ضرور بتاتی ہے کہ بڑے یا چھوٹے کا وجود کیوں کر ممکن ہوتا ہے! اور ظاہر ہے کسی چیز کی ماہیت کو جان لینا اس کی اہمیت کو جانچنے سے زیادہ ’’اہم‘‘ اور بنیادی ہے۔ تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ماہیت، شے کی اہمیت کا کوئی تصور یا تاثر بھی دیتی ہے؟راقم کے نزدیک جب ہم کسی شے کی ماہیت دریافت کرتے ہیں تو س کی اہمیت کا کوئی نہ کوئی تصور یا شائبہبھی تشکیل پا جاتا ہے۔مثلاًجب کسی بیانیے کے کلامیے اور عملِ بیان کا تجزیہ کیا جاتاہے ،یعنی اس کی ساخت؍ماہیت تک پہنچا جاتا ہے تو یہ عمل بہ یک وقت تجزیاتی اور تعبیری ہوتا ہے۔جب ایک تعبیر پر دوسری طرح کی تعبیر کو ترجیح دی جاتی تو گویا ایک آئیڈیالوجیکل موقف اختیار کیا جاتا ہے۔اور آئیڈیالوجی کا تعلق اقدار سے ،متن کی اہمیت سے ہے۔یہی دیکھیے کہ گزشتہ صفحات میں جس بیانیہ ٹکڑے کا تجزیہ اور تعبیر کی گئی ہے ،اور اس کی ساخت تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے ،ہر چند اس کی اہمیت پر روشنی نہیں ڈالی گئی،مگر جس تعبیر کواختیار کیا گیا ہے ،وہ اس متن کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ہی صورت ہے:وہ متن زیادہ اہم اور بڑا ہے جو معمولی صورتِ حال سے ’غیر معمولی انسانی سوالات‘ تک پہنچتا ہے۔اس بحث سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ تنقید اور دیگر سماجی علوم خواہ کتنے ہی سائنسی ہو جائیں ،وہ پوری طرح اقدار سے الگ ہوسکتے ہیں ، نہ دست بردار!!

حواشی
1. Bal, Mieke: Narratology (Tran. Christine van Bahecmcn); Toronto: University of Toronto Press, 1985.
2. Barthes, Roland: An Introduction to the Structural Analysis of Narrative; in New Literary History, 1996.
3. Brooks, Cleanth, Warren, Rebert Penn: Understanding Fiction; New York: Appletion, 1959.
4. Chatman, Seymour: Story and Dicourse: Narrative Structure in Fiction and Film; Landon: Cornell Up, 1978.
5. Cullar, Janathn: Strucuralist Poetis; Landon: Rautledge, 1975
6. Cullar, Janathan: The Pursuit of Signs: Semoitics, Literature, Deconstruction; Ithaca, Correll Up, 1978.
7. Foster, E. M: Aspects of the Novel; Harmords Worth: Penguin, 1927.
8. Fowler, Roger: Linguistics and the Novel; Landon: Methon, 1977.
9. Genette, Gerard: Narrative Discourse (Tran. Jane E lewin) Oxford: Blackwell. 1972.
10. Herman, David: Narratologies: New Perspectives on Narrative Analysis; Columbus: Ohio State Up 1999.
11. Onega Susan, Gracia Land(eds): Narratology: An
Introduction, Landon: Longman, 1996.
12. Prince, Gerald: Narratology: The Form and Functioning of Narrative, Berlin: Monton, 1982.
13. Propp, Vladimir: Morphology of Folktale (tran. Laurence Scott); Austin: University of Taxes press, 1968.
14. Ricoeur, Paul: Narrative Fiction: Contemporary Poetics; Landon, Methens, 1981.
15. Todorov, Tzvetan: Grammaire du Decameron, Monton: The Hague, 1969.
16. Todorov, Tzvetan: Introduciton to Poetics;Brighton: Harrester, 1986.





Back to Conversion Tool


Back to Home Page

Paradigms of Urdu Research

اردو تحقیق کے پیراڈایم پر ایک نظر :
سماجی سائنسوں کے پیراڈایم کی روشنی میں

ڈاکٹر ناصر عباسّ نیر

ہر شعبہِ علم کے پاس ایک ’’نظر‘‘ ہوتی ہے۔ اسی نظر کی سیادت میں وہ اپنے مقاصد طے کرتا؛ ان مقاصد کے حصول میں کام یابی و ناکامی کا جایزہ لیتا اور مقاصد کی تکمیل کے بعد کے نتائج و مضمرات پر غور کرتا ہے۔ یہی ’’نظر‘‘ کسی شعبہِ علم کو شناخت دیتی، اس شناخت کو برقرار رکھنے کا سامان کرتی اور اس کی روایت تشکیل دیتی ہے۔ اس ’’نظر‘‘ کا کردار کسی شعبہِ علم کے سلسلے میں وہی ہوتا ہے جو زبان کے سلسلے میں گرامر کا ہے۔ نئی اصطلاح میں اسے پیراڈایم بھی کہا جا سکتا ہے۔ اردو تحقیق کے پاس بھی ’’نظر‘‘ ہے یا اردو تحقیق کی بھی ایک ’’گرامر‘‘ ہے اور اس کے پیراڈایم ہیں۔
اردو تحقیق کی ’’نظر‘‘ کے تعلق میں یہ بات فی الفور متوجہ کرتی ہے کہ اس ’’نظر‘‘ کا رُخ باہر کی طرف ہی رہا ہے؛ اردو تحقیق کے ’باطن‘ کی جانب یہ نظر نہیں پلٹی۔ کہنے کا مقصود یہ ہے کہ اردو تحقیق اپنے پیراڈایم کی روشنی میں اردو کے تحقیقی نمونوں کا محاسبہ تو برابر کرتی رہی ہے اور ان نمونوں کے تسامحات کی نشان دہی، طے شدہ اصولوں اور اقدار کے تحت، کرتی رہی ہے، مگر اردو تحقیق نے ’’نظر‘‘ کہاں سے حاصل کی؛ اس ’’نظر‘‘ کی نہاد و نوعیت کیا ہے یا اردو تحقیق کے پیراڈایم کے علمیاتی مآخذ کیا ہیں، نیز اس نظر کی زد کہاں تک ہے یا پیراڈایم کے حدود کیا ہیں، اس طرف اردو تحقیق نے نگاہِ غلط انداز سے بھی نہیں دیکھا۔ حقیقت کی تلاش کو اردو تحقیق اپنا پہلا اور شاید آخری سروکار قرار دیتے نہیں تھکتی۔ حقیقت یا امرِ واقعہ کی صحت کے ضمن میں اردو تحقیق جس کدو کاوش اور جاں فشانی کا مظاہرہ کرتی ہے، وہ بے مثال ہے، مگر خود اردو تحقیق کی ’نظر‘ یا پیراڈایم کی حقیقت کیا ہے، اس کے ضمن میں اردو تحقیق نے تحقیق کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اردو تحقیق کے نظری اور تجزیاتی مباحث میں یہ سوال شاید ہی اٹھایا گیا ہو کہ اردو کی ادبی تحقیق کے علمیاتی مآخذ کیا ہیں؟
اس صورتِ احوال کے اسباب اور نتائج دونوں پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ ایک بات بہ ہر حال واضح ہے کہ اردو تحقیق اپنی نظری بنیادوں کی نسبت خود شعوریت کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ اس کا ایک سبب تو خود اردو تحقیق کے پیراڈایم کا یہ اصول ہے کہ حقیقت معروضی ہے؛ باہر موجود ہے اور ہماری آپ کی پسند ناپسند سے بالاتر اور بے نیاز ہے۔ چناں چہ اردو تحقیق معروضی حقیقت کی تلاش میں ہی منہمک رہتی اور خود اپنی حقیقت (جس کی نوعیت موضوعی ہے) کی تلاش کو اپنے مقاصد کی فہرست میں شامل ہی نہیں کرتی۔ ایک اور سبب غالباً یہ ہے کہ اردو تحقیق نے (چند استثنائی مثالوں سے قطع نظر) تنقید سے خود کو فاصلے پر ہی نہیں رکھا، تنقید کی تحقیق میں شمولیت کو تنقید کی در اندازی قرار دیا ہے۔ تحقیق کے پیراڈایم کا مرکزی اصول اگر یہ ہے کہ حقیقت باہر اور معروضی طور پر موجود ہے، اس لیے وہ واحد اور غیر مشتبہ ہے تو تنقید کے پیراڈایم کا کلیدی اصول یہ ہے کہ حقیقت موضوعی ہے، اس لیے وہ واحد نہیں اور تعبیر طلب ہے۔ چوں کہ تنقید کا یہ بنیادی اصول اردو تحقیق کے مرکزی اصولِ حقیقت سے ٹکراتا ہے، اس لیے اردو تحقیق، تنقید سے، عام طور پر ُ نفور ہے۔ دونوں میں یہ فاصلہ قدرت کا منشا تھا نہ دونوں کی لازمی نفسی ضرورت، مگر یہ قایم کیا گیا اور ظاہر ہے، اتفاقاً قایم نہیں ہوا۔ ہر شعبہ علم کی ’نظر‘ سماجی قوتوں اور ثقافتی تدبیروں کی پیداوار ہوتی ہے، اس لیے اردو تحقیق کو عام طور پر تنقید سے فاصلے پر رکھا گیا ہے تو اس کے پیچھے کچھ سماجی قوتیں اور ثقافتی تدبیریں کارفرما ہیں۔ یہ قوتیں اور تدبیریں کیا ہیں، ان کی نشان دہی کے لیے ایک الگ مقالہ درکار ہے، فی الوقت یہ کہنا ہے کہ تحقیق اور تنقید کے حدود کو دو ملکوں کی سرحدوں کی طرح اٹل بنا دینے کا نقصان دونوں کو ہوا ہے اور تحقیق کو زیادہ ہوا ہے۔ تنقید کی تعبیر پسندی سے خود کو دور رکھ کر اردو تحقیق، تاریخ کے خاص محور پر طے ہونے والی نظری بنیادوں کو اٹل اور ناقابلِ تغیر سمجھنے اور ایک ہی ڈگر پر آنکھیں میچے رواں رہنے کے علاوہ ادب کے عمرانی اور ثقافتی سوالات / مسایل سے سرد مہری برتنے کی مرتکب ہوئی ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی غلط فہمی نہیں ہو سکتی کہ عمرانی اور ثقافتی سوالات کا تعلق محض تنقید سے ہے۔ حق یہ ہے کہ تحقیق کے لیے سوالات یہ زیادہ اہم ہیں۔ تاہم تحقیق کے لیے سوالات اُسی وقت اہم ہو سکتے ہیں، جب تحقیق کا ایک نیا مفہوم مرتب کیا جاے۔ اس وقت اردو میں تحقیق کا جو مفہوم رائج یا تحقیق کے جو پیراڈایم کارفرما ہیں، یہ عمرانی، ثقافتی اور فلسفیانہ سوالات کی دستک تک سننے کے روادار نہیں۔ دوسرے لفظوں میں ’’رائج اردو تحقیق‘‘ اپنے حال میں مست ہے۔ یہ کیفیت ’اپنی نظر‘ سے یا کسی دوسرے کی نظر سے، خود کو آنکنے اور خود آگاہ ہونے کے عمل سے سرد مہری کی حد تک لاتعلق ہوتی ہے۔
خود شعوریت اور خود آگاہی کا دوسرا مطلب اپنی ’’داخلی تاریخ‘‘ مرتب کرنا ہے۔ ہر شعبہِ علم اور فن کی خارجی اور داخلی تاریخ ہوتی ہے۔ خارجی تاریخ اگر ’واقعات‘ اور ان سے بننے والے پیٹرن سے مرتب ہوتی ہے تو داخلی تاریخ کا دوسرا نام پیراڈایم ہے۔ اردو تحقیق کی خارجی تاریخ کے جزوی بیانیے تو مل جاتے ہیں جو اردو تحقیق کی رفتار و سمت کی خبر دیتے ہیں (اس ضمن میں معین الدین عقیل کی کتاب ’’پاکستان میں اردو تحقیق : صورتِ حال اور تقاضے‘‘ اہم ہے) مگر اردو تحقیق کی داخلی تاریخ خود اردو تحقیق کا موضوع بننے میں کام یاب نہیں ہوئی۔ اس کا سبب خواہ اردو محققین کی فکر سے عمومی لاتعلقی میں تلاش کیا جاے یا ان کی سہل پسندی میں، دونوں صورتوں میں نتیجہ یہ ہے کہ اردو تحقیق اپنے پیراڈایم سے جتنا گہرا اطمینان محسوس کرتی ہے، دوسرے علوم کے پیراڈایم سے اتنی ہی بے نیازی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ تبدیلی و انحراف کی خواہش کی جگہ اٹوٹ وابستگی اور غیر مشروط مصالحت کی آرزو، اردو تحقیق میں عام ہوئی ہے۔ اگر کہیں تبدیلی و انحراف کا شائبہ محسوس ہوتا بھی ہے تو وہ اردو تحقیق کی ’نظر‘ یا پیراڈایم کے اندر ہی پانی کے بلبلے کی طرح نمودار ہوتا اور گم ہو جاتا ہے۔ اردو تحقیق میں تبدیلی و انحراف کا میلان عام طور پر رسمیات تحقیق میں ہے یا نئے دریافت کردہ متون یا پھر دریافت شدہ حقایق و متون کی صحت کے تعین کے مسئلے تک ہے۔
یہ صورتِ حال متقاضی ہے اس تحقیق کی، کہ اردو تحقیق کے پیراڈایم کیا ہیں اور ان کے مآخذ کیا ہیں؟ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کی طرف اردو کی سندی اور غیر سندی تحقیق نے اب تک توجہ نہیں کی۔ کسی موضوع پر توجہ نہ دینے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لائق توجہ ہی نہیں۔ ممکن ہے بعض صورتوں میں اجتماعی بصیرت، کچھ موضوعات کو غیرضروری قرار دیتی اور لائق تحقیق نہ گردانتی ہو، مگر یہ طے کرنا کہاں آسان ہے کہ کہاں اجتماعی بصیرت کام کر رہی ہے؛ کہاں اجتماعی بے حسی گل کھلا رہی ہے اور کہاں سیاسی اور دانش ورانہ مقتدرہ اپنی اقتداری حیثیت کو بہ ہر صورت قایم رکھنے کے لیے نئے سوالات کی کونپلوں کے پھوٹنے کی ہر راہ مسدود کر رہی ہے۔ اردو تحقیق کی عمومی روایت کے پیش نظر آخری دو صورتیں ہی درست لگتی ہیں۔ اردو تحقیق کے مقتدرہ نے ان سوالات پر دروازے بند رکھے ہیں جن کی نوعیت سیاسی، عمرانی، فلسفیانہ اور ثقافتی ہے، مگر دروازے بند رکھنے سے سوالات کی چاپ ختم ہوتی ہے نہ دستک! یہ اور بات ہے کہ اپنے کانوں کو بند یا بہرہ کر لیا جاے۔


153

پیراڈایم سے مراد اعتقادات، اقدار، تکنیک اور طریق کار کا وہ ’’نظام‘‘ ہے، جسے ایک علمی گروہ کے ارکان تسلیم کرتے اور اس کے مطابق اپنی علمی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیں۔(۱) پیراڈایم کا اظہار، کسی شعبہ علم کے نظری مباحث، اطلاقی نمونوں اور ان دونوں کے متعلق رایوں میں ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کسی علم کی نسبت جو کچھ کہا جاتا ہے، جس زاویے سے کہا جاتا ہے اور پھر جسے اور جس طور رو بہ عمل لایا جاتا ہے، وہ سب پیراڈایم کے تحت ہوتا ہے۔ نیز یہ پیراڈایم ہی ہوتا ہے جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ تحقیق کیوں کر کی جاے، کن طریقوں اور کن سوالوں کو پیش نظر رکھا جاے۔ کس موضوع کو تحقیق کے قابل سمجھا جاے اور اس موضوع کی تحقیق کے لیے کس طریق کار کو اختیار کیا جاے؛ دورانِ تحقیق کس سوال کو ضروری سمجھا جاے؛ سوال رسمی ہو، لسانی نوعیت کا ہو یا فلسفیانہ قسم کا ہو، یا سوال کی جہت عمرانی و ثقافتی ہو یا سوال سرے سے اٹھایا ہی نہ جاے۔ نیز اپنی تحقیقات کے نتائج کی تعبیر کیوں کر کی جاے یا تعبیر کی طرف توجہ ہی نہ کی جاے؟ لہٰذا غور کریں تو پیراڈایم اگر ایک طرف قائدانہ کردار ادا کرتا ہے تو دوسری طرف کسی شعبہِ علم کو مخصوص صورتوں اور کلیوں میں محصور کرنے کا میلان بھی رکھتا ہے یعنی یہ کسی شعبہِ علم کو اگر شناخت دیتا ہے تو تعصب اور پابستگی کے سپرد کرنے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے ہر شعبہِ علم کے پیراڈایم کا تنقیدی مطالعہ کرتے رہنا چاہیے۔ اسی مطالعے سے اس شعبہِ علم کی داخلی تاریخ مرتب ہوتی چلی جاتی ہے۔
پیراڈایم کی ان توضیحات کی روشنی میں اردو تحقیق کی تعریف، مقصد، طریق کار وغیرہ سے متعلق یہ بیانات دیکھیے :
’’(تحقیق) کا مطلب ہے حق کا ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ۔۔۔ کسی الجھے ہوے یا غیر معلوم مسئلہ کو حل کرنے کے لیے تمام ضروری ماخذ و مصادر کی پوری چھان بین کرکے غیر جانب داری سے صحیح نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔‘‘(۲)
’’تحقیق، سچ یا حقیقت کی دریافت کا عمل ہے۔‘‘(۳)
’’تحقیق کا مقصد نامعلوم حقایق کی تلاش اور معلوم حقایق کی توسیع یا ان کی خامیوں کی تصحیح ہے۔ ان دونوں کا نتیجہ حدودِ علم کی توسیع ہے اور حدودِ علم کی توسیع انسانی ترقی کا باعث ہے۔‘‘(۴)
’’ادبی محقق کے تین کام ہیں :
۱۔ نئے حقایق کی تلاش ۲۔ حقایق کی تصدیق یا تردید
۳۔ حقایق کی تشریح و تعبیر ‘‘(۵)
’’تحقیق کا مطمح نظر حقیقت کی جست جو اور واقعے کی صداقت کی تلاش ہے۔‘‘(۶)
اردو میں تحقیق کی تعریف و غایت سے متعلق بیانات میں غیرمعمولی مماثلت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ معلوم نہیں یہ صورت کن لوگوں کو خوش آتی ہے! جو لوگ گہرائی اور تنوع کے طالب ہوتے اور ان دونوں کو علم کی ترقی کے لیے لازم سمجھتے ہیں، انھیں اردو تحقیق سے متعلق بیانات اور کلیوں کی تکرار سے خاصی وحشت ہوتی ہے اور وہ یہ سوچنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں کہ اردو تحقیق کے مقصد و منہاج کی توضیح کا عمل ایک پھول کے مضمون کو ایک دو رنگوں سے باندھنے ہی سے عبارت ہے۔ کسی دوسرے شعبہِ علم اور فن میں شاید ہی یہ صورت موجود ہو۔ ادب، تنقید، اصناف کی تعریف میں رنگا رنگی ملتی ہے، جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ان کے حدود اور ان کے مقاصد پر ایک سے زائد زاویوں سے نظر ڈالی گئی ہے، جب کہ اردو تحقیق کے ضمن میں بس ایک زاویے پر اکتفا کر لیا گیا ہے۔ اردو تحقیق کی مذکورہ صورت کا لازمی نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ اردو تحقیق کی صورتِ حال میں علمیاتی اور اطلاقی دونوں سطحوں پر کوئی انقلاب، رونما نہیں ہوا؛ کوئی پیراڈایم شفٹ نہیں ہوا۔ اردو تحقیق کا ادارہ اوایل بیسویں صدی میں جن فکری اور اطلاقی بنیادوں پر قایم ہوا تھا، وہ ماشاء اللہ سلامت ہیں۔ بجا کہ رسمیات تحقیق میں خاصی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ حوالہ جاتی تحقیق اور تدوین میں بعض بے مثال کام ہوے ہیں، مگر یہ سب تحقیق کے مذکورہ اصولوں کو غیرمعمولی لیاقت و محنت سے بروے کار لانے کا نتیجہ ہیں۔ امتیاز علی عرشی، قاضی عبدالودود، رشید حسن خاں، مشفق خواجہ اور جمیل جالبی کے تدوینی کارنامے بےُ شبہ داد سے بالاتر ہیں۔ راقم کی بحث کا موضوع تدوین ہے نہ رسمیاتِ تحقیق، بلکہ اردو کی ادبی تحقیق کے وہ اصول یا پیراڈایم ہیں، جن کو اوپر درج کیا گیا ہے اور جو عام طور پر اردو کی سندی اور غیر سندی تحقیق (علاوہ تدوین) کی بنیاد کا کام دیتے رہے ہیں۔ غور کریں تو اردو کی ادبی تحقیق کے پیراڈایم محض دو اصولوں سے مرتب ہوے ہیں۔
۱۔ حقیقت کی تلاش
۲۔ حقیقت کی توسیع بذریعہ تصحیح و تصدیق
ہر چند ایک تیسرے اصول: حقیقت کی تعبیر کا ذکر کیا گیا ہے، مگر یہ براے بیت ہے۔ اوّل اس لیے کہ صرف چند ادبا اس کا ذکر کرتے ہیں، خصوصاً وہ جو تنقید بھی لکھتے ہیں۔ دوم جب یہ لوگ اپنی تحقیق پیش کرتے ہیں تو تنقید کو تحقیق میں اس طور شامل کرتے ہیں کہ تنقید، تحقیق پر پیوند کی صورت محسوس ہوتی ہے اور پیوند بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ یعنی وہ کسی شاعر یا کسی قدیم متن کا تحقیقی تعارف پیش کرنے کے بعد اس پر تنقیدی راے دے دیتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں دونوں میں فاصلہ موجود رہتا ہے۔ تحقیق، تنقیدی راے کے بغیر، اپنی جگہ مکمل ہوتی ہے۔ اس کی مثال میں جملہ اہم تدوینی کارناموں کے مقدمے پیش کیے جا سکتے ہیں، جو ہر چند کتاب کے آغاز میں شامل ہوتے مگر لکھے آخر میں جاتے ہیں۔ ان مقدموں میں اصولِ تدوین، راہِ تدوین میں حایل مشکلات وغیرہ کی تفصیل کے علاوہ مدوّن کیے گئے متن پر تنقید و تبصرہ بھی شامل ہوتا ہے۔ سوم یہ کہ تنقید و تعبیر کو متذکرہ بالا دو اصولوں سے علمیاتی سطح پر جوڑنے یعنی حقیقت کی تعبیر اور تلاش کو، قدر اور طریق کار کی سطح پر یکساں ثابت کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش اب تک نہیں کی گئی۔
کچھ لوگوں نے حقیقت کی جگہ مسئلے کا ذکر بھی کیا ہے۔ مثلاً عبدالستار دلوی کے نزدیک ’’تحقیق کسی مسئلے کے قابلِ اعتماد حل اور صحیح نتائج تک پہنچنے کا وہ عمل ہے، جس میں ایک منظم طریق کار، حقایق کی تلاش، تجزیہ اور تفصیل کاری پوشیدہ ہوتی ہے۔(۷) لیکن یہاں بھی مسئلہ اپنی ماہیت میں حقیقت ہے۔ جب مسئلے کے ساتھ ہی حقایق کی تلاش کی پخ لگا دی جاے تو مسئلہ کسی سوال کے بجاے ایک امر واقعہ بن جاتا ہے، جو نامعلوم یا غلط بیانیوں میں ملفوف ہونے کی وجہ سے اُلجھن کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت کی تلاش اور حقیقت کی توسیع بذریعہ تصحیح و تصدیق ہی اردو تحقیق کے پیراڈایم ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اردو تحقیق میں حقیقت سے کیا مراد ہے اور اردو تحقیق نے حقیقت کی دریافت و تصدیق کو ہی اپنا مطمح نظر کیوں بنایا؟
ہر چند حقیقت کا لفظ اپنی مجرد حیثیت میں کسی متعین معنی کا حامل نہیں ہے۔ مختلف سیاق میں اس کا مفہوم مختلف ہو جاتا ہے۔ تاہم ’اصل‘ اور ’بنیاد‘ ایسے تلازمات ہر سیاق میں اس کے ہم رکاب ہوتے ہیں۔ گویا حقیقت کو فطرت، سماج، نفسیات یا مابعدالطبیعیات کسی سیاق میں استعمال کیا جاے، اس کے مفہوم میں اصلی و بنیادی ہونے کا تلازمہ شامل رہتا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ سیاق کی تبدیلی سے حقیقت کا قدری تصور بدل جاتا ہے۔ یعنی سماجی حقیقت، سائنسی حقیقت، ادبی حقیقت اور مابعد الطبیعیاتی حقیقت، قدری پیمانے پر یکساں اہمیت کی حامل نہیں ہیں۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ ’اقدار، سیاق میں ہیں، خود حقیقت میں نہیں۔
اگرچہ اردو تحقیق اعلانیہ اپنا تعلق ادبی حقیقت سے جوڑتی ہے اور قاضی عبدالودود کے لفظوں میں ’’تحقیق کسی امر کو اس کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش (کرتی) ہے۔(۸) تو امر سے مراد ادبی امر ہی ہوتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اردو تحقیق اس مفہوم میں ادبی تحقیق ہے کہ یہ کسی نہ کسی سطح پر ادب سے متعلق ہوتی ہے اور گو ادب میں ادیب، شاعر، ادبی تاریخ، زبان، ادبی متون کو عام طور پر شامل سمجھا گیا ہے، مگر ادبی تاریخ اور اس کے پہلو اردو تحقیق کا اہم موضوع رہے ہیں۔ چناں چہ تاریخی تحقیق ہی اردو تحقیق میں رائج ہوئی ہے۔ (بیانیہ تحقیق کی مثالیں بھی مل جاتی ہیں) گیان چند کے بہ قول :
’’جہاں تک اردو کی ادبی تحقیق کا تعلق ہے، اس کا بھی یہی مقصد ہے کہ جن مصنّفین، جن اداروں، جن علاقوں، جن کتابوں اور متفرق تخلیقات کے بارے میں اب تک جو کچھ معلوم ہے، اس کی جانچ پڑتال کرکے اس کی غلط بیانیوں کی تصحیح کر دی جاے تاکہ غلط مواد کی بنا پر غلط فیصلے نہ صادر کر دیے جائیں۔‘‘(۹)
لہٰذا اردو تحقیق میں حقیقت سے مراد وہ صداقت ہے جو اردو کی ادبی تاریخ کے کسی محور پر بہ طور واقعے اور متن کے وجود میں آئی۔ واقعہ اور متن اپنی اصلی حالت میں موجود تھے، مگر کاتبوں کے قلم اور مورخوں کے بیانات نے دونوں کی اصلی حالت میں تبدیلی پیدا کر دی۔ تحقیق کا کام اسی اصلی حالت کی بازیافت ہے۔ اردو تحقیق نے بازیافت کے اس عمل میں غیرمعمولی محنت اور کاوش کا ثبوت دیا ہے۔ اس ضمن میں اردو تحقیق نے دیگر علوم سے بیش بہا مدد لی ہے، تاہم صرف ان علوم سے جو ادبی واقعے اور متن کی صحت و صداقت کے تعین میں مدد دیں۔ جیسے فارسی و عربی، تاریخ و سوانح اور لغت کا علم۔ ہرچند عروض، بیان و بدیع، فصاحت، منطق اور تصوف سے آگہی کو بھی اردو تحقیق کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے اور یہ شائبہ گزرتا ہے کہ محقق متن اور واقعے کی تشکیل میں شامل عناصر کو بھی سامنے لاے گا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان علوم کو بھی واقعے اور متن کی صحت کو غیرمشتبہ بنانے میں صرف کیا جاتا ہے، گویا ان علوم کی اپنی داخلی قدر کی مدد سے ’ادبی امر‘ کو روشن کرنے کے بجاے، ان علوم کے صرف انھی پہلووں سے رجوع کیا جاتا ہے، جو ادبی حقیقت کی صحت کا تعین کر سکیں اور تمام اشتباہات رفع کر سکیں۔
اردو تحقیق کے پیراڈایم میں اپنی اصل (Origin) کی بازیافت، اپنی اصل کے ساتھ جڑے رہنے اور اپنی اصل کی مخصوص شناخت کو استوار رکھنے کا رویہ کئی سطحوں پر موجود ہے۔ وجودیاتی؛ علمیاتی اور طریق کار، تینوں سطحوں پر یہ رویہ ملتا ہے۔ وجودیاتی (ontological) زاویے سے دیکھیں تو اردو تحقیق نے ان موضوعات کو شرفِ تحقیق بخشا ہے، جنھیں اردو/ مشرقی روایت اپنی اصل قرار دیتی ہے۔ حافظ محمود شیرانی، مولوی عبدالحق، قاضی عبدالودود، سید عبداللہ، رشید حسن خاں، گیان چند، وحید قریشی، جمیل جالبی اور معین الدین عقیل کی تحقیقات اردو کی اصل یعنی کلاسیکی روایت کی بازیافت ہی سے عبارت ہیں۔ اردو تحقیق کی خارجی اور داخلی دونوں تاریخوں سے یہ بات عیاں ہے کہ ’’اردو/مشرقی روایت‘‘ سے بالعموم وہ روایت مراد لی گئی ہے جس میں فارسی و عربی کی روایت لازمی عنصر کے طور پر شامل ہے۔ چوں کہ انیسویں صدی کے نصفِ آخر تک آتے آتے فارسی اُس اقتداری اور تہذیبی حیثیت سے محروم کر دی گئی تھی، جو اسے برصغیر میں پہلے حاصل تھی، اس لیے اب بھی اردو تحقیق کا محبوب ترین موضوع وہی ادوار ہیں، جب فارسی کو تہذیبی اقتدار حاصل تھا۔ ممکن ہے یہ بات نازک مزاج محققین پر گراں گزرے مگر یہ سچ ہے کہ جدید عہد (۲۰ویں صدی) اردو تحقیق کا زرخیز اور مقبول موضوع تاحال نہیں بنا۔ (یہاں سندی تحقیق استثنا ہے اور اس کا جو عمومی معیار ہے، وہ سب پر عیاں ہے)۔ اس کے جواب اور دفاع میں دو باتیں کہی جا سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ابتدا سے انیسویں صدی تک کے زمانے کے کتنے ہی پہلو ابھی تشنہِ تحقیق ہیں اور اس سے پہلے کہ موجود آثار بھی معدوم ہو جائیں انھیں معرضِ تحقیق میں لایا جانا چاہیے۔ دوسری یہ بات کہ نوآبادیاتی عہد میں ہماری تاریخ اور تہذیب کو چوں کہ مسخ کیا گیا اس لیے اپنی ادبی تاریخ و روایت کے درست متون کو سامنے لانا ضروری ہے۔ دونوں باتیں برحق ہیں اور ان کی افادیت سے اُسی کو انکار ہو سکتا ہے جو ادب کی تاریخ اور روایت سے بے بہرہ ہو مگر سوال صرف یہ ہے کہ کیا ’’اردو / مشرقی روایت‘‘ کی بازیافت کے لیے یہی صورت ممکن اور ناگزیر تھی اور کسی دوسری صورت کی تلاش عبث ہے؟ نیز آخر کیا وجہ ہے کہ اُردو تحقیق کا عمومی ’’مائنڈ سیٹ‘‘ جدید عہد کے ادب، نظریات، سماجی سائنسی تصوراتِ تحقیق سے کوسوں دور کیوں ہے؟
علمیاتی (Epistemological) رُخ سے دیکھیں تو اُردو تحقیق اپنے بنیادی مفہوم کے تعین کے لیے لفظ تحقیق کی اصل یعنی اس کے مادے ح ق ق، جس سے لفظ حق بنا ہے اور حقیقت بھی _____ سے رجوع کیا گیا ہے۔ گو تحقیق کا مفہوم حقیقت تک رسائی سے کہیں زیادہ وسیع ہے، مگر اُردو تحقیق اپنی پیراڈایمی پابندیوں کے سبب غیرمشتبہ حقیقت تک رسائی کو ہی اپنی اصل ذمے داری خیال کرتی ہے۔
یہ حقیقت غیرمشتبہ تو ہے، ناقابلِ تغیر، اٹل، مطلق اور خود مکتفی بھی ہے۔ دیکھنے میں یہ کوئی ادبی امر؛ واقعات و سنین اور متن ہو سکتے ہیں، مگر ان کا تصور ایک ایسی حقیقت کے طور پر کیا جاتا ہے جو اپنی آزاد حیثیت میں موجود ہے، جو مطلق ہے ۔ ممکن ہے، بعض کو یہ بات تسلیم کرنے میں تامل ہو، مگر اُردو تحقیق کی مجموعی روایت یہ باور کراتی ہے کہ اُردو تحقیق میں حقیقت کا تصور رفعت اور ماورائیت کے ان عناصر میں ملفوف ہے، جو اپنی اصل میں مابعد الطبیعیاتی ہیں، یعنی مستقل قدر اور غیرمبدّل ماہیت کے حامل ہیں۔ اسی بات نے اُردو تحقیق کی علمیات کو ایک جامع اور کلی سچائی کا متبادل بھی قرار دیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اردو محققین شاید جاں توڑ محنت اور جست جوے مسلسل کا مظاہرہ نہ کر سکتے۔ آدمی اس شے کے حصول میں کبھی جاں فشانی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا جو اس کے تصور میں عظیم سچائی کے طور پر نہ آے۔ یہ کم و بیش آفاقی کلیہ ہے کہ ہم اپنی بہترین توانائیاں، اپنا اخلاص اسی شے کے لیے وقت کرتے ہیں، جو ہمارے نزدیک بہترین ہو لہٰذا اُردو محققین کی جاں فشانی کا محرک اُردو تحقیق کی علمیات کے مذکورہ پہلو میں تلاش کرنا چاہیے۔ حق یہ ہے کہ اُردو تحقیق میں کوئی ادبی امر قدری اور کیفیتی سطح پر چھوٹا بڑا نہیں ہے۔ اردو/ مشرقی روایت سے متعلق ہر امر ایک سی توجہ اور محنت کے ساتھ قابلِ تحقیق ہے۔ قاضی عبدالودود کی یہ راے اسی تناظر میں ہے کہ ’’ہر بات یکساں اہمیت نہیں رکھتی، لیکن بات اہم ہو یا غیر اہم، محقق کو حقِ تحقیق ادا کرنا چاہیے۔‘‘(۱۰) دوسرے لفظوں میں اُردو تحقیق کی نظر میں چوں کہ حقیقت ایک کلی سچائی کے تصور کی حامل ہے، اس لیے ہماری روایت کا کوئی جز قدری و کیفیتی سطح پر کم تر نہیں ہے۔ وہ ہماری روایت و تاریخ کے کسی نہ کسی رخنے کو پُر کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ رخنہ محقق کو نظر آ رہا ہو۔ ممکن ہے یہ رخنہ مستقبل کے محقق، مورّخ یا نقاد کو دکھائی دے۔ پس محقق مستقبل شناس ہو نہ ہو، مستقبل بیں ضرور ہو۔
اسے اُردو تحقیق کے علمیاتی رُخ کا ہی شاخسانہ کہنا چاہیے کہ حقیقت مستقل قدر اور غیر مبدل ماہیت کی حامل ہونے کی وجہ سے تعبیر و تنقید سے بے نیاز ہے۔ تعبیر طلب وہ حقیقت ہوتی ہے، جو موضوعی ہو؛ ابہام میں لپٹی ہو؛ ایک مسئلے یا سوال کی صورت خود کو پیش کرے اور سب سے بڑھ کر اپنی نہاد میں مادی ہو۔ مادی حقیقت تغیر پذیر اور غیر مستقل ہوتی ہے۔ وہ خود مکتفی نہیں ہوتی، زمانی و مکانی عناصر کے سہارے قایم ہوتی اور انھی کے پھیر میں اپنے وجود کا سراغ پاتی ہے ۔ اس کے غیر مستقل ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ معنی کی حامل تو ہے، مگر یہ معنی مستقل نہیں ہے۔ مابعدالطبیعیاتی حقیقت کا معنی مستقل ہونے کی وجہ سے ہی تعبیر کی ضرورت سے بے نیاز ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس کی شرح کی جا سکتی ہے اور شرح کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ مستقل معنی/جوہر کو وضاحتاً باور کرایا جا سکے۔ شرحوں میں اختلاف ہوتا ہے، مگر یہ اختلاف مقصد میں نہیں، طریق کار میں ہوتا ہے _____ مادی حقیقت کا معنی غیر مستقل ہونے کی وجہ سے ہی تعبیر طلب ہوتا ہے۔ لہٰذا جب تحقیق کسی ’’مادی حقیقت‘‘ کی جست جو کو اپنا مطمحِ نظر بناے گی تو اس کی تعبیر کو اپنی علمیات میں شامل کرنے پر مجبور ہوگی۔ ’مادی حقیقت کاغیر مستقل معنی‘ خود کو ایک ابہام، سوال یا مسئلے کی صورت پیش کرتا ہے۔ اردو تحقیق میں اگر سوال اور مسئلہ ، بنیاد کی صورت موجود نہیں ہیں تو وجہ ظاہر ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ اردو تحقیق نے کسی سوال پر بنیاد نہیں رکھی اور اگر رکھی ہے تو وہ سوال کسی ذہنی، عمرانی، ثقافتی مسئلے سے متعلق نہیں بلکہ ایک غیرمشتبہ صداقت کے راستے میں حایل اُلجھن کی صورت ہے۔ اس بات کی وضاحت میں ڈاکٹر جمیل جالبی کی زبانی یہ واقعہ ملاحظہ کیجیے:
’’تذکرہ ہندی میں مصحفی نے لکھا ہے کہ جب عہدِ محمد شاہ میں ولی دکنی کا دیوان دہلی پہنچا تو اس کی غزلیں چھوٹے بڑوں کی زبان پر جاری ہو گئیں اور لوگ ولی کے ریختے گلی کوچوں میں پڑھنے لگے۔ کام کرتے ہوے تجسّس پیدا ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے، دیوان ولی شمالی ہند پہنچے اور وہ آگ کی طرح گلی کوچوں میں پھیل جاے؟ اس کا جواب کسی تذکرے یا کسی اور دیوان یا کسی ادبی حوالے میں نہیں ملا۔ اتفاق سے اسی زمانے میں مرزا محمد حسین قتیل کی تصنیف ’ہفت تماشا‘ پڑھ رہا تھا۔ اس میں قتیل نے ایک جگہ لکھا تھا کہ کائستھ ہولی کے زمانے میں، نشے کی حالت میں، گلستان، بوستان اور ولی کے ریختے پڑھتے ہوے گلی کوچوں سے گزرتے تھے۔ تذکروں میں صرف مصحفی نے شاہ حاتم کے حوالے سے یہ بات لکھی تھی جس کی تصدیق ایک غیر ادبی ماخذ سے ہوئی، تو یہ طریقہ کار تحقیق کے لیے مفید بھی ہے اور مناسب بھی۔‘‘(۱۱)
غور کیجیے : جالبی صاحب نے اپنی تحقیق کی بنیاد تو ایک سوال پر رکھی، مگر یہ سوال عمرانی، ثقافتی یا جمالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک امر کی صداقت کی تائید و تصدیق، کسی اور ماخذ سے کرنے کے تجسّس کی صورت ہے۔ اردو تحقیق کے موجودہ پیراڈایم میں یہی سوال پیدا ہو سکتا ہے۔ آپ اردو تحقیق کے جملہ معیاری نمونے دیکھ ڈالیے، آپ کو اسی نوع کے ’’سوالات‘‘ ملیں گے۔ جن تحقیقی نمونوں میں کسی دوسرے محقق کے تسامحات کی نشان دہی کی گئی ہے (شیرانی کی تنقید شعر العجم، رشید حسن خاں کاجمیل جالبی کی تاریخ پر مقالہ، گیان چند کی اردو کی ادبی تاریخیں) ان میں بھی اس وضع کے ’’سوالات‘‘ اٹھاے گئے ہیں۔ کسی دوسرے پیراڈایم میں یہ سوال نہیں بلکہ ایک امرِ واقعہ کی تصدیق کا سیدھا سادا معاملہ ہوتا۔ سوال اس کے بعد پیدا ہوتا۔ اغلب ہے کہ ولی کے دیوان کی شہرت کو ایک ایسے تہذیبی اور جمالیاتی سوال کی صورت لیا جاتا، جو کائستھوں میں اشرافیہ فارسی اور عوامی ریختے کی عوامی و اجتماعی سطح پر مقبولیت کے اسباب و اثرات پر روشنی ڈالتا۔ اس سوال کے جواب کے لیے بھی دیگر اور غیر ادبی مآخذ تک رسائی ہوتی اور جگہ جگہ تعبیر و تجزیے کی ضرورت پیش آتی۔
راقم کو یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اردو تحقیق کا موجودہ پیراڈایم تعبیر و تجزیے اور تنقید کی نہ گنجایش رکھتا ہے اور نہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ ڈاکٹر غلام مصطفی خاں، ڈاکٹر سیّد عبداللہ، ڈاکٹر جمیل جالبی، خلیق انجم، تبسم کاشمیری(۱۲) جب تحقیق کے لیے تنقید کو لازم گردانتے ہیں تو اس میں محض تنقید کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے اور لازماً تنقید کو تحقیق کے بعد رکھا جاتا ہے کہ اگر تنقید اپنی بنیاد تحقیق پر رکھے گی تو بھلا تنقید کا ہوگا؛ تنقید درست فیصلے کر سکے گی۔ یعنی تنقید اگر تحقیق سے اغماض برتے گی تو گویا منہ کی کھاے گی۔ تحقیق، تنقید کے بغیر بھی اپنی مستقل بالذات حیثیت کو قایم رکھے گی۔ دوسرے لفظوں میں تحقیق اور تنقید کے اس رشتے میں، دونوں میں ایک فاصلہ لازماً موجود رہتا ہے۔ تنقید تحقیق کے خون میں شامل نہیں ہوتی، اس کا ’’پیراسائیٹ‘‘ ثابت ہوتی ہے۔ اس سے تنقید کا بھلا ہو یا نہ ہو، اردو محققین کی اس انا کی تسکین ضرور ہوتی ہے، جو نقادوں کو بالعموم اپنا حریف گردانتی ہے۔ مجنوں گورکھ پوری کے اس تحقیقی سہو کو اسی لیے تفاخر کے ساتھ نشان زد کیا گیا ہے، جس میں مجنوں نے امیر شاگردِ قائم کا شعر میرؔ سے منسوب کر دیا تھا اور شعر سے میر کے حوصلے اور عزیمت کا استنباط کیا تھا۔ (شکست و فتح تو نصیبوں پہ ہے میاں لیکن / مقابلہ تو دِل ناتواں نے خوب کیا) حالاں کہ اس واقعے سے ذمے دارانہ تنقید کا تصور تو ابھرتا ہے، تحقیق اور تنقید کے اس نامیاتی رشتے کی وضاحت نہیں ہوتی، جس میں دونوں ’شیر و شکر‘ ہو جاتی ہیں، اسی طرح ’شیر و شکر‘ جس طرح سماجی سائنس میں: جہاں تحقیقی مواد، بغیر تعبیر و تجزیے کے یک سر بے معنی ہوتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ اردو میں تحقیق اور تنقید میں لازمی رشتے کے سلسلے میں جتنے دلایل دیے جاتے ہیں، وہ تحقیق کے اس ’پیراڈایمی اصول‘: تحقیق امرِ واقعہ کو صحت و سند کے ساتھ سامنے لانے سے عبارت ہے _____ سے مشروط ہیں۔ یہ کہ تنقید کو کسی متن کی تعین قدر یا اس کے تجزیے سے پہلے اس کی ’صحت‘ کا تعین کر لینا چاہیے۔ آخر الذکر عمل تحقیق ہے۔ تحقیق اور تنقید کا یہ رشتہ کس قدر ’سادہ ‘ ہے، اس کی وضاحت کی چنداں ضروت نہیں۔ غور کیجیے: اگر تمام ادبی متون مدون ہو چکے ہوں اور ادبی تاریخ مرتب ہو چکی ہو تو پھر تنقید اور تحقیق میں کس نوع کا رشتہ ہوگا؟ نیز تحقیق اور تنقید کے رشتے میں، تنقید کے لیے تحقیق کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ کہیں بھی تحقیق سے پہلے یا تحقیق کے دوران میں تنقید کی ضرورت کا احساس نہیں دلایا گیا ہے۔ سیّد عبداللہ کے بہ قول ’’ہماری تنقید کو ، تحقیق کی کمی کی وجہ سے بڑا نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘(۱۳) اس کے برعکس بات کسی معتبر محقق نے نہیں کہی، لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں کہ اردو تحقیق اپنی موجودہ پیراڈایمی حدود میں تنقید کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھتی۔ گیان چند، قاضی عبدالودود جیسے محققین جب تنقید کو تحقیق میں دراندازی قرار دیتے ہیں تو وہ موجودہ اردو تحقیق کی پیراڈایمی حدود کی پاس داری کی خاطر ایسا کہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ بذاتہٖ تنقید کے مخالف غالباً نہیں، بلکہ اپنے تصورِ تحقیق میں تنقید کی گنجایش نہیں دیکھتے۔ حق یہ ہے کہ تنقید کے لیے موجودہ اُردو تحقیق کے پیراڈایم میں کوئی جگہ اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی، جب تک تحقیق کی بنیاد، کسی عمرانی، تہذیبی، فلسفیانہ، جمالیاتی سوال پر نہ رکھی جاے اور تاریخی و بیانیہ تحقیق کے متوازی سماجی سائنسوں میں رائج تحقیق سے مدد نہ لی جاے۔ ظاہر ہے اس کے لیے پیرڈایم شفٹ کی ضرورت ہے!
اُردو تحقیق کی علمیات کا یہ زاویہ بھی، اپنی اصل سے جڑے ہونے کو ثابت کرتا ہے کہ اُردو تحقیق نے مغربی سماجی سائنسوں میں رائج تحقیق کے پیراڈایم کے صرف انھی حصوں کو قبول کیا ہے جو اُردو تحقیق کے تصور حقیقت کو تبدیل کرتے ہیں نہ متاثر: صرف رسمیاتِ تحقیق کو قبول اور اختیار کیا گیا ہے، یعنی حوالہ نگاری، تحشیہ اور کتابیات کے اندراج کی رسمیات اختیار کی گئی ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اُردو میں تحقیق کے متعلق کتابوں کا نوے فی صد حصہ رسمیات تحقیق کے باب میں ہوتا ہے، وگرنہ جہاں تک اُردو تحقیق میں حقیقت تک رسائی کا تعلق ہے، کم و بیش اسی طریق کار کو اپنایا گیا ہے جو اسلامی روایت میں روایت اور درایت سے موسوم ہے۔ اردو کے اوّل درجے کے محققین اسی محنت، کاوش، احتیاط اور استدلال سے کام لیتے ہیں جو محدثین کے یہاں ملتا ہے۔ ڈاکٹر غلام مصطفی خاں اور دوسرے محققین اگر تلاشِ حقیقت کے لیے حضرت ابو ایوب انصاری کے واقعے کا حوالہ دیتے ہیں، جنھوں نے محض ایک حدیث کے ایک لفظ سے متعلق شک دور کرنے کے لیے مدینے سے مصر کا سفر اختیار کیا جہاں حضرت عقبہؓ بن عامر موجود تھے تو یہ حوالہ بے جا نہیں دیتے، اُردو تحقیق کی روایت کی اصل پر روشنی ڈالنے کی خاطر ایسا کرتے ہیں۔ نیز یہ بھی اتفاق نہیں کہ متن کی صحت کا جو بلند تصور محدثین کے یہاں موجود ہے، کم و بیش وہی تصور اردو محققین کے یہاں بھی ملتا ہے۔
اُردو تحقیق میں یہ سوال تو قایم کیا گیا ہے کہ تحقیق کیا ہے اور اس کے لوازم اور رسمیات کیا ہیں؟ اور اس کے جواب کے لیے درجن بھر کتابیں اور درجنوں مقالات لکھے گئے ہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز اور چشم کشا حقیقت ہے کہ ان میں سے کسی ایک کتاب کو حقیقی معنوں میں تحقیقی کتاب قرار نہیں دے سکتے۔ اکثر کتابیں تو مرتبہ ہیں اور کلب عابد، گیان چند، عبدالرزاق قریشی، قاضی عبدالقادر اور ڈاکٹر اسلم ادیب کی کتب کی حیثیت تالیف کی ہے۔ تاہم تبسم کاشمیری کی کتاب (ادبی تحقیق کے اصول) استثنا ہے _____ لہٰذا ان کتابوں میں تحقیق کی مختلف تعریفوں، اقسام، طریق کار وغیرہ کی وضاحت، دست یاب انگریزی کتب کی مدد سے تو کر دی گئی ہے؛ مقالہ نگاری کے اصولوں پر بھی مبسوط انداز میں لکھا گیا ہے اور ان سے نئے محققین کو رسمیاتِ تحقیق کے سلسلے میں تمام ضروری راہ نمائی ملتی ہے، مگر اس سوال کا جواب ان کتب میں کہیں نہیں ملتا کہ ادبی تحقیق اپنی نوع کے اعتبار سے کیا ہے؟ کیا یہ فطری سائنسوں کی تحقیق میں شمار ہوتی ہے یا سماجی سائنسوں کی تحقیق کی صف میں آتی ہے یا ان دونوں سے الگ ہے؟ یہ ایک بے حد بنیادی سوال ہے، اتنا ہی بنیادی سوال، جتنا یہ کہ ادب سائنس ہے یا سماجی تشکیل یا ایک ایسی تخیلی تشکیل ہے جو سماجی تشکیلات کو کہیں عبور کر جاتی اور کہیں ان پر سوالیہ نشان لگاتی ہے؟ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ اُردو تحقیق میں صرف ’رسمی سوال‘ قایم کیا گیا ہے، ’’تحقیقی سوال‘‘ نہیں یعنی ’’تحقیق کیا ہے؟‘‘ سوال اٹھایا گیا ہے، ’’تحقیق کا (علمیاتی) ماخذ کیا ہے؟‘‘ یہ سوال کسی اُردو محقق کے راستے میں حایل نہیں ہوا۔ اس سوال کے جواب سے ہی ادبی تحقیق کی خصوصیات اور انفرادیت کو طے کیا جا سکتا ہے اور یہ بات راقم کو نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہی ہے کہ اردو کی ادبی تحقیق (چند ایک مستثنیات کو چھوڑ کر) صرف اس مفہوم میں ادبی تحقیق ہے کہ وہ ادب کی شخصیات، ادوار یا اصناف سے متعلق ہے، ادب کی اُس ادبیت سے کوئی رشتہ نہیں رکھتی، جس کے بغیر ادب بہ طور نوع قایم ہی نہیں ہو سکتا۔ اصولاً اسے ادبی تحقیق نہیں، ادب کی تحقیق کہنا چاہیے۔ ادبی تحقیق کے لیے موزوں پیراڈایم کا فیصلہ بھی مذکورہ بنیادی سوال کے جواب پر منحصر ہے، اس لیے کہ جدا قسم کی تحقیق کے لیے جدا جدا پیراڈایم درکار ہیں۔ ایک زمانہ تھا، جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ سائنسی و سماجی علوم کے لیے یکساں پیراڈایم اختیار کیے جا سکتے ہیں اور یہ وہ زمانہ تھا (انیسویں صدی کے نصفِ آخر سے بیسویں صدی کے نصفِ اوّل تک) جب فطرت اور سماج کو ایک جیسے قوانین کا حامل سمجھا جاتا تھا، لہٰذا خیال کیا جاتا تھا کہ فطری سائنس کے جو قوانین مادے، اجرامِ فلکی، نباتات وغیرہ کی داخلی ساخت کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، وہ سماجی ساختوں کی تحقیق میں بھی یکساں طور پر کارگر ہیں، مگر پھر سماجی ساختوں کی اُس انفرادیت کو دریافت و قبول کر لیا گیا جو انسانی ارادے کی شمولیت سے، سماجی ساخت میں پیدا ہوتی ہے، جس سے فطرت محروم ہے۔ چناں چہ فطری سائنس کے تحقیقی پیراڈایم کے متوازی سماجی سائنسوں کے لیے الگ پیراڈایم وضع کیے گئے۔
اس بات سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو کہ پیراڈایم تحقیقی نتائج پر اتنا ہی اثر انداز ہوتا ہے، جتنا راستے کا انتخاب منزل تک پہنچنے یا نہ پہنچنے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تحقیق میں اس سے بڑھ کر کوئی گم راہی نہیں ہو سکتی کہ یہ سمجھا جاے کہ اصل بات منزل پر پہنچنا ہے، راستہ خواہ کوئی ہو۔ یعنی آپ فطری سائنسوں کا پیراڈایم استعمال کریں یا سماجی سائنسوں کا، کمیتی طریقِ کار سے کام لیں یا کیفیتی طریق تحقیق سے استفادہ کریں یا سرے سے کسی پیراڈایم یا طریق کار سے کام نہ لیں، اٹکل پچو جو ہاتھ آے اسی سے کام چلائیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ کو تو حقیقت دریافت کرنی ہے اور اس کے لیے کوئی مخصوص تحقیقی طریق کار نہیں ہے۔ اردو کے بیش تر محققین کے بارے میں ڈاکٹر تبسم کاشمیری کا یہ دعوا بجا ہے کہ وہ ’’نہیں بتا سکتے کہ وہ کن اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔‘‘(۱۴) اس کی وجہ فقط یہ ہے کہ وہ ایک ایسے پیراڈایم کے تحت کام کرتے ہیں، جس میں نہ تو اصولوں کی بحث اٹھائی جاتی ہے اور نہ اپنے تحقیقی سوال کے لیے موزوں تحقیقی طریق کار کا جوکھم پالنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔


153

اپنے وسیع مفہوم میں تحقیق، علم کے حصول، اشیا و مظاہر کی تفہیم کا ایک طریقہ کار ہے۔ علم کے حصول کے دیگر ذریعے اور طریقے بھی ہیں، جیسے اچانک کشف، الہام، کسی مقتدر ہستی کا فرمودہ، روایت، کہانیاں، ضرب الامثال وغیرہ۔ تحقیق کا طریقہ، ان سب سے الگ ہے۔ باقی سب طریقوں میں آپ کسی نہ کسی سطح پر مقتدرہ یا اتھارٹی کو تسلیم کر رہے ہوتے اور اپنی ذاتی فکر اور قوتِ استدلال کو معطل کر رہے ہوتے ہیں، مگر تحقیق میں محقق کا فکر اور استدلال پوری طرح فعال ہوتے ہیں اور یہ فعالیت ’ہمہ گیر‘ ہوتی ہے۔ چناں چہ یہ کہنا درست ہے کہ تحقیق علم کی تخلیق کرتی ہے۔
تحقیق کے طریقے سے علم کے حصول کی خواہش کا محرک، دنیا و کائنات سے متعلق ایک خاص فلسفیانہ تصور ہے؛ خواہ محقق اس امر سے واقف ہو یا نہ ہو۔ اس فلسفیانہ تصور کے مطابق دنیا، اس کی حقیقت، اس کے سوالات، اس کی اُلجھنیں، اس کے مسایل ازخود آپ کے علم میں نہیں آ سکتے اور نہ کوئی اتھارٹی، دنیا اور اس سے متعلق سوالات کا علم، ایک پیکیج کی صورت آپ کو عطا کر سکتی ہے۔ صاف لفظوں میں تحقیق صرف اسی سماج میں رائج ہوتی ہے، جو اس بات کو اصولی طور پر تسلیم کرتا ہو کہ علم کے انکشاف کی کوئی ایجنسی موجود نہیں ہے، خواہ یہ ایجنسی ماورائی ہو، سماجی، ثقافتی، ادارہ جاتی ہو۔ علم کا انکشاف صرف تحقیق کے منظم طریقے سے ممکن ہے۔ وہی سماج تحقیق پسند کہلا سکتا ہے جو ہر نوع کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کی اخلاقی جرأت رکھتا ہو اور چیلنج کرنے کے لیے تمام ذہنی و علمیاتی وسایل سے مالا مال ہو۔ جو سماج انفرادی قدم اٹھانے سے پہلے طرح طرح کے خوف کی زد پر رہا ہو اور ذہنی و علمیاتی وسایل سے محرومی کا شکار ہو، وہ اگر تحقیق کرتا بھی ہے تو تحقیق کے نام پر ان بے جان حقایق کا ڈھیر لگاتا چلا جاتا ہے، جس سے کسی اتھارٹی کو خطرہ نہیں ہوتا۔ اگر ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کوئی بات معنی و مفہوم سے خالی نہیں ہے اور ہر معنی و مفہوم ایک ’پوزیشن‘ ہے تو ’’مردہ حقایق کا ڈھیر‘‘ لگانے والی تحقیق بھی ایک مفہوم رکھتی ہے اور نتیجتاً ایک موقف یا پوزیشن کی حامل ہے اور اس پوزیشن کے مطابق دنیا میں جو کچھ اور جیسے موجود ہے، وہ درست اور قابل عمل ہے، لہٰذا انکار و انحراف بے وجہ اور تسلیم و موافقت درست رویے ہیں۔ دنیا کو تبدیل کرنے کی نہیں، اس سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے۔
تحقیق کے علمیاتی وسایل میں اہم ترین ’وسیلہ ‘ موضوعِ تحقیق کی مناسبت سے پیراڈایم اور طریق کار کا انتخاب ہے۔ تحقیق میں پیراڈایم کے درست انتخاب کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کسی مرض کے لیے درست دوا کی۔ جس طرح غلط دوا، مرض کے خاتمے کے بجاے مریض کو خاتمہ کر سکتی ہے، اسی طرح غیرموزوں پیراڈایم کا انتخاب موضوع تحقیق کے لیے ’مہلک‘ ثابت ہو سکتا ہے۔ پیراڈایم کے غلط انتخاب یا انتخاب کے معاملے کو نظر انداز کرنے سے آپ کسی شے کے جس علم تک پہنچے ہیں، وہ علم نہیں ہوتا، کوئی تعصب، کوئی خرافات یا کوئی فرضی امر ہو سکتا ہے۔(۱۵)
یہ بھی واضح رہے کہ تحقیق سے دو طرح کے علم کی نمود ہوتی ہے۔ ایک وہ جو موجود، مگر کئی پرتوں میں ملفوف یا تعبیروں سے مسخ شدہ شے کا انکشاف کرتا ہے۔ دوسرا علم یک سر نئی چیز کو تخلیق کرنے سے عبارت ہے۔ دوسرے لفظوں میں تحقیق، علم کی یافت بھی کرتی ہے اور علم کی تخلیق بھی! ظاہر ہے دونوں طرح کے علم کا مرتبہ یکساں نہیں ہو سکتا۔ دونوں کے درجے میں کم و بیش وہی فرق ہے جو احیا اور ارتقا میں ہے۔ عام طور پر کسی سماج میں علم کی یافت کی خواہش توانا ہوتی ہے یا علم کی تخلیق کا جذبہ غالب ہوتا ہے۔ تحقیق کے ذریعے علم کی یافت کی خواہش اس سماج میں شدت اختیار کر جاتی ہے جو بعض تاریخی وجوہ سے ’’احیا پسند‘‘ ہو؛ جس کے اجتماعی لاشعور میں اپنے ماضی اور اپنی روایات سے الگ ہو جانے کا خوف اور اسی کے نتیجے میں اس سے جڑنے کی خواہش، ملی جلی صورت میں موجود ہوں۔ اس نوع کی تحقیقی روش عموماً نوآبادیاتی ماضی رکھنے والے ممالک میں فروغ پاتی ہے کہ ان کے ماضی کو مسخ کیا گیا اور ان کی روایات کو غلط تعبیروں کی زنجیریں پہنا کر اپاہج کیا گیا ہوتا ہے۔ جب کہ علم کی تخلیق کا جذبہ احیا سے زیادہ ارتقا پسند معاشروں میں غالب ہوتا ہے۔ ان کی نگاہ ماضی سے زیادہ مستقبل کی طرف ہوتی ہے۔ احیا اور ارتقا میں لازمی تضاد نہیں ہے اور بعض اوقات احیا، ارتقا کی بنیاد بھی بنتا ہے، تاہم جب احیا کا جذبہ تحقیق کی آزادانہ روش کے گرد حصار کی صورت اختیار کرلے اور اسے پابند کر ڈالے تو ارتقا سے اغماض کا رویہ عام ہو جاتا ہے۔ ساری اہمیت روایت کو پوری صحت کے ساتھ محفوظ کرنے یا روایت کو ناروا تعبیروں کی بھاری زنجیروں سے آزاد کرانے پر دی جانے لگتی ہے۔ نئی نظر اور تازہ وژن کی تخلیق سے بے زاری عام ہو جاتی ہے۔ اس مقام پر ’’اپنی روایات سے الگ ہو جانے یا ان کے چھن جانے کا خوف‘‘ مجسم ہو کر سامنے آ جاتا ہے اور وہ نئی نظر اور تازہ وژن کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگتا اور اس پر غرانے لگتا ہے۔ چناں چہ دیکھیے کہ جہاں تحقیق کا مفہوم علم کی یافت ہو، وہاں علم کی تخلیق پر مبنی تصورِ تحقیق کو (ایک خطرہ سمجھتے ہوے) مسترد یا مسخ کرنے کی روش عام ہوتی ہے۔ بہ ہر کیف تحقیق خواہ ماضی میں موجود حقیقت یا صورتِ حال کا انکشاف کرے یا کسی نئے وژن اور نظریے کی تخلیق کرے، اپنے وجود اور اپنے قابلِ عمل ہونے کے لیے پیراڈایم کی محتاج ہوتی ہے۔


153

ادبی تحقیق کے لیے کیا پیراڈایم موزوں ہو سکتا ہے، اس سوال کے جواب کے لیے دست یاب پیراڈایم پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
معاصر عالمی فکر میں اس وقت تین قسم کے تحقیقی پیراڈایم رائج ہیں: ثبوتیت؛ ردّ ثبوتیت یا تعبیریت اور تنقیدی تھیوری۔
ثبوتیت (Positivism) کا پیراڈایم ارسطو، فرانسس بیکن، ڈیکارٹ، آگسٹ کومٹے، تھامس ہابز، ڈیوڈ ہیوم، جون سٹوارٹ مل اور درلھیم کے فلسفیانہ نظریات سے ماخوذ ہے؛ کومٹے کے نظریات سے بہ طور خاص۔ ثبوتیت کا مرکزی نکتہ مارٹن ہولیس کے لفظوں میں یہ ہے:
’’ثبوتیت کی اصطلاح فلسفے اور سماجی سائنس میں کئی معانی میں استعمال ہوتی ہے۔ وسیع معنی میں، اس سے مراد وہ(تحقیقی) طرز ہے جو سائنسی طریق کار کا اطلاق انسانی معاملات پر، اس خیال سے کرتا ہے کہ فطری نظم کے حامل ہونے کے سبب ان کی معروضی چھان بین کی جا سکتی ہے۔‘‘(۱۶)
لہٰذا ثبوتیت ایک ایسا پیراڈایم ہے، جو سماجی دنیا کو فطری دنیا کے مماثل سمجھتا ہے۔ اس کے مطابق سماج اور اس کے ادارے انھی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں، جنھیں فطری سائنسوں نے، فطرت کے مطالعے سے دریافت کیا ہے۔ یعنی یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس طرح فطرت میں جبریت، میکانکیت، تجربیت اور عمومیت ہے، اسی طرح سماج میں بھی ہے اور جس طور ہم فطرت کے قوانین کو سمجھنے کے لیے مشاہدے، تجربے اور تصدیق سے کام لیتے ہیں اور ہر بار یکساں نتائج پر پہنچتے ہیں، اس طرح سماج کے مطالعے میں بھی سماج کے خارجی احوال کے مشاہدے سے درست اور قابلِ تصدیق نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔ نیز جس طرح فطری سائنسوں کے قوانین میں عمومیت اور آفاقیت ہوتی ہے یعنی فطری مظہر اپنے مشاہدہ کرنے والے سے آزاد ہوتا ہے؛ مشاہدہ کرنے والے کا زاویہ نظر، تصور اقدار وغیرہ فطری مظہر کی تفہیم میں حایل نہیں ہوتے؛ ہر دفعہ اور ہر مقام پر ہر مشاہدہ کرنے والا یکساں نتائج پر پہنچے گا۔ اسی طرح کی عمومیت اور آفاقیت سماج میں بھی تصور کی جاتی ہے۔ اس پیراڈایم کی رُو سے تمام سماج خواہ وہ مشرقی ہوں کہ مغربی، قدیم ہوں یا موجودہ، ان کی بقا و ترقی اور تبدیلی و عمل آرائی کے قوانین مستقل اور آفاقی ہیں۔ اسی پیراڈایم میں یہ مفروضہ بھی مضمر ہے کہ اگر ہم فطری دنیا کا علم حاصل کر لیں تو سماجی دنیا کا علم حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ فطری دنیا، سماجی دنیا کے لیے ماڈل بن جاتی ہے۔ کوانٹم فزکس کا اصول لایقینیت، غیر یقینی سماجی تبدیلیوں کو سمجھنے میں راہ نمائی کرتا ہے۔ نیز جس طرح سائنس فطرت کی قوتوں کی قابو میں لا کر انھیں اپنے مصرف میں لاتی ہے، اسی طرح سماج کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اسے کسی مخصوص نظریے یا آئیڈیالوجی کے تحت ڈھالا جا سکتا ہے۔ مزید برآں اس پیراڈایم کا ایک غیر اعلانیہ مفروضہ یہ بھی ہے کہ جو شخص یا جو سماجی گروہ فطری قوانین کا علم رکھتا یا سائنسی قوانین جانتا ہے، وہ اپنی سماجی زندگی میں بھی سائنسی شعور کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ دونوں مفروضے درست نہیں ہیں اور حقیقتاً ’غیر سائنسی‘ ہیں۔ بجا کہ ثبوتیت کے طرز پر سماجی مطالعات کرکے یورپی اقوام نے؂ نوآبادیات قایم کیں، یعنی انھوں نے فطری سائنسوں کی مہیا کردہ ٹیکنالوجی اور علم کی مدد سے ایشیائی اور افریقی اقوام کو غلام بنایا اور ان کی ثقافتوں میں (سائنسی طرز پر) نوآبادیاتی آئیڈیالوجی کے نفوذ کی ہمہ گیر کوششیں کیں، مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ نوآبادکاروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود، غلام ممالک میں آزادی کی تحریکیں کیوں چلیں اور کیوں جزوی یا مکمل طور پر کام یاب ہوئیں؟ اگر سماجی دنیا واقعی، فطری دنیا کے مماثل ہوتی تو فطری دنیا کے علم سے مالا مال قومیں تمام سماجوں پر اسی طرح تصرف رکھتیں، جس طرح وہ ٹیکنالوجیکل ذرائع سے فطری مظاہر پر رکھتی ہیں۔ اس وقت اگر مغربی ممالک، ترقی پذیر ممالک میں غیرمعمولی عمل دخل رکھتے ہیں تو اس کے اصل اسباب سیاسی و معاشی ہیں۔ اسی طرح یہ ہمارے عام مشاہدے میں آتا ہے کہ سائنس کے ذہین ترین پروفیسر سماجی معاملات کے فہم کے سلسلے میں نہایت غبی واقع ہوتے ہیں۔ وہ طلبا کو سائنسی قوانین پورے تیقن کے ساتھ پڑھاتے ہوے، عقائد، اقدار، اخلاقیات، سیاست کے معاملات میں کٹر اور قدامت پسند ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مذکورہ دونوں مفروضوں کے غیر سائنسی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سائنس اگر کسی شے کے قطعی علم تک پہنچنے کا نام ہے تو فطری سائنسوں کا طریق کار، سماج کا قطعی او ربے داغ علم نہیں دیتا، لہٰذا سماج کے مطالعے کے لیے کوئی دوسرا طریق کار درکار ہے۔ زمین کی حرکت کی درست پیش گوئی سائنس کر سکتی ہے، مگر انسانی عمال کے بارے میں کسی درست پیش گوئی کا امکان نہیں۔ اسی امکان کی معدومیت کی وجہ سے ہی نوآبادیاتی ممالک میں آزادی کی تحریکیں چلیں اور دنیا کے بڑے بڑے آمر بالآخر اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچے۔ بنا بریں سماجی مطالعات کے لیے نئے پیراڈایم کی تلاش ہوئی۔
نئے پیڑاڈایم کو ردّ ثبوتیت یا تعبیریت (Antipositivist & Interpretivism) کا نام دیا گیا ہے اور اس سے متعلق نظریات جرمن مفکرین: کانٹ، ہیگل، میکس ویبر، ولہلم ڈلتھے اور ہانس جارج گدامر کے یہاں ملتے ہیں اور یہ جرمن ہی ہیں جنھوں نے یورپی سائنس کی اس نہج کو تبدیل کیا، جس کے مطابق سماجی سائنسیں، فطری سائنسوں کے ماڈل پر تشکیل دی گئی تھیں۔ یہ سب مفکرین اس نکتے پر متفق ہیں کہ فطری اور سماجی دنیائیں مختلف ہیں۔ لہٰذا دونوں کا علم یکساں طریق تحقیق سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس پیراڈایم کے اہم مقدمات یہ ہیں: (۱۷)
(ا) دنیا ہمارے علم کے بغیر اور آزادانہ وجود نہیں رکھتی۔ (کم از کم ہمارے لیے دنیا کا وجود اسی طور پر ہے)
(ب) دنیا ایک سماجی تشکیل ہے، جسے افراد کے باہمی تعامل نے تشکیل دیا ہے۔ سماجی دنیا میں حقیقت (fact) اور قدر (value) اس طرح باہم جدا نہیں ہیں، جس طرح ثبوتیت کا پیراڈایم دعوا کرتا ہے۔
(ج) ہر سماجی مظہر اپنی تعبیر چاہتا ہے کہ لازماً اس سے قدر وابستہ ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سماجی مطالعات میں ’معنی‘ پر زور ہوتا ہے اور کم و بیش ہر سماجی تحقیقی مطالعے میں زبان کے کردار کی تعبیر کی جاتی ہے، تاہم ’معنی‘ کی تلاش میں اس تناظر کو خاص اہمیت دی جاتی ہے؛ جو زیر تحقیق سماجی مظہر کو محتوی ہوتا ہے۔
غور کریں تو اس پیراڈایم میں تین باتوں پر زور ملتا ہے۔ ایک یہ کہ سماجی محقق اپنی تحقیق میں شریک ہوتا ہے۔ ثبوتیت کے پیراڈایم میں محقق، زیر تحقیق موضوع سے الگ ہوتا ہے، لہٰذا وہ جس علم تک پہنچتا ہے، اس تک دوسرے بھی یکساں طریق کار استعمال کرتے ہوے پہنچ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی اگر نتائج وہی ہوں تو اس تحقیق کو درجہ استناد حاصل ہوتا ہے، مگر سماجی تحقیق میں کوئی تحقیق کٹر قسم کی سائنسی معروضیت اور عمومیت نہیں رکھتی۔ معروضیت اور عمومیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ تحقیقی نتائج تمام محققین کے لیے یکساں ہیں۔ محققین اگر تحقیقی اصولوں کے سختی سے پابندی کریں تو ان کے نتائج میں فرق نہیں ہوگا۔ گویا نتائج یا حقایق، محقق سے آزادانہ وجود رکھتے ہیں؛ محقق محض انھیں دریافت کرتا ہے۔ اس طرز کی معروضیت اپنی شدت کے ساتھ سماجی تحقیق میں ممکن نہیں۔ سماجی محقق، سماجی مطالعات میں فطری سائنسوں کے ماہرین کی طرح اپنے معروض سے الگ نہیں ہو سکتا۔ سماجی تحقیقی مطالعہ، اس کی شرکت سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی شرکت کا کیا مفہوم ہے؟ شرکت سے مراد، موضوع تحقیق کے ’معنی‘ اور ’قدر‘ کی وہ تعبیر ہے، جسے محقق اپنے ذہنی و علمیاتی وسایل کے مدد سے انجام دیتا ہے۔ ردّ ثبوتیت کے پیراڈایم میں دوسرا اس بات پر زور ملتا ہے کہ فطری حقیقت ہر قسم کی قدر سے آزاد ہوتی ہے، اس لیے سائنسی محقق محض توجیہہ پیش کرتا ہے۔ اسے معنی اور قدر سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، جب کہ سماجی محقق کو ان دونوں سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ کسی آئیڈیالوجی کے تحت نہیں بلکہ اس لیے کہ سماجی حقایق، قدر سے مملو ہوتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ سماجی تحقیق میں (معنی اور قدر کی وجہ سے) موزوں تحقیقی طریق کار کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے کہ ہر سماجی تشکیل، تاریخی و ثقافتی اسباب کے تحت الگ اقدار و معانی کی حامل ہوتی ہے۔ اس لیے تمام سماجی تشکیلات کے لیے یکساں تعبیری حربے اختیار نہیں کیے جا سکتے۔ ایسا کرنے کا مطلب ثبوتیت کے جال میں ایک بار پھر گرفتار ہونا ہے۔
یہاں ایک خطرے کی نشان دہی اور سدباب ضروری ہے۔ ردّ ثبوتیت کے پیراڈایم کو سرسری نظر میں ’غیر سائنسی‘ سمجھے جانے کا خطرہ موجود ہے۔ درست کہ یہ پیراڈایم فطری سائنسوں کے پیراڈایم (ثبوتیت) پر تنقید کرتا ہے اور سماجی مطالعات کے ضمن میں اس کی نارسائیوں کو اجاگر کرتا ہے، مگر خود کو غیر سائنسی بنا کر پیش نہیں کرتا۔ سائنسی ہونے کا مطلب اگر درست نتائج تک پہنچنا ہے تو ردّ ثبوتیت بھی سائنسی ہے کہ سماجی دنیا کو فطری دنیا کے عین مماثل سمجھنے سے ہم سماج سے متعلق درست نتائج تک نہیں پہنچ سکتے۔ ردّ ثبوتیت کے سائنسی ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جس طرح فطری سائنسوں میں فطری حقیقت لازماً قدر سے آزاد ہوتی ہے، اسی طرح سماجی سائنسوں میں سماجی حقیقت لازماً قدر سے ہم کنار ہوتی ہے۔ لہٰذا جس طرح فطری مظاہر کے مطالعے کے لیے مخصوص قوانین ہیں اور وہی کارگر ہیں، سماجی مظاہر کے لیے بھی بعض ناگزیر قوانین ہیں اور وہی ان کے لیے کارگر ہیں۔ علاوہ بریں ردّ ثبوتیت میں محقق کی شرکت کو غیرمعروضی اور غیر سائنسی سمجھے جانے کا خطرہ موجود ہے۔ واضح رہے کہ محقق کی شرکت کا مطلب تعصبات کو راہ دینا نہیں بلکہ ایک انفرادی تناظر میں سماجی مطالعہ پیش کرنا ہے۔ چوں کہ انفرادی تناظر کے پردے میں اپنے شخصی، نسلی، قومی، مذہبی تعصبات کے اظہار کی گنجایش ہوتی؛ سماجی حقایق کی تعبیر میں ان تعصبات سے کام لینے کا امکان ہوتا ہے (مشرق شناسی کی روایت میں اسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے)، اس لیے سماجی مطالعات میں اختیار کیے گئے تناظر کا تنقیدی جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ اس جائزے کے بعد ہی یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ کہاں سماجی مطالعہ سائنسی، غیر جانب دارانہ علم کی تخلیق کا موجب ہے اور کہاں جانب دارانہ اور مخصوص ’’سیاسی نتائج‘‘ کے حصول کا ذریعہ ہے۔
پیش نظر رہے کہ ردّ ثبوتیت کے تحت کے گئے سماجی مطالعات، فطری سائنسوں کے مطالعات کی طرح ’’آفاقی‘‘ نہیں ہوتے۔ وہ اسی تناظر میں قابلِ فہم ہوتے ہیں، جس میں یہ مطالعات کیے گئے ہوتے ہیں، تاہم وہ ملتے جلتے تناظر میں قابلِ عمل ہو سکتے ہیں۔ اس کی مثال میں کئی سیاسی، معاشی اور نفسیاتی نظریات پیش کیے جا سکتے ہیں جو سماجی مطالعات کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ جمہوریت، مارکسیت اور فرائیڈیت اس کی مثال ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ تناظر کوئی جامد چیز ہے نہ محض ایک مرتبہ وجود میں آنے اور پھر مٹ جانے والی تاریخی حقیقت ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو سماجی مطالعات سے استفادہ ناممکن ہو جاتا۔ یہاں اصل نکتہ سماجی مطالعے کو اِس متعلقہ تناظر میں رکھ کر دیکھنا اور اس کے معانی و امکانات کے ان حدود کا خیال رکھنا ہے، جو تناظر کے ہاتھوں وجود میں آئے ہیں۔
تنقیدی تھیوری کا پیراڈایم، تعبیریت کی ہی اگلی منزل ہے۔ اسے بھی ایک جرمن مفکر ہیبر ماس (Jurgen Hebermas) نے پیش کیا ہے۔ بجا کہ ہر سماجی تشکیل کی تحقیق کے لیے تعبیری حربے کی ضرورت ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ حربہ کیسا ہونا چاہیے؟ آیا یہ محض سماجی تشکیل کی حقیقی کارکردگی کو سامنے لاے؛ جو ’ہے‘ اُسی کو طشت ازبام کرے یا ایک تنقیدی رویہ اختیار کرتے ہوے جو ہونا چاہیے (تھا/ہے) اُس کو سامنے لاے؟ آیا سماجی تحقیق کو Conformist ہونا چاہیے یا Critical اور Emancipatory ؟ سماجی محقق فقط علم کی تخلیق کرے یا ایک ایسے علم کی تخلیق کرے جو سماج کو مقتدرہ کی پہنائی گئی زنجیروں سے آزاد کرانے کا امکان رکھتا ہو یعنی اُسے محض علم سے دل چسپی ہو یا علم کے ساتھ ساتھ ان انسانوں سے بھی جو نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی زنجیروں میں جکڑے ہیں؟ اِسی سوال کے جواب میں ہیبر ماس نے ’تنقیدی تھیوری‘ کا پیراڈایم پیش کیا ہے۔
ہیبر ماس کے مطابق اب تک جتنے علوم پیدا ہوے ہیں، وہ تین قسم کے ہیں اور تین قسم کی انسانی دل چسپیوں یا مفادات نے پیدا کیے ہیں۔ مثلاً اپنے ماحول پر قابو پانے کے انسانی مفاد نے فطری سائنسوں (طبیعیات ، کیمیا، حیاتیات) کو پیدا کیا۔ گروہی اور سماجی تعامل کو سمجھنے کے انسانی مفاد نے سماجی سائنسوں اور انسانی علوم (تاریخ، قانون، جمالیات، ادب) کو جنم دیا، جب کہ حیاتیاتی، سماجی اور ماحولیاتی جبر سے آزادی کی خواہش اور مفاد نے تحلیل نفسی، تانیثیت، آئیڈیالوجی پر تنقید کی تمام فلسفیانہ روایتوں کو پیدا کیا۔ انھیں ’تنقیدی سماج سائنس‘ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔(۱۸) اس طور ہیبر ماس نے سماجی سائنسوں کی ایک نئی قسم کی نشان دہی کی ہے۔ یہ سائنسیں ہر نوع کی مقتدرہ کی ہر وضع کی اقتدار پسندانہ تدبیروں کا پردہ چاک کرتی ہیں۔ ظاہر ہے تینوں علوم کے لیے الگ الگ تحقیقی طریق کار درکار ہیں۔
یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ ہر پیراڈایم کے لیے الگ طریق کار درکار اور موزوں ہوتا ہے۔ مثلاً ثبوتیت کے لیے کمیتی طریق کار (Quantitative Method) موزوں ہے تو ردّ ثبوتیت کے لیے زیادہ تر کمیتی طریق کار (Quantitative Method) مناسب ہے، جب کہ ’تنقیدی تھیوری‘ پیراڈایم کے لیے تنقیدی اور عمل اساس طریق کار (Critical and action-oriented Method) موزوں ہے۔(۱۹)
ایک ایسے سماج میں جہاں فطری اور سماجی سائنسوں کی اپنی اور باقاعدہ روایت نہ ہو۔ دونوں طرز کی سائنسیں خود اس سماج کی داخلی، ثقافتی کوکھ سے پیدا نہ ہوئی ہوں، بلکہ بعض تاریخی وجوہ سے ’درآمد‘ کی گئی ہوں اور اس سے بھی بڑھ کر عالمی سطح پر ان سائنسوں میں اب تک جتنی پیش رفت ہوئی ہے، اس کی کامل اور تنقیدی آگاہی مستثنیات میں سے ہو اور نتیجتاً قبل جدید عہد کی توہماتی ذہنیت عام ہو اور روایت کے نام پر متحجر تصورات سے عقیدت کا غلبہ ہو، وہاں ادبی تحقیق کے لیے موزوں پیراڈایم کے انتخاب کا معاملہ خاصا پے چیدہ ہو جاتا ہے۔
ان معروضات سے ایک بات واضح ہے کہ ادبی تحقیق کے لیے بھی موزوں پیراڈایم درکار ہیں اور موزوں تحقیقی طریق کار۔ راقم یہاں ادبی تحقیق سے وہ تحقیق مراد لے رہا ہے، جو ادب کی تاریخ، ادب کی اصناف، ادب کے ادوار اور ادب کی شخصیات سے متعلق نہیں اسے ’’ادب کی تحقیق‘‘ کہنا چاہیے کہ یہ ادب کی روح (236 ادبیت) کے بجاے ادب کے متعلقات سے جڑی ہے۔ ان حوالوں سے اردو میں بے شبہ نہایت قابلِ قدر کام ہوا ہے۔ جس طرح ادبی تنقید کا موضوع ادبی متن ہے اور ادبی متن کی تہوں میں اُترنے، متن کے معنیاتی سلسلوں کو منکشف کرنے یا متن سے متعلق ایک عمومی بصیرت پیش کرنے سے ہی کوئی تحریر تنقید کہلانے کی حق دار ہے، اسی طرح ادبی تحقیق کا اصل موضوع بھی ادبی متن ہے اور اس تحقیق کو ادبی متن کی بنیاد پر علم تخلیق کرنا چاہیے، جو تحقیق محض ادبی متن اور اس کے متعلقات کی صحت کے تعین تک محدود ہو جاتی ہے، وہ تحقیق کا ابتدائی درجہ ہے اور نوعیت کے اعتبار سے وہ تاریخی تحقیق ہے۔ تحقیق کے ابتدائی درجے کی افادیت سے کسے انکار ہو سکتا ہے، مگر اسی درجے پر رُکے ہونے پر اطمینان بھی کسے ہو سکتا ہے!
سوال یہ ہے کہ کیا ادبی تحقیق کے لیے سماجی سائنسوں کے مذکورہ بالا پیراڈایم ہی موزوں ہیں یا نہیں؟ اگر یہ بات اصول کا درجہ رکھتی ہے کہ زیر تحقیق موضوع یا مسئلے کی نوعیت ہی پیراڈایم کا فیصلہ کرتی ہے تو پھر یہ بات سوچنے والی ہے کہ آیا ادبی متن ایک فطری مظہر کی مانند ہے؛ ایک سماجی تشکیل ہے یا اس کی مثل ہے یا ایک تخیلی تشکیل؟ یہ فیصلہ کرنے سے پہلے ادب اور سماجی علوم کے باہمی اختلاف اور مماثلتوں پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ ادب اور سماجی سائنس دونوں سماج سے متعلق ہیں۔ سماج سے تعلق کے سلسلے میں دونوں میں ایک مشترک نکتہ یہ ہے کہ دونوں سماج کو ’’تعبیر طلب مظہر‘‘ خیال کرتی ہیں۔ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی سماجی وقوعہ، ثقافتی ادارہ، اجتماعی انسانی رویے اور سرگرمیاں، انفرادی تجربہ و طرزِ فکر وغیرہ کسی نہ کسی معنی اور قدر کے حامل ہیں۔ معنی اور قدر اس طرح ّ بین اور قابلِ مشاہدہ نہیں، جس طرح کہ ایک فطری مظہر کے اوصاف ہوتے ہیں۔ (ہرچند کرداریت فطری مظہر اور سماجی مظہر میں فرق کی قایل نہیں، مگر وہ بھی سماجی مظہر کی تعبیر سے انکار نہیں کرتی) چوں کہ فطری مظہر کے اوصاف ہر جگہ اور ہر ایک کے لیے یکساں ہوتے ہیں، اس لیے وہ ’’توجیہہ طلب‘‘ ہوتے ہیں، جب کہ سماجی معنی اور قدر، کئی ثقافتی، نفسیاتی، لسانی اور تاریخی عوامل کے تال میل سے وجود میں آتے ہیں، اس بنا پر یہ پے چیدہ علامتی مظہر میں ڈھل جاتے ہیں اور اسی لیے یہ توجیہہ سے زیادہ اور بسا اوقات توجیہہ کے علاوہ اپنی تعبیر کا تقاضا کرتے ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ جو لوگ اس ’علامتی سماجی مظہر‘ میں شریک ہوتے ہیں، انھیں اس کی تعبیر کی ضرورت نہیں ہوتی؛ وہ تو اسے جی رہے ہوتے ہیں، مگر جو لوگ ’علامتی سماجی مظہر‘ سے باہر ہوتے یعنی ان پر سوال اُٹھاتے ہیں، انھیں لازماً ان کی تعبیر کرنا پڑتی ہے۔ سماجی سائنس اور ادب دونوں سوال اٹھاتے ہیں، اپنے اپنے انداز میں اور دونوں اپنے انداز میں سماجی مظاہر کی تعبیر بھی کرتے ہیں۔ تعبیر کے طریقوں کا فرق اس قدر بنیادی ہے کہ تخلیقی ادب کو سماجی سائنس کے زُمرے میں شامل کرتے ہوے ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ مختصراً سماجی سائنس، منظم تحقیقی طریق کار (کمیتی اور کیفیتی) کے ذریعے سماجی تشکیلات کی تعبیر کرتی ہے اور اسی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے، جب کہ ادب تخیلی طریق کار کے ذریعے سماج کی ’’تعبیر ‘‘ کرتا ہے۔ ادب اور سماجی سائنس اپنے طریق کار کے فرق کو قائم رکھتے ہوے اور نتیجتاً اپنے اپنے تشخص کو برقرار رکھتے ہوے، اس نکتے پر بھی متفق ہیں کہ سماجی مظاہر کی محض صحت کے ساتھ بازیافت نہیں کی جاتی، بلکہ سماجی مظاہر کی اساس پر ایک ایسی بصیرت کا انکشاف کیا جاتا ہے جو کتنی ہی سماجی ساختوں کو روشن کرتی اور انسانوں کو نئی راہ دکھاتی ہے۔
اگرچہ نظری اور عملی اعتبار سے ادبی تحقیق کو سماجی سائنس میں شامل کرنے کی سنجیدہ کوشش کہیں نظر نہیں آتی، مگر اس کوشش کی عدم موجوددگی، ادبی تحقیق کو سماجی سائنس میں شامل نہ کرنے کا جواز ہرگز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ادبی تحقیق کو صحت متن کے مرحلے کو عبور کرکے خود کو باقی رکھنا اور علمی سرگرمی کے طور پر ترقی کرنا اور ادب کے واسطے سے اہم سماجی اور ثقافتی سوالوں کے جواب دینے کی ذمے داری کو قبول کرنا ہے تو پھر اسے سماجی سائنس بنے بغیر چارہ نہیں، مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ آیا ادبی تحقیق کو اُسی طرح سماجی سائنس بننا ہے، جس طرح ابتدا میں سماجی سائنس وجود میں آئی تھی؟ یعنی سماجی سائنس نے طبعی سائنس کو بہ طور ماڈل پیش نظر رکھا تھا اور اس کے مطابق خود کو ڈھالا تھا، سماجی مظہر کو طبعی مظہر کی مانند خیال کرکے ان کی تحقیق کی تھی۔ سادہ لفظوں میں کیا ادبی تحقیق کو سماجی سائنس کے زُمرے میں شامل ہونے کے لیے، ادبی متن کو ایک سماجی مظہر کے طور پر فرض کرنا ہوگا اور ادبی متن کے تحقیقی مطالعے میں سماجی سائنس کے پیراڈایم کی ہو بہ ہو پیروی کرنا ہوگی؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینے کا مطلب ایک ایسی غلطی کا ارتکاب ہوگا جو ادبی تحقیق کو سماجی سائنس نہیں بننے دے گی۔ سماجی سائنس اپنے موضوع کی نسبت سے پیراڈایم اور تعبیری حربے اختیار کرتی ہے اور اگر اس ضمن میں وہ کسی خطا کی مرتکب ہوتی ہے تو وہ اپنی سائنسی حیثیت کو داؤ پر لگاتی ہے۔ چناں چہ اگر ادبی تحقیق کو سماجی سائنس بننا ہے تو پھر اپنے موضوعِ تحقیق کی مناسبت سے پیراڈایم اور تعبیری حربے کا انتخاب کرنا ہوگا۔
یہ کچھ زیادہ بحث طلب نہیں کہ سماجی مظہر اور ادبی متن مختلف ہیں۔ یہ درست ہے کہ سماجی مظہر وہ ’خام مواد‘ ہے، جس سے مختلف تعبیری طریقوں کے ذریعے سماجی سائنس اور ادبی متن وجود میں آتے ہیں، مگر ادبی تحقیق براہِ راست سماجی مظہر کو موضوعِ تحقیق نہیں بناتی۔ چوں کہ ادبی تحقیق، ادبی متن کو موضوعِ تحقیق بناتی ہے جو سماجی مظہر سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے ادبی تحقیق کے لیے بعینہٖ وہی پیراڈایم موزوں نہیں ہو سکتا جو سماجی سائنس کے لیے موزوں ہے۔ یہاں اس خیال کا پیدا ہونا ’’عین فطری‘‘ ہے کہ جب ادبی متن سماجی مظہر کی تعبیر کر چکا ہے تو اس کے بعد تحقیقی مطالعے کی ضرورت ہی کیاہے! اردو تحقیق کا موجودہ پیراڈایم تو شدّ و مدّ سے اس خیال کا حامی ہے کہ تحقیق ادبی متن کی نہیں، ادبی متن کے متعلقات یا ادبی متن کی محض صحت کے تعین کے لیے ہوتی ہے اور ادبی متن کا فقط تنقیدی مطالعہ کیا جا سکتا ہے _____ یہ گم راہ کن خیال اس لیے فطری لگتا ہے کہ اوّل اس زاویے سے کبھی غور نہیں کیا گیا، دوم اردو تحقیق کی پیراڈایمی حدود سے باہر جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ کوئی خیال فطری نہیں ہوتا، بعض رویوں، عادتوں کی تکرار یا اُصولوں کی نام نہاد پایندگی کسی خیال کو فطری بنا کر پیش کرتی ہے۔
اگر ادبی متن ایک سادہ اور اکہری حقیقت ہوتا تو ادبی تحقیق (اور ادبی تنقید) کی ضرورت ہی نہ ہوتی ۔دوسرے لفظوں میں اگر ادبی متن ایک عمومی لسانی مظہر ہوتا، جس کا ابلاغ سریع اور فوری ہوتا ہے تو تحقیق خواہ مخواہ کا جھنجٹ ہوتا، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ادب ایک پے چیدہ اور علامتی لسانی مظہر ہے، جس کی تشکیل میں کئی سماجی نفسیاتی، آئیڈیالوجیکل عوامل حصہ لیتے ہیں نیز متھ، ڈسکورس اور مہا بیانیے بھی ادب کی تخلیق پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انھی کی وجہ سے ادب پے چیدہ اور علامتی مظہر میں ڈھلتا ہے۔ ’’اے پس ٹیمی حدود ‘‘ ان کے علاوہ ہیں۔ ہر زمانے میں سماجی، نفسیاتی اور آئیڈیالوجیکل عوامل موجود ہوتے اور ادب سمیت تمام سماجی و تخیلی تشکیلات پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں، مگر ہر زمانے میں ان کا مفہوم، معنویت اور قدر مختلف ہوتی ہے۔ کلاسیکی، رومانوی، جدید اور مابعد جدید ادب میں فرق بھی اسی سبب سے پیدا ہوتا ہے۔ ادبی تحقیق درحقیقت انھی عوامل کے مفہوم، معنویت اور قدر کی تحقیق کرتی ہے۔ ادبی محقق یہ جاننا چاہتا ہے کہ ادبی متون میں سماجی، نفسیاتی اور آئیڈیالوجیکل عوامل کس طور شامل ہوتے اور متھ اور بیانیے ادبی متن کی تہوں میں کیوں کر تحلیل ہو جاتے ہیں؟ اور اگر کہیں ادب ان سب عوامل سے ماورا ہو کر ایک ’’چیزے دیگر‘‘ بننے میں کام یاب ہوتا ہے تو اس کی کیا سماجی، نفسیاتی آئیڈیالوجیکل یا فنی وجہ ہوتی ہے؟ ادب سماجیت سے کبھی ماورا نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے کہ ادبی تحقیق تاریخی اور نفسیاتی تنقید کی طرح سیدھا سادہ معاملہ نہیں کہ پہلے تاریخی و سوانحی حقایق جمع کر لیے جائیں، پھر ادبی متون میں ان کی بازیافت کر لی جاے۔ سماجی، نفسیاتی، آئیڈیالوجیکل عوامل اور متھ، مہا بیانیے، کلامیے اپنے آپ وجود میں نہیں آتے ،سماجی قوتیں انھیں وجود میں لاتیں، اپنے اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مفادات کی خاطر اور مادی یا روحانی مقاصد کے تحت، انھیں باقی و جاری رکھتی ہیں۔ ادب ان عوامل کی ’’تخیلی تعبیر‘‘ کرتا ہے۔ ادبی محقق دراصل ان سماجی قوتوں اور ان کے ضمن میں ادب کے علامتی طرز عمل کی نشان دہی کرتا ہے، جس کا نتیجہ ایک نئے سماجی علم کی تخلیق کی صورت ہوتا ہے۔
جہاں تک ادبی تحقیق کے لیے پیراڈایم کے انتخاب کا معاملہ ہے تو اس کے لیے بین العلومی (Interdisciplinary) پیراڈایم ہی موزوں ہے۔ ایک ایسا پیراڈایم جو طبعی اور سماجی علوم کے تحقیقی طریق کار کو، تحقیقی سوالات کی نسبت سے بروے کار لاتا ہے۔ ادب میں بہت سے سماجی، ثقافتی، نفسیاتی اور فلسفیانہ سوالوں کا جواب پنہاں ہوتا ہے تو اسی طرح کے سوالات ادب اٹھاتا بھی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ادبی متون پر گفت گو مختلف اوقات میں اور مختلف زاویوں سے نہ ہوتی۔ چوں کہ ادب کی ’رینج‘ وسیع ہے اسی لیے اس کے لیے تحقیقی پیراڈایم بھی کوئی ایک نہیں ہو سکتا۔ ادبی متن ایک ایسا ’’مقام‘‘ ہے جہاں متعدد دھارے یک جا ہوتے ہیں، لہٰذا اس کی تحقیق بھی کئی زاویوں سے کی جا سکتی اور ایک ایسے علم کی تخلیق کی جا سکتی ہے، جو اور طرح سے ممکن نہیں ہے۔ یعنی حقیقی ادبی تحقیق سے وجود میں آنے والا علم نفسیات، سیاسیات، تاریخ وغیرہ سے مختلف، مگر انھی کی مانند سماجی سائنس ہوتا ہے۔ مغرب میں ثقافتی تھیوری کے نام سے وجود میں آنے والا علم اسی نوع کا ہے۔ اردو تحقیق ابھی اپنی ثقافتی تھیوری کے معرضِ وجود میں آنے کی منتظر ہے اور یہ انتظار اسی وقت ختم ہو سکتا ہے، جب اردو ادب میں بین العلومی مطالعات، بین الاقوامی تحقیقی معیار کے مطابق کیے جائیں گے!

حواشی :
۱۔ تھامس کوہن نے ۱۹۶۲ء میں پیراڈایم کی تھیوری پیش کی انھوں نے اپنی کتاب ’’سائنسی انقلابات کی ساخت‘‘ میں سائنسی نظریات کی داخلی تاریخ لکھی۔
اس کتاب سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے :
"By choosing it (paradigm), I mean to suggest that some accepted examples of actual scientific practice-examples which include law, theory, application, and instrumentation together-provide modles from which spring particular coherent traditions of scientific research."
(The Structure of Scientific Revolutions, University of Chicago, USA, 1970 (2nd, ed) P-10)
۲۔ کلب عابد، عماد التحقیق، شعبہ دینیات، علم یونیورسٹی، علی گڑھ، ۱۹۷۸ء، ص ۱۴
۳۔ گیان چند، تحقیق کا فن، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، ۲۰۰۷ء ص ۹
۴۔ عبدالرزاق قریشی، مبادیات تحقیق، ادبی پبلشرز، بمبئی، ۱۹۱۶۸ء، ص ۴
۵۔ خلیق انجم، ’’ادبی تحقیق اور حقایق‘‘ مشمولہ تحقیق شناسی (مرتبہ رفاقت علی شاہد)، القمر انٹرپرائز، لاہور، ۲۰۰۳ء، ص ۴۳
۶۔ نذیر احمد، ’’تاریخی تحقیق کے بعض بنیادی مسایل‘‘ مشمولہ تحقیق شناسی، ص ۵۲
۷۔ عبدالستار دلوی، ادبی اور لسانی تحقیق: اصول اور طریق کار، بمبئی یونیورسٹی، ۱۹۸۴ء، ص ۱۳
۸۔ قاضی عبدالودود، ’’اصولِ تحقیق‘‘ مشمولہ تحقیق شناسی، ص ۷۷
۹۔ گیان چند، تحقیق کا فن، ص ۱۳
۱۰۔ قاضی عبدالودود، ’’اصول تحقیق‘‘، مشمولہ تحقیق شناسی ص ۷۷
۱۱۔ جمیل جالبی، ڈاکٹر، ادبی تحقیق، مجلس ترقی ادب، لاہور، ۱۹۹۴ء ص ۲۳
۱۲۔ ڈاکٹر غلام مصطفی خاں کے مطابق
’’۔۔۔ بلاشبہ (تحقیق) نامکمل ہے، مگر تعبیر و تشریح کے ساتھ نہ ہو یا باالفاظ دیگر، اگر اس کے ساتھ تنقید نہ ہو۔‘‘ (تحقیق کے بنیادی لوازم‘‘ مشمولہ (تحقیق شناسی، ص ۳۵)
ڈاکٹر جمیل جالبی کے نزدیک :
’’جدید رجحان یہ ہے کہ تنقید کی بنیاد تحقیق پر رکھی جاے تاکہ جو بات کہی جاے پہلے اس کی صحت ہو جاے ۔۔۔ اس رجحان کے زیرِ اثر تنقید و تحقیق ایک دوسرے سے نہ صرف قریب آ رہی ہیں بلکہ تحقیق، تنقید میں جذب ہو رہی ہے۔‘‘ (ادبی تحقیق، ص ۱۷)
خلیق انجم کے خیال میں :
’’اب تشریخ و تعبیر کی بات لیجیے۔ فرض کیجیے، میں نے یہ معلوم کر لیا ہے کہ میر کس سنہ میں پیدا ہوے، ان کے والد کا کیا نام تھا، ان کا پیشہ کیا تھا وغیرہ وغیرہ تو اس سے ادب کو کیا فائدہ ہوا؟ ہاں اگر حقایق کی مدد سے میں نے میرؔ کی روح اور ذہن تک پہنچنے کی کوشش کی ہے تو یہ مستحسن ہے اور یہی تحقیق کا اصل مقصد ہے، ورنہ محض حقایق جمع کرنے کا کام ایک ایسا معمولی صلاحیتوں کا شخص بھی کر سکتا ہے، جس نے لائبریری سائنس کی تربیت حاصل کی ہو۔‘‘ (’’ادبی تحقیق او حقایق‘‘ مشمولہ تحقیق شناسی، ص ۵۱)
۱۳۔ سیّد عبداللہ، ڈاکٹر، تحقیق و تنقید، مشمولہ تحقیق شناسی، ص ۱۰۵
۱۴۔ تبسم کاشمیری، ڈاکٹر، ادبی تحقیق کے اصول، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، ۱۹۹۲ء، ص ۸
۱۵۔ اس بات کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ ڈاکٹر غلام مصطفی خاں نے کیا ہے:
’’۔۔۔ کس حوالے سے ہم تحقیق کے بنیادی لوازم تلاش کرنا چاہتے ہیں؟ ادبی اور تاریخی تحقیق کے حوالے سے؟ سماجی تحقیق کے حوالے سے؟ تجزیاتی تحقیق کے حوالے سے؟ جدا جدا حوالوں کے ساتھ جدا جدا بنیادی لوازم یا یوں کہیے کہ تحقیق کا ’انفراسٹرکچر‘ بدلتا جاے گا۔‘‘
(’’تحقیق کے بنیادی لوازم‘‘، مشمولہ تحقیق شناسی، ص ۳۲۔۳۳)
۱۶۔ Martin Hollis کے اصل الفاظ یہ ہیں :
"Positivism is a term with many uses in social science and philosophy. At the broad end, it embraces any approach which applies scientific method to human affairs conceived as belonging to a natural order open to objective inquiry."
(The Philosophy of Social Science, Cambridge, 1999, p-41)
۱۷۔ یہ نکات زیادہ تر Jonathan Grix کی کتاب سے ماخوذ ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے:
The Foundations of Research, Palgrave Macmillan, New York, 2004, p 83-4
۱۸۔ تفصیلی مطالعے کے لیے رجوع کیجیے :
i) Habermas, J. Knowledge and Human Interest (J. Shapiro. Trans.), London, 1970
ii) McCarthy, Thomas, The Critical Theory of Jurgen Habermas, USA, Pobty Press, 1978


Back to Conversion Tool


Back to Home Page